کیا جاوید احمد غامدی انجینئر محمد علی مرزا کو گندی مکھی سمجھتے ہیں؟
ڈاکٹر اسرار احمد ڈنکے کی چوٹ پر کہا کرتے تھے کہ اسلام میں ملاں یا ملائیت کا کوئی ادارہ یا روایت ہی موجود نہیں ہے اس نظام کو جان بوجھ کر قائم کیا گیا ہے اور اس قسم کی روایت کو ضرورت مندوں نے مذہبی طاقت حاصل کرنے کے لیے خود تخلیق کیا ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہر مذہبی انسان کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ بذات خود اپنے مذہبی معاملات اپنی فہم و فراست کے مطابق حل کر سکے نہ کہ ہر معاملے میں مولویوں کی خدمات یا ان سے مشورہ کرتا پھرے۔
جب آپ دین یا اس سے جڑے ہوئے تقاضوں کو چند لوگوں کے سپرد کر کے اور پھر ضرورت کے وقت انہی لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر یہی حال ہو گا جو آج ہم درجنوں فرقوں کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ آج کا دور ڈیجیٹل فرقوں کا ہے جس میں ایک مولوی سکرین کے سامنے سابقہ فرقوں کو رد کرتا ہے اور خود کو تمام فرقوں سے مبرا کر کے اپنا ایک نیا فریم آف تھاٹ جدید فہم کے ساتھ جوڑنے کی سعی کرتا ہے حالانکہ مقدمہ وہی پرانا ہوتا ہے مگر موقف ذرا سا وارنش کر کے اپنا بنایا ہوتا ہے۔
روایتی فرقوں کی طرح آج کے ڈیجیٹل فرقوں کے درمیان کوئی زیادہ فرق نہیں ہے سوائے اوزاروں کے، ان کے پاس منبر یا اسٹیج تھا اور آج کے ڈیجیٹل مولویوں کے پاس جدید کیمرہ اور یوٹیوب کا پلیٹ فارم ہے جسے جدید ڈیجیٹل منبر بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ جو ایک دوسرے کے فرقوں کے خلاف کتابیں لکھی گئی ہیں یا ابھی بھی لکھی جا رہی ہیں وہ دراصل پروفیشنل حسد کی کارستانیاں ہیں جہاں روٹی روزگار ہو گا وہاں پیشہ ورانہ حسد بھی لازمی ہوگا کیونکہ یہ فطری رویہ ہے اور بہت ہی کم لوگ اتنے مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں جو خود کو پروفیشنل جیلسی سے محفوظ رکھ پائیں۔
یہ جیلسی مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتی ہے مگر کاریگروں میں یہ مہارت ہوتی ہے کہ وہ دوسروں پر اس کمزوری کو آشکار نہیں ہونے دیتے بلکہ تصنع یا چرب زبانی سے کام لیتے ہوئے خود کو مہان بزرگ تسلیم کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کی کچھ جھلکیاں آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مفتی طارق مسعود اور انجینئر محمد علی مرزا کے درمیان اپنے اپنے چینل پر ایک دوسرے کے خلاف کلپ بازیاں چلتی رہی جس کی وجہ سے لوگوں میں سنسنی پھیل گئی اور تجسس بڑھنے لگا کہ کیا دونوں کے درمیان مناظرہ ہو پائے گا؟
اس سنسنی نے لوگوں کے درمیان ان دونوں شخصیات کو دنوں میں مقبول بنا دیا اور دونوں کے چینل بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ ذرا غور کریں اس سنسنی اور شعبدہ بازی کا فائدہ کن کو ہوا، ظاہر ہے دونوں ہی اس چکر میں نوازے گئے۔ اس کے بعد دوسرا دور شروع ہوتا ہے جس میں مفتی طارق مسعود چپکے سے بغیر کوئی شور مچائے کتابوں کے پلندے کے ساتھ جہلم کے مشہور چوک میں جا دھمکے اور انجینئر صاحب کو مناظرے کا چیلنج دے ڈالا اور شہرت کے اس سٹنٹ کی ویڈیو ریکارڈ کروانے کے بعد فوری طور پر چینل پر اپ لوڈ بھی کر دی گئی تاکہ سند رہے۔
جب دونوں میں ٹاکرا ممکن نہ ہو پایا تو جیت اور مایوسی کے تاثرات کو اپنے چہرہ پر سجانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ایک اور ویڈیو بنوا کر اپلوڈ کر ڈالی۔ لگ بھگ اسی وقت یا تھوڑا آگے پیچھے انجینئر صاحب کی ملاقات جاوید غامدی کے داماد حسن الیاس اور معروف ایکٹر حمزہ علی عباسی کے ساتھ جاری تھی اور ملاقات کی تصاویر انجینئر صاحب کے چینل پر بھی اپلوڈ کی جا رہی تھیں۔ دونوں واقعات کو ایک ساتھ جوڑنے کا مقصد بٹوین دی لائن کچھ اہم پہلوؤں کو ڈی کوڈ کرنا ہے۔
ایک طرف مفتی صاحب اپنی للکار کی ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے تھے دوسری طرف انجینئر صاحب مفتی جی کو اگنور کر کے اپنی بیٹھک کی تصاویر حسن الیاس اور حمزہ عباسی کے ساتھ چینل پر اپ لوڈ کر رہے تھے تاکہ سند رہے اور لوگوں کو پتہ چلے کہ غامدی سکول آف تھاٹ کے اہم ترین بندے بھی انجینئر صاحب سے فیض حاصل کرنے آتے ہیں۔ باقی ان کلپ بازیوں کا خفیہ پیغام پیروکاروں کے ذہنوں تک خود ہی پہنچ جائے گا جسے عام فہم زبان میں یوں کہہ لیں کہ ”پیر نہیں اڑتے بلکہ مریدین اڑاتے ہیں“ ان واقعات کو تین تصاویر کی طرح ایک ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کریں کہ ان سرگرمیوں کا ڈائریکٹ فائدہ کن کو پہنچا؟ کس کا سٹنٹ زیادہ کامیاب تھا؟ کس کا چینل فاسٹ سرچنگ پر جا رہا تھا؟ ظاہر ہے تینوں سکول آف تھاٹ کو اپنے اپنے حساب سے فائدہ پہنچ رہا تھا۔ سر فہرست مفتی صاحب، سیکنڈ انجینئر صاحب اور تھرڈ غامدی صاحب۔ ان کے درمیان میں رہ جاتے ہیں بے چارے عوام جو بھولے بھالے ہوتے ہیں جو ان کے بیچ کنفیوز صارفین کی طرح منافع پہنچا رہے ہوتے ہیں۔
بھولے بھالے ہونے کا قصور وار انہیں نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ جن معاشروں میں ہر وقت روٹی کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لالے پڑے رہتے ہوں وہاں بہت کچھ دوسروں کے سہارے چھوڑنا مجبوری بن جاتا ہے اور اسی مجبوری کا ناجائز فائدہ ایسے لوگ اٹھانے لگتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح معاشرے کی سطح پر مقبولیت کا تاج اپنے سر پر سجانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اسی مجبوری میں مذہب بھی آتا ہے جو خیر سے ہمارے علماء کرام نے اتنا مشکل، پیچیدہ یا ناقابل فہم بنا دیا ہے جس کی باریکیوں کو سمجھنے کے چکر میں ایک عام آدمی پڑنا ہی نہیں چاہتا کیونکہ اس کی آدھی سے زیادہ زندگی معاشی حصول میں غارت ہو جاتی ہے اور کبھی غلطی سے دین فہمی کے لیے کچھ وقت نکال بھی لے تو اس کے پلے کچھ نہیں پڑتا اور وہ دلبرداشتہ ہو کر پھر سے روٹین میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اب حال ہی میں غامدی صاحب کے داماد حسن الیاس نے ایک نیا کٹا کھول دیا اور ایک ویڈیو کی صورت میں غامدی صاحب سے کسی کا نام لیے بغیر ایک بے تکا سا سوال جڑ دیا۔
” غامدی صاحب یہ فرمائیں کہ اس فقرے کا بڑا فیشن چل نکلا ہے جس میں یہ کہا جانے لگا ہے کہ کتابوں کا جہاں اور ہے اور بابوں کا جہاں اور ہے ہمیں بابوں کی بجائے کتابوں پر انحصار کرنا چاہیے آپ کی کیا رائے ہے کہ کس کا انتخاب کیا جائے بابوں کا یا کتابوں کا؟“ اب ظاہر ہے یہ جملے انجینئر صاحب کا سلوگن ہیں اور دونوں اسکول آف تھاٹ کے بڑے اس فقرے کی حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں اور کافی حد تک اتفاق بھی کرتے ہیں۔ اس قسم کا سوال کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟
ظاہر ہے اپنے اپنے سامعین کو مطمئن کرنا کہ ہم سیم پیج پر نہیں ہیں بلکہ ہمارے اختلافات واضح ہیں۔ اگر رولا نہیں ہو گا تو مزے کیسے آئیں گے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ حسن الیاس اور غامدی اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں کہ انجینئر جن بابوں کو رد کرتا ہے وہ کس قسم کے بابے ہیں اور جن بابوں کا احترام کرتا ہے ان کی رائے پر بھی سوال کیوں اٹھاتا ہے؟ اور تقریباً دونوں کا موقف بھی اس حوالہ سے ایک جیسا ہے۔ اس سوال کو ابتدائی تمہیدی پیراگراف جو ڈاکٹر اسرار کے متعلق تھا کی روشنی میں پڑھ کر جائزہ لینے کی کوشش کریں تو تصویر بالکل واضح ہو جائے گی۔
اختلاف کی روایت اچھی بات ہے مگر تھمب نیل کے چکروں میں ایک چوکس اور چنیدہ قسم کا عنوان بنانے کی کوشش کرنا اور چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے اس قسم کا سوال تخلیق کرنا جس میں میں آپ کا منچلا پن واضح ہو اور صاحب جواب بھی بخوبی جانتا یا سمجھتا ہو اس کے باوجود سنسنی پیدا کرنے کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ مقصد واضح ہے سامعین کو کنفیوز کیے رکھنا۔ اس سوال کے جواب میں غامدی صاحب کا فرمانا تھا۔ کتابیں آسمان سے براہ راست نازل نہیں ہوتیں بلکہ اس کا ذریعہ لوگ بنتے ہیں ہم ان سے بے نیاز کیسے رہ سکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے اس رویہ کی وجہ سے ایک اس طرح کے انسان بن کر رہ جائیں جیسا کہ غلاظت کی مکھی ہوتی ہے جو ہمیشہ غلاظت پر بیٹھتی ہے۔ انسان کو شہد کی مکھی بننا چاہیے جو مختلف پھولوں پر بیٹھ کر ان کا رس چوستی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہمیں اسلاف کی باتوں سے مستفید ہونا چاہیے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جواب بالکل درست ہے اور اسی قسم کا علمی رویہ ہونا چاہیے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انجینئر کا موقف اس سے مختلف ہے؟
بالکل نہیں بلکہ وہ بھی وہی بات کرتے ہیں جس کا اظہار غامدی نے کیا ہے پس ان کا انداز مختلف ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواہ مخواہ کی کنفیوژن پیدا کر کے اس قسم کا ماحول بنانے کے پیچھے وجہ یہ مقاصد کیا ہوسکتے ہیں؟ اسی مقام پر عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں ذرا سی محنت کر کے ڈاٹ سے ڈاٹ ملا کر نتائج تک پہنچا جا سکتا ہے۔ کیا یہ پروفیشنل جیلسی سے زیادہ چینل جیلسی کا چکر تو نہیں ہے؟ میری نظر میں یہ سارا مادیت کا چکر ہے اور زندگی کو بہتر یا پرسکون بنانے کے لیے پیسہ بنانا کوئی بری بات بھی نہیں ہے مگر حقیقت کو پس پشت ڈال کر ایسا دکھاوا کرنا کہ جیسے آپ اس حقیقت سے بے نیاز ہو گئے ہیں تو اسی رویے کو تصنع یا بناوٹ کہاں جا آتا ہے۔
جب کہ کڑوی حقیقت یہی ہے کہ شہرت حاصل کرنے کا نشہ بھی مادیت کے زمرے میں آتا ہے البتہ ایک بات کا کریڈٹ ضرور مرزا انجینئر کو جاتا ہے کہ وہ اپنے چینل سے مالی فوائد حاصل نہیں کرتا سوائے شہرت کے۔ کیونکہ انہوں نے سیکسی اشتہارات کا آپشن آف کیا ہوا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مفتی صاحب اور غامدی صاحب اس سہولت سے استفادہ کر رہے ہیں۔



خوبصورت تجزیہ۔ بہت شکریہ
بہت اچھے ۔شکریا