آر۔ جے ماہین کی کہانی


مسرت تسلیم (ماہین) کا تعلق لاہور سے ہے۔ پولیو کا شکار ہیں۔ عالمہ ہیں۔ ایم۔ اے اسلامیات ہیں۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر اور فیشن ڈیزائننگ کے متعدد کورس بھی کیے ہیں۔ جامعہ نعیمیہ کی برانچ میں بارہ سال تک بطور ناظم اعلٰی رہیں۔ امریکن لائزٹف سکول میں پانچ سال آرٹ اینڈ کرافٹ کی ہیڈ رہیں۔ جبکہ آج کل لاکاس سکول میں بطور استاد قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر پڑھاتی ہیں۔ ماہین برطانیہ کے چینل گڈ مارننگ مانچیسٹر پر مارننگ شوز کی میزبانی کرتی رہی ہیں۔ آج کل برطانیہ کے ریڈیو چینل یو۔ کے چرس پر آر۔ جے ماہین کے نام سے پروگرام کر رہی ہیں۔

والد صاحب پاک فوج کے ای۔ ایم۔ ای ڈیپارٹمنٹ میں بطور انجینئر فرائض سرانجام دیتے رہے۔ چار ماہ قبل خالق حقیقی سے جا ملے۔ خاندان ایک بہن اور تین بھائیوں پر مشتمل ہے۔ ایک بھائی انجینئر اور باقی دو اپنا کاروبار کرتے ہیں۔

دو سال کی عمر میں مسرت کھیلتے کھیلتے بیڈ پر آ کر لیٹتی ہیں تو والدہ صاحبہ پنکھا چلا دیتی ہیں۔ اس کے بعد ایک پاؤں کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ ہوا لگ گئی ہے۔ ڈاکٹر کو دکھانے پر پتہ چلتا ہے کہ پولیو حملہ آور ہوا ہے۔ علاج معالجے کے بعد ٹانگ پر ہاتھ رکھ کر چلنے کے قابل ہو گئیں۔ ماہین ایک ہاتھ ٹانگ پر رکھ کر چلا کرتی تھیں۔ ہاتھ ٹانگ پر رکھنے کا یہ نقصان ہوا کہ کھال ایک جگہ جمع ہو جاتی۔ ماہین اسے قینچی سے کاٹا کرتیں اور اللہ تعالٰی سے دعا کرتیں کہ انھیں سیدھا کر دے۔ ماہین میٹرک میں تھیں جب والد صاحب کے دوست ڈاکٹر خالق چھوٹے بھائی کو چیک کرنے گھر آئے۔ تو ماہین کو دیکھتے ہی مشورہ دیا کہ انھیں میو ہاسپٹل میں چیک کروایا جائے۔ ماہین آپریشن کے نتیجے میں سیدھا چلنے کے قابل ہو سکتی ہیں۔

والدہ صاحبہ کو پریشانی لاحق تھی کہ کہیں آپریشن کے نتیجے میں ماہین جتنا چل لیتی ہیں اس سے بھی محروم نہ ہو جائیں۔ میو ہاسپٹل میں ماہین کے تین آپریشن ہوئے۔ پہلی بار چھبیس دن ہسپتال میں رہیں۔ چھ ماہ پلستر رہا اس کے بعد بریسزز لگا دیے گئے۔ پھر وقفے وقفے سے پلستر تبدیل ہوتے رہے۔ آٹھ سال تک ماہین بریسزز کے سہارے چلتی رہیں۔ مشکلات کے باوجود ماہین نے تعلیمی سفر جاری رکھا۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج سنگ پورہ میں داخلہ لے لیا۔

بھاری بریسز کے سہارے کالج جاتیں۔ پیدل چلنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس مرحلے پر گھر والوں نے بھر پور ساتھ دیا۔ والدہ صاحبہ ماہین پر خوب سختی کرتیں۔ کبھی فارغ نہ رہنے دیتیں۔ ماہین کبھی کبھار والدہ کی سختی سے تنگ آ جاتیں۔ خیر گھر والوں کی سپورٹ سے ماہین اچھے نمبروں سے ایف۔ اے کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ایف۔ اے کے بعد ماہین نے جامعہ نعیمیہ سراجیہ مغل پورہ میں داخلہ لے لیا۔ درس نظامی کے ساتھ ماہین فارغ اوقات میں بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتیں۔ والدہ صاحبہ ماہین کو کسی مقام پر دیکھنا چاہتی تھیں۔ اس لیے پڑھائی کے حوالے سے ان کا رویہ ہمیشہ سخت ہی رہا۔

درس نظامی کے دوران ماہین کے رشتے آنا شروع ہو گئے۔ والدہ کے خاندان میں شادی ہوئی۔ ماہین کے مرحوم شوہر ٹرانسپورٹ کا کام کرتے تھے۔ شوہر ماہین کی قابلیت سے بہت متاثر تھے۔ شادی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی۔ اے اور پھر ایم۔ اے اسلامیات کیا۔

اللہ تعالٰی نے ماہین کو تین بیٹیوں کی نعمت سے نوازا ہے۔ بڑی بیٹی ماہ نور فاطمہ نے ایم۔ اے تک تعلیم حاصل کی ہے، دوسری بیٹی رباب فاطمہ نویں جبکہ تیسری بیٹی عریبہ فاطمہ ساتویں جماعت کی طالبہ ہے۔

شوہر کے ساتھ زندگی نے وفا نہیں کی۔ شادی کے سات سال بعد ماہین کے شوہر خالق حقیقی سے جا ملے۔ شوہر کی وفات نے ماہین کو توڑ کر رکھ دیا۔ ہر طرف مایوسی اور اندھیرے کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ خدا کے کلام اور بچیوں کے پیار نے ماہین کو ایسا حوصلہ دیا کہ پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ والدین کے قریب گھر لے لیا۔ اپنی محنت اور گھر والوں کے تعاون سے زندگی کو آگے بڑھانا شروع کر دیا۔

زندگی کے مشکل ترین دور میں بھی سیکھنے کے عمل کو رکنے نہ دیا۔ ٹیکسٹائل اینڈ فیشن ڈیزائننگ میں تین سالہ کورس کیا۔ کمپیوٹر کے متعدد کورس کیے۔ نوکریاں کیں ٹیوشنز پڑھائیں۔ بارہ سال جامعہ نعیمیہ کی برانچ میں ناظم اعلٰی کے طور پر فرائض سر انجام دیتی رہیں۔ ماہین کی سربراہی میں بے شمار بچوں کو عالم بنے کا موقع ملا۔ امریکن لائزٹف سکول میں آرٹ اینڈ کرافٹ کی پروفیشنل ہیڈ رہیں۔

تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ماہین شاعری اور پینٹنگ میں بھی گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ شاعری سے بچپن ہی سے لگاؤ ہے۔ نعتیں اور حمد لکھتی ہیں اور خوبصورت انداز میں پڑھتی بھی ہیں۔ شاعری کے متعدد مقابلوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرچکی ہیں۔ آر۔ جے ماہین کے نام سے یوٹیوب چینل چلا رہی ہیں۔ ماہین آرٹ اینڈ کرافٹ کے نام سے فیس بک پیج چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ موٹیویشنل سپیکر اور مبلغہ کے طور پر دورہ قرآن کرواتیں ہیں۔ آج کل لاکاس سکول میں قرآن پاک کے ترجمہ اور تفسیر کی استاد کے طور پر فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ ماہین کو رنگوں سے بہت پیار ہے۔ قدرتی مناظر کی منظر کشی پسند کرتی ہیں۔ آرٹ کے مختلف مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں۔ آرٹ کے حوالے سے بہت سی ایگزیبیشنز کروا چکی ہیں۔

سرکاری نوکری کے حصول کے لئے بہت کوششیں کر چکی ہیں۔ ماہین کہتی ہیں کہ سرکاری نوکری کیسے ملتی ہے اور کن کو ملتی ہیں سمجھ سے قاصر ہیں۔ ماہین کہتی ہیں اللہ تعالٰی نے ہر انسان کو تخلیقی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ اپنے اندر کی چھپی صلاحیتوں کو تلاش کرنا مشکل کام ہے۔ جو لوگ اپنے ٹیلنٹ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ آرٹسٹ کہلاتے ہیں۔

Facebook Comments HS