وہ خواتین جن کی داڑھی آتی ہے: ’بوائے فرینڈ کو فکر تھی کہ اس کے دوست مجھے خواجہ سرا سمجھیں گے‘


Ana Dino y Luta Cruz

@riofotografx y @sambacanuta
اینا اور لوتا

وہ خود کو داڑھی والی خواتین کہلواتی ہیں اور اب ان میں سے کچھ نے اپنے چہرے کے بال چھپانے چھوڑ کر اپنے تجربات کے بارے میں بات کرنی شروع کی ہے۔

یہ خواتین سوشل نیٹ ورکس پر فعال ہیں اور اُنھوں نے اس موضوع پر بات کرنے کے لیے گروپس تک بنا رکھے ہیں۔

بی بی سی کی ہسپانوی سروس نے ایسی دو خواتین سے بات کی ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ خود کو داڑھی کے ساتھ قبول کرنے کا مرحلہ کیسا رہا۔

یہ ان کی کہانیاں ہیں۔

چلی میں ایک افریقی نژاد لڑکی اور اب اس کے چہرے پر بال بھی تھے

میرا نام لوتا کروز ہے۔ میں چلی میں پیدا ہوئی۔ میں ایک افریقی نژاد خاتون ہوں۔ میں گانے لکھتی ہوں، گاتی ہوں، اور میں بالوں سے بھری ہوئی ہوں۔ میری انگلیوں تک پر بال نکلتے ہیں۔

مجھے اپنے بالوں کا پہلی بار علم تب ہوا جب میری قلمیں بڑھنے لگیں۔ جب میں 11 سال تک کی تھی تو یہ بہت تیزی سے بڑی ہونے لگیں۔

میری والدہ مجھے ویکسنگ کروانے اپنی ایک دوست کے گھر لے گئیں۔

مجھے لگتا ہے کہ وہ میری حفاظت کرنا چاہتی تھیں کیونکہ میں ویسے ہی الگ تھلگ رہتی تھی، یعنی چلی میں ایک افریقی نژاد لڑکی اور اب اس کے چہرے پر بال بھی تھے۔

’مجھے ایک لڑکے نے کہا کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے لیکن میرے چہرے پر بہت بال ہیں‘

میرا نام اینا ہے۔ میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والی ایک عورت، خاکہ نگار اور ویژوئل آرٹسٹ ہوں۔ میری داڑھی بھی ہے۔

Ana Dino

@riofotografx
اینا

جب میں 13 سال تک کی تھی تب تک میں نے اپنی داڑھی پر کبھی غور نہیں کیا تھا مگر پھر مجھے ایک لڑکے نے کہا کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے لیکن میرے چہرے پر بہت بال ہیں۔

میں نے ہائی سکول تک اس پر توجہ نہیں دی جب میرے بال زیادہ سے زیادہ نظر آنے لگے۔ اس وقت لوگوں نے میری طرف انگلیاں اٹھانی شروع کر دیں۔

مجھے ان بالوں سے بہت مسئلہ ہونے لگے تھے چنانچہ میں نے شیو کرنے کی ٹھان لی۔

میں ہر روز ٹویزرز سے بال کھینچتی اور پھر ایک استرا استعمال کرتی مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ میں کسی تل کو بال سمجھ کر اس پر بلیڈ چلا دیتی۔ پھر مجھے اس پر برف لگانی پڑتی اور اسے چھپانے کے لیے میک اپ بھی کرنا پڑتا۔

’لیزر کے ذریعے علاج سے مجھ میں بہت سی الرجیز بھی پیدا ہو گئیں‘

لوتا بتاتی ہیں کہ میں نے میری والدہ نے مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ہم لوگ کوشش کر کے لیزر کے ذریعے علاج کے پیسے جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ علاج چھ ماہ تک جاری رہا جس میں میرے ہر مسام میں ایک باریک شعاع کے ذریعے جڑیں جلائی جاتیں اور پھر بال کو ٹویزرز کے ذریعے نکال دیا جاتا۔

یہ بہت خوفناک تھا۔ آخر میں میرا چہرہ سوج گیا اور سرخ پڑ گیا۔ اس سے مجھ میں بہت سی الرجیز بھی پیدا ہو گئیں۔

لیزر علاج نے بالوں کو کچھ حد تک کم تو کیا مگر بال پھر بھی اپنی جگہ موجود تھے۔

میں نے استرے کا استعمال کیا مگر اس سے بھی بات نہیں بنی۔ مجھے اس سے الجھن ہوتی تھی اور کچھ ہی دن میں دوبارہ بال نظر آنے لگتے۔ نتیجتاً مجھے ویکس اور ٹویزرز کا استعمال کرنا پڑتا۔

میں ہر ہفتے اپنے پورے جسم کی ویکسنگ کرتی اور اپنے چہرے پر ہر دوسرے دن۔

Ana Dino

@rougehairwitch
اینا

’میں نے کسی کو اپنی داڑھی اور ویکسنگ کے متعلق نہیں بتایا‘

اینا کہتی ہیں کہ میں جب بھی اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جاتی تو ایک پوری کِٹ اپنے ساتھ چھپا کر لے کر جاتی جس میں ایک لیمپ، آئینہ، ٹویزرز، ویکس اور میک اپ شامل ہوتا۔

میں نے کسی کو اپنی داڑھی اور ویکسنگ کے متعلق نہیں بتایا۔ میں کئی برس تک شرمندگی کے ساتھ جیتی رہی اور اسے چھپانے کی کوشش کرتی رہی۔

لوتا کہتی ہیں کہ جب میں 13 برس کی تھی تو میں پہلی مرتبہ اس حوالے سے ڈاکٹر کے پاس گئی۔ وہ ایک گائیناکولوجسٹ تھے اور اُنھوں نے مجھ میں پولی سسٹک اووریز سنڈروم (پی کوس) کی تشخیص کی اور بتایا کہ اس کے باعث مجھ پر زیادہ بال نکلتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ مجھے ہرسوٹیزم نامی عارضہ ہے اور مجھے تاحیات مانعِ حمل ادویات تجویز کر دیں۔

ہرسوٹیزم

یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خواتین کو متاثر کرتی ہے اور چہرے، سینے اور کمر پر مردوں جیسے سیاہ اور موٹے بالوں کی اضافی نشونما کا سبب بنتی ہے۔

بالوں کا یوں بڑھنا متعدد مراحل پر مبنی ہوتا ہے۔

ایک مرحلہ ایناگن کا ہے جس میں بال تیزی سے بڑھتے ہیں اور ان کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے۔

انٹرنل میڈیسن اور اینڈوکرائنولوجی کی ماہر ڈاکٹر ویویانا فیلیزولا کہتی ہیں کہ ‘اگر یہ مرحلہ طویل ہو جائے تو ہم اسے ہائپرٹرائیکوسس یا ہرسوٹیزم کہتے ہیں۔’

ڈاکٹر ویویانا کہتی ہیں کہ اس کی دو بنیادی وجوہات ہوتی ہیں: پہلا یہ کہ مردانہ ہارمونز مثلاً ٹیسٹوسٹیرون کی زیادہ پیداوار اور ان ہارمونز کے لیے جلد کی حساسیت میں اضافہ۔’

مگر وہ کہتی ہیں کہ نظامِ ہاضمہ کے مسائل سے بھی اس کا تعلق ہو سکتا ہے اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہونے والا ہرسوٹیزم بھی کُل متاثرین میں سے پانچ فیصد متاثرین کو ہوتا ہے۔

پچیس برس کی ہوئی تو مستقل حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا، میں تھک چکی تھی‘

لوتا کہتی ہیں کہ دس برس تک میں مانعِ حمل ادویات استعمال کرتی مگر بال جوں کے توں رہے۔

جب میں 25 برس کی ہو گئی تو میں نے ایک مستقل حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں تھک چکی تھی۔ ڈاکٹروں کے پاس جا جا کر آخر میں ایک اینڈوکرائنولوجسٹ کے پاس پہنچی۔

اُنھوں نے متعدد ٹیسٹ کیے اور مجھے بتایا کہ 13 برس کی عمر میں مجھے کی گئی تشخیص درست نہیں تھی اور مجھے پولی سسٹک اووریز سنڈروم نہیں تھا۔

میں وہ دوائیں کھاتی رہی جن کی مجھے ضرورت نہیں تھی۔ اُنھوں نے مجھے بتایا کہ مجھے کنجینیٹل ایڈرینل ہائپرپلاسیا (سی اے ایچ) ہے۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے سوچا: ’اوہ خدایا، یہ کیا ہے۔ میں مر جاؤں گی۔ اس بیماری کا نام ہی کتنا لمبا ہے۔‘

اُنھوں نے متعدد ٹیسٹ کیے مگر بالآخر پایا گیا کہ میں صحت مند ہوں۔

Luta Cruz

@valeskarruefotografa
لوتا کے مطابق چہرے پر بالوں کا ہونا میرے پارٹنر کے لیے بھی بہت دشوار تھا

کنجینیٹل ایڈرینل ہائپرپلاسیا کیا ہے؟

یہ ایک جینیاتی عارضہ ہے جو ایڈرینل غدود کو متاثر کرتا ہے۔ یہ گردوں کے عین اوپر موجود اخروٹ جتنے غدود ہوتے ہیں جو نظامِ ہاضمہ، مدافعتی نظام، فشارِ خون اور دیگر اہم معمولاتِ زندگی کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز پیدا کرتے ہیں۔

ان میں ٹیسٹوسٹیرونز جیسے مردانہ ہارمونز بھی شامل ہیں۔

اینا کہتی ہیں کہ جب میں 26 برس کی ہوئی تو گلوکار اودیمارا کوئستا کے کنسرٹ میں گئی۔ اُن کی بھی میرے جیسی داڑھی ہے اور کنسرٹ میں اُنھوں نے جو گانا گایا وہ ایسا تھا کہ ‘اگر عورت ہونے کا مطلب اپنی داڑھی صاف کرنا ہے تو میں عورت نہیں ہوں۔ اور اگر مرد ہونے کا مطلب داڑھی ہونا ہے، تو میں مرد نہیں ہوں۔’

میں اس کنسرٹ کے دوران ہی رونے لگی کیونکہ یہ بہت متاثر کُن تھا۔ اس سے قبل تک مجھے اس حوالے سے صرف شرمندگی اور تذلیل کا ہی سامنا کرنا پڑا تھا۔

مگر اس دن میں نے پہلی مرتبہ ایک عوامی جگہ پر ایک بااختیار خاتون کو ایسے دیکھا اور پھر میں نے سوچا کہ میں بھی اسے اپنا ہی لیتی ہوں۔

لوتا کے مطابق چہرے پر بالوں کا ہونا میرے پارٹنر کے لیے بھی بہت دشوار تھا۔ میرے بوائے فرینڈ کو فکر تھی کہ اس کے دوست مجھے خواجہ سرا سمجھیں گے۔

میں ہمیشہ اُنھیں اپنے چہرے کو چھونے سے منع کرتی کیونکہ مجھے خوف تھا کہ وہ میرے بالوں کو محسوس نہ کریں۔

اس سے میں اپنی شخصیت سے دور ہونے لگی، خود اعتمادی میں کمی پیدا ہوئی، اور میں خود کو سمجھ پانے میں دشواری محسوس کرنے لگی۔

میں تھک چکی تھی اور میں نے اپنے گرد موجود لوگوں سے اس بارے میں بات کرنی شروع کر دی۔ یہ خود کو اس حوالے سے مضبوط بنانے کی جانب پہلا قدم تھا۔

Ana Dino

@riofotografx
اینا

اینا کہتی ہیں کہ جب سنہ 2017 میں میکسیکو میں زلزلہ آیا تھا تو اس دن تک میں کئی دن تک گھر سے نہیں نکلی تھی کیونکہ میں ایک ویڈیو ایڈیٹ کر رہی تھی اور میں نے شیو نہیں کر رکھی تھی۔

اس دن ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی اور میرے گھر کے گرد کی کئی عمارتیں ڈھے گئی تھیں۔

یہ بربادی دیکھ کر میرے اندر وسعتِ نظر پیدا ہوئی اور میں نے یہ سمجھ لیا کہ میں اسے چھپا کر مزید نہیں جی سکتی۔ چنانچہ میں نے اپنی داڑھی بڑھانی شروع کر دی۔

یہ اتنا آسان نہیں تھا مگر میں خود کو دیکھ کر بہت حیران تھی۔ جس چیز نے میری بہت مدد کی وہ اسے رنگنا تھا۔

کئی برس تک میں نے اپنی داڑھی گلابی رنگ کی رکھی اور اس سے میں مزید پریشان ہی ہوئی کیونکہ لوگ مجھے دیکھتے اور کہتے کہ ‘اوہ، نہ صرف اس کی داڑھی ہے بلکہ اسے تو یہ پسند بھی ہے۔’

لوتا کہتی ہیں کہ جب کووڈ 19 کی عالمی وبا پھیلی تو میں بھی لاک ڈاؤن میں تھی۔ سو میں نے ویکسنگ کرنی چھوڑ دی کیونکہ میں نے کہاں کسی سے ملنا تھا۔

ایک ہفتے بعد جب میری داڑھی آ گئی تو میں نے اس سے پہلے کبھی اسے اتنا مکمل نہیں دیکھا تھا اور پھر یہ مجھے پریشان کُن نہیں لگی۔ میں یہ سمجھ گئی کہ بالوں کو اسی طرح رہنے دینے سے میری زندگی بہتر ہوئی۔ میں نے اپنے جسم کو ان بالوں کے ساتھ قبول کر لیا۔

فیصلہ کُن وقت وہ تھا جب میں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ریکارڈ کر کے ڈالی۔ میں بہت ڈری ہوئی تھی مگر پھر بھی میں نے ایسا کیا۔

کئی لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھی اور طرح طرح کے تبصرے آئے۔ کسی نے کہا کہ میں اپنا خیال نہیں رکھتی، کسی نے پوچھا کہ میں ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتی۔ کسی نے پوچھا کہ کیا میں بیمار ہوں اور یہاں تک کہ کیا میں ٹرانس ہوں۔

مگر ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے میری حمایت کی۔ میں طرح طرح کے جذبات سے گزری۔ پہلے مجھے خوف ہوا، پھر دکھ، پھر غصہ آیا۔ مجھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ لوگ اس قدر کیوں سوچتے ہیں۔

مگر پھر میں نے اسے مثبت انداز میں دیکھنا شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ میرے بارے میں رائے قائم کرنے والے لوگ وہ ہیں جو مجھے جانتے نہیں ہیں۔

تب سے میں نے یہ دکھایا ہے کہ داڑھی والی خواتین کے صرف زیادہ بال نہیں ہوتے بلکہ ان میں زیادہ ہمت بھی ہوتی ہے، کیونکہ ہم پوری زندگی لوگوں کو ہمارے جسم کے بارے میں رائے دیتے ہوئے سنتی ہیں اور ڈاکٹر ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم بیمار ہیں، صرف اس لیے کیونکہ ہم دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔

دواؤں سے کیا مدد مل سکتی ہے؟

ڈاکٹر فیلیوزولا کہتی ہیں کہ ‘اضافی بالوں کے علاج میں ایک مشکل اس کا تعلق اُن ہارمونز سے ہونا ہے جن کی پیمائش نہیں کی جا سکتی، مثلاً ڈائی ہائیڈروٹیسٹوسٹیرون اور جلد کی مردانہ ہارمونز کے لیے حساسیت، اسے بھی ماپا نہیں جا سکتا۔

ہرسوٹیزم کی شکار خواتین کو اکثر اوقات ایسی ادویات تجویز کی جاتی ہیں جو مرادنہ ہارمونز کی مقدار کم کر دیتی ہیں۔

مگر یہ مستقل حل نہیں ہے کیونکہ جلد میں مردانہ ہارمونز کے لیے حساسیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس کے منفی اثرات سے نمٹنا بے حد مشکل ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ آپ کو دواؤں کے منفی اثرات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فیلیوزولا کہتی ہیں کہ مانعِ حمل ادویات شہوت میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔’

اینا: سب سے زیادہ صدمہ انگیز وقت وہ تھا جب مجھے بے تحاشہ الٹیاں ہونے لگیں۔ مجھے ایک بہت اچھے سرکاری ہسپتال میں داخل کروایا گیا مگر جیسے ہی اُنھوں نے مجھے دیکھا تو اُنھوں نے سوچا کہ میری داڑھی میری بیماری ہے اور اس کی وجہ سے مجھے یہ علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔

مجھے اینڈوکرائنولوجسٹ کے پاس بھیج دیا گیا اور مجھے کئی ٹیسٹ کروانے پڑے مگر کسی نے بھی ٹھوس نتائج نہیں دکھائے۔ اس وقت مجھے کنجینیٹل ایڈرینل ہائپرپلاسیا کی تشخیص کی گئی۔

عالمی وبا نے سب کچھ برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ میرا پیٹ خراب رہنے لگا۔ میں بہت کمزور پڑ گئی، جیسے کہ غذائی قلت کی شکار ہوں۔ مجھے لگا کہ میں مر جاؤں گی۔ اس کے بعد کسی نے میری کہانی سوشل میڈیا پر ڈال دی۔

مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کتنے لوگوں نے مجھ سے اظہارِ یکجہتی کیا اور ان میں سے کئی لوگوں نے مجھے پیسے بھی عطیہ کیے تاکہ میں نجی ہسپتال سے علاج کروا سکوں۔

پھر بالآخر دو سال بعد مجھے آنتوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر سے ملنے کا موقع ملا۔ اُنھوں نے مجھے سائیکلک وومیٹنگ سنڈروم تشخیص کیا، دوائی دی اور میں واپس جینے لگی۔

مجھے لگا کہ اگر مجھے پہلی بار دیکھنے والے ڈاکٹروں نے میری داڑھی پر اتنی زیادہ توجہ نہ دی ہوتی تو وہ یقینی طور پر وقت پر میری تشخیص کر پاتے۔

مجھے لگا کہ مجھے تفریق کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

’لڑکیوں سے یہی کہوں گی کہ آپ کی داڑھی آپ کی بیماری نہیں‘

لوتا کہتی ہیں کہ مجھے لگا تھا کہ جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو مجھے ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا، مگر اس میں صرف اضافہ ہی ہوا۔

اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ آپ کو بدصورت کہیں، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کہیں کہ آپ پرکشش نہیں، یا وہ جو بھی کہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سب سے مشکل وقت وہ ہوتا ہے جب آپ کو مرد کہا جاتا ہے۔

یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وہ آپ کو آ کر آپ کے بارے میں بتاتے ہیں حالانکہ آپ کو اپنے بارے میں پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔

وہ بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے جب وہ آپ کی صنف پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

اینا کہتی ہیں کہ یہ اتفاقی امر نہیں کہ وہ خواتین اپنی داڑھی کی نمائش کر رہی ہیں جو آرٹس کے شعبے میں ہیں۔ پر اگر آپ کسی دفتر جائیں اور وہاں سکرٹ پہنیں تو آپ کی ٹانگوں پر بالکل بھی بال نہیں ہونے چاہییں۔ ایسا کسی قانون میں تو نہیں لکھا پر یہ سماجی پابندی ضرور ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی داڑھی کے سبب وکیل یا بینکار نہیں بن سکتی تھی۔ مجھے اس کی اجازت ہی نہیں دی جاتی۔ خواتین کے لیے جسمانی بالوں کو ختم کرنا ان کا ذاتی انتخاب نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے کیونکہ ہمارے جسمانی بالوں کی وجہ سے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

لوتا کے مطابق وہ 13 سالہ لڑکیاں جن کے اضافی بال اور داڑھیاں نکل رہی ہیں، میں ان سے کہوں گی کہ سب سے اہم یہ بات ہے کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔

بال کہیں نہیں جائیں گے، اس لیے یہ سمجھ لینا بہت اہم ہے کہ لوگ ہمیشہ آپ کو نہیں سمجھیں گے۔ لوگ نہیں سمجھیں گے کہ داڑھی والی اور بالوں والی خواتین کیسی اور کیا ہوتی ہیں۔

اور مجھے لگتا ہے کہ ہمارا ایک چھوٹا سا مشن یہ ہونا چاہیے کہ ہم خود کو نمایاں کریں۔

اینا کے مطابق میں نوجوان لڑکیوں سے کہوں گی کہ مسئلہ آپ کے ساتھ نہیں، معاشرے کے ساتھ ہے۔ اور اگر کسی شخص کو یہ پسند نہیں تو یہ اس شخص کا مسئلہ ہے۔

آپ کی داڑھی آپ کی بیماری نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24794 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments