ہوس ناک


بس رکی تو اترنے والا وہ اکیلا مسافر تھا۔ بس ہارن بجاتی روانہ ہو چکی تھی اور وہ گاؤں کی طرف جاتی نیم پختہ سڑک پر کھڑا تھا۔ قدم بڑھانے سے پہلے اس نے چاروں طرف دیکھا۔ تا حد نظر لہلہاتی فصلیں اور نیلا آسمان ویسے کے ویسے تھے جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ اکا دکا لوگ گاؤں کے سٹاپ پر موجود تھے لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر وہ چل پڑا۔ دور کہیں سے ٹیوب ویل چلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

گاؤں بمشکل ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ گاؤں کے آثار دکھائی دیے تو اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔ گاؤں کے آغاز پر جو چھوٹا سا بازار ہو کرتا تھا آج بھی اس میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس کے آس پاس سے کئی لوگ گزرے تھے مگر اسے کسی نے نہیں پہچانا تھا۔ وہ اب بلو حجام کی دکان کے سامنے کھڑا تھا۔ غیر ارادی طور پر وہ اندر چلا گیا۔ آئینے میں دیکھا تو اسے پینتالیس برس کے لگ بھگ ایک شخص کا چہرہ نظر آیا۔ جس کی داڑھی آدھی سے زیادہ سفید ہو چکی تھی۔ سر کے بال تقریباً اڑ چکے تھے۔ جسم بھاری تھا۔ وہ اس شخص کا موازنہ چھریرے بدن کے اس نوجوان سے کرنے لگا جس کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی۔ فقط گھنی مونچھیں تھیں اور سر کالے بالوں سے بھرا تھا۔

”بال کٹواؤ گے چاچا یا خط بنوانا ہے؟“ شیو بناتے ہوئے نوجوان نے اسے مخاطب کیا۔

”دونوں“ اس نے غور سے نوجوان کی طرف دیکھا۔ اسے ایسا لگا جیسا بلو پھر سے جوان ہو گیا ہو۔ اس نے جب بلو کو آخری بار اسی دکان پر دیکھا تھا تو کٹنگ کرتے ہوئے اس کے بوڑھے ہاتھ کانپتے تھے اور اس کے ساتھ اس کا چودہ پندرہ برس کا لڑکا نکا ہوتا تھا۔ ”اوہ تو یہ نکا ہے“ اس نے سوچا۔

”میں فارغ ہو گیا ہوں چاچا“ باربر نے گویا اطلاع دی۔ وہ سر ہلاتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔
”آپ نئے آئے ہو پہلے آپ کو اس پنڈ میں نہیں دیکھا“ نکا پوچھنے لگا۔
”پتر بڑی دیر بعد آیا ہوں۔ تمہارا باپ بلو مجھے جانتا ہے“
”بابا کو مرے تو بارہ سال ہو گئے چاچا“ وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔
”آہ۔ بڑا چنگا بندہ تھا۔“ اس کے منہ سے نکلا۔
”بس جی، اللہ کی مرضی“ نکے کے ہاتھ چل رہے تھے۔

”آپ بتائیں جی آپ کا نام کیا ہے؟“
”میں اچھو ہوں“ اس نے دھیرے سے کہا۔
”اچھا۔ ہمارے پنڈ میں بھی ایک اچھو ہوتا تھا۔ شاداں کا خاوند۔“ نکے نے کہا۔
”تو کیا ہوا اسے؟“
”پتہ نہیں چاچا۔ سنا ہے مر گیا تھا۔“

اچھو چپ رہا۔ نکا بولتا رہا یہاں تک کہ اس کی کٹنگ کا کام مکمل ہو گیا۔ وہ پیسے دے کر باہر نکلا اور آگے بڑھ گیا۔ مختلف گلیوں سے گزرتے ہوئے وہ ایک مکان کے سامنے پہنچا تو اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ چودہ برس بعد وہ اس دہلیز پر آیا تھا۔ باہر سے مکان کی حالت خراب تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے برسوں سے اس کی مرمت اور رنگ و روغن نہیں کرایا گیا۔ اس نے دروازے پر دستک دی۔ چند لمحے گزر گئے کوئی آہٹ سنائی نہ دی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے صدیاں گزر گئی ہوں۔ اس بار اس نے بے چین ہو کر ذرا زور سے دستک دی۔ کسی نے دروازہ کھول دیا۔ اس کے سامنے ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی۔ تیکھے نقوش اور خوبصورت چہرے والی جیسے شاداں کی جوانی ہو۔ لڑکی خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

”کون آیا ہے چھمی؟“ دور سے اس کی ماں کی آواز سنائی دی۔
”پتا نہیں اماں؟ کوئی آدمی ہے“ چھمی نے زور سے کہا۔

شاداں بڑبڑاتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی پھر اچھو کو دیکھ کر ایک جھٹکے سے رک گئی۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اچھو کو دیکھ رہی تھی۔ چھمی کبھی اپنی ماں کی طرف اور کبھی اچھو کی طرف دیکھتی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ یہ آدمی کون ہے جس کو دیکھ کر اس کی ماں سکتے میں ہے۔ اور اس آدمی کی آنکھیں کیوں بھیگتی جاتی ہیں۔

”اچھ۔ اچھو۔ کیا تم زندہ ہو؟“ شاداں کے منہ سے چیختی ہوئی آواز نکلی۔
”دیکھ لو۔ تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔“ اچھو نے بمشکل کہا۔

”چھمی میری دھی رانی تیرا بابا زندہ ہے۔ یہ تیرا باپ ہے“ شاداں نے روتے ہوئے چھمی سے کہا۔ چھمی کی آنکھوں سے بھی آنسو چھلک پڑے۔ اچھو نے آگے بڑھ کر اپنی بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ شاداں آگے بڑھی اور وہ بھی اس کے بازوؤں کے حلقے میں آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں بیٹھے تھے۔ خوشی سے تینوں کے چہرے دمک رہے تھے۔

”یہاں سب مجھے مرا ہوا کیوں سمجھتے ہیں؟“

”ہمیں تو یہی پتا چلا تھا۔ چودہ سال پہلے تم اچانک غائب ہو گئے تھے۔ میں نے رو رو کر تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا۔ تین سال کی چھمی میرے پاس تھی۔ میں کہاں جاتی۔ پھر چودھری جلال کے پاس گئی کہ تمہیں ڈھونڈنے میں مدد کریں، اس نے کہا کہ صبر کرو۔ میں تمہارا خرچہ اٹھا لوں گا۔ بس اسی طرح چودہ سال گزر گئے۔ روٹی ٹکر مل جاتا ہے۔ چودھری صاحب بہت اچھے آدمی ہیں“ شاداں بولتی جا رہی تھی۔ مگر اچھو کسی گہری سوچ میں گم تھا۔

اچھو کو ایسا لگتا تھا جیسے صدیوں بعد اسے گھر کا آرام ملا ہے۔ جیسے اسے نئی زندگی مل گئی ہو۔ دو تین دن وہ گھر سے باہر نہ نکلا۔ شاداں اور چھمی کو بھی اتنی خوشی تھی کہ ان کی باتیں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔ چھمی جو خود کو یتیم سمجھتی تھی اسے اچانک باپ مل گیا تھا اور شاداں جو اچھو کو رو چکی تھی اچھو کو پا کر چودہ برس کی سب تکلیفیں بھول گئی تھی۔ رات کو لیٹے ہوئے شاداں اچھو سے باتیں کر رہی تھی۔

”سنو! چودھری جلال نے ہمارا بہت خیال رکھا ہے۔“
”یہ تو ہے ورنہ اکیلی عورت ایک بچی کے ساتھ کہاں جاتی۔“ اچھو نے سر ہلایا۔

”گاؤں کے مردوں میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ چند دن پہلے چودھری نے ایک پیغام بھیجا تھا اور میں نے کہا تھا سوچ کر بتاؤں گی۔ اب تو خیر سے تم آ گئے ہو اس بات کا فیصلہ بھی کر دو۔“ شاداں نے کہا۔

”کس بات کا فیصلہ؟“ اچھو سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

چودھری نے شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ اب پچاس سے اوپر تو ہو گا لیکن بڑے آدمی کی عمر نہیں دیکھی جاتی۔ میرے خیال میں تو ہاں کر دینی چاہیے۔ ”

”کیا مطلب؟“ اچھو چونکا۔

”اچھا اب اتنے انجان نہ بنو۔ بیٹی کو ساری عمر گھر میں تو نہیں بٹھا سکتے۔ چودھری نے ہماری بیٹی کا ہاتھ مانگا ہے۔ چھوٹی چودھرانی بن کر بڑی حویلی میں راج کرے گی ہماری بیٹی۔“ شاداں نے بتایا۔

”تو چودھری نے خود تم سے بات کی تھی“ اچھو نے پوچھا۔

”ہاں ہاں وہ خود آیا تھا۔ ویسے تو اس کے بندے ہی آتے تھے، کبھی آٹا دال دینے کبھی کچھ روپے دینے۔ لیکن یہ بات کرنے وہ خود آیا تھا۔“

اچھو سیدھا لیٹ کر چھت کو تکنے لگا۔ شاداں بھی چت لیٹی جیسے کہیں دور دیکھ رہی تھی۔ کئی لمحے گزر گئے۔ پھر شاداں کے لب ہلے۔

”اچھو۔ ایک بات پوچھوں؟“
”ہاں پوچھو؟“
”میں جو پوچھوں گی، سچ سچ بتاؤ گے ناں“
”میں نے کبھی تیرے سے جھوٹ بولا ہے پگلی“
”پھر بھی تو وعدہ کر کہ سچ بولے گا“
”اچھا اب پوچھ بھی لے۔ کیا پوچھنا ہے“ اچھو نے کہا۔

”جس دن تو غائب ہوا تھا اسی دن جیراں بھی غائب ہو گئی تھی اور پھر کبھی نہیں ملی۔“ شاداں نے کہہ دیا۔
”ہاں۔ جیراں بھی اسی دن چلی گئی تھی۔“ اچھو نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔
”تجھے پتا ہے میں چودہ سال کہاں رہا؟“ اچھو نے کچھ اور بتانے کی بجائے سوال کیا۔
”مجھے کیا خبر؟ تو بتا کہاں تھا تو؟“
”جیل میں تھا۔ عمر قید کی سزا کاٹ کر آیا ہوں۔“

”عمر قید۔ یہ تو کیا کہہ رہا ہے“ شاداں کے گلے میں جیسے پھندا لگ گیا۔
”تو جانتی ہے ناں، عمر قید کی سزا کیوں ہوتی ہے؟“
”تو نے کسی کو مارا تھا۔ ق قتل کیا تھا؟“ شاداں کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔ ”

”میں مار سکتا ہوں کسی کو؟“ اچھو نے پھر سوال کیا۔ شاداں کوئی جواب نہ دے سکی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ اچھو اچانک ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔

”کیا ہوا؟ کدھر جا رہا ہے؟“ شاداں چونکی۔

”ابھی مجھ سے کچھ مت پوچھ۔ میں اپنے ہوش میں نہیں ہوں۔“ اچھو نے جواب دیا۔ اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ ساتھ والے کمرے میں اس کی بیٹی چھمی سو رہی تھی۔ اس نے ایک نظر اپنی بیٹی کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر فرشتوں کی سی معصومیت تھی۔ وہ تیزی سے پلٹا اور گھر سے باہر نکلتا چلا گیا۔ شاداں اس کے پیچھے آئی مگر اسے روک نہ سکی۔ جاتے جاتے اس نے اشارہ کیا کہ دروازہ بند کر لو۔

اچھو رات کے اندھیرے میں تیز تیز چلتا جا رہا تھا۔ چودہ سال بعد بھی ایک ایک گلی اس کے ذہن میں نقش تھی۔ اسی گاؤں میں اس کا بچپن اور جوانی گزری تھی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ کس راستے پر جانا ہے۔ حویلی کی پیچھے ایک خفیہ راستہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر چودھری کے خاص کمرے تک پہنچ جائے گا۔ وہ اس کمرے تک پہنچ گیا۔ دروازہ بند تھا۔ مگر اس نے ہلکی سی دستک دی۔ چند لمحے گزرے تو اس نے بے چین ہو دو تین بار دستک دی۔

”کس کی اتنی جرات ہے؟ کون ہے باہر؟“ اندر سے چودھری کی آواز سنائی دی۔
” جی میں ہوں، آپ کا خدمت گار اچھو۔“ اس نے جواب دیا۔
”اچھو۔“

یک دم دروازہ کھل گیا۔ اچھو اندر داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسے ایک جھٹکا لگا۔ بستر پر ایک برہنہ لڑکی تھی جس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔

” چ چودھری صاحب۔“ اچھو نے ہکلا کر کہا۔

”اچھا ہوا تم آ گئے اچھو۔ میں تو بھول ہی گیا تھا کہ چودہ سال پورے ہو گئے۔ کتنے بدل گئے ہو۔ اگر خود نہ بتاتے تو شاید میں پہچان بھی نہ پاتا“ چودھری نے سر ہلایا۔

”چودھری صاحب آپ نے تو پلٹ کر خبر ہی نہ لی۔“

”تمہارا گلہ اپنی جگہ ہے اچھو۔ مگر میں کیسے تمہاری خبر لیتا۔ کسی کو پتا چل جاتا تو۔ تم اپنے گھر بھی گئے ہو گے۔ میں نے تمہارے بیوی اور بیٹی کو بھوک سے مرنے نہیں دیا۔ ان کا خیال رکھا ہے“ چودھری نے مونچھوں کو تاؤ دیا۔

”آپ کا شکریہ مگر میں نے بھی آپ کی خاطر چودہ سال جیل کاٹی ہے چودھری صاحب۔ جیراں کو میں نے نہیں آپ نے مارا تھا۔“ اچھو نے آہستہ سے کہا۔ چودھری کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ پھر اس نے فوراً خود کو نارمل کیا۔

”ٹھیک کہتے ہو یار۔ واقعی تم نمک حلال ہو۔ وہ بے وقوف مان ہی نہیں رہی تھی اور زبردستی تو مجھے پسند ہی نہیں“ چودھری مسکرا اٹھا۔

اچھو نے اس لڑکی کی طرف ذرا سا دیکھا جو بستر کی چادر اپنے بدن پر لپیٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔

”یہ بھی نہیں مان رہی لیکن اسے ماننا تو پڑے گا۔ اچھا ہوا تم آ گئے۔ اسے ایک ٹیکا تو لگانا پڑے گا۔ بڑا زور ہے اس میں۔ دیکھنا کوئی ہوشیاری نہ کرے، میں اس کے لیے ٹیکا بھر لوں۔“ چودھری کے چہرے پر خباثت تھی۔

”آپ کا نمک کھایا ہے۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر“ اچھو نے مودبانہ لہجے میں کہا۔ چودھری کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ایک سرنج اور انجکشن نکال لیا تھا۔ لڑکی بہت خوف زدہ لگ رہی تھی۔

”مجھے چھوڑ دو، مجھے پیسے نہیں چاہئیں، میں تو مدد مانگنے آئی تھی۔ میرے بابا کے علاج کے لیے ڈاکٹر نے دو لاکھ مانگے تھے اور تم نے کہا تھا کہ شام کو آ کر لے جانا۔ میں تو تمہیں اچھا آدمی سمجھتی تھی اور تم نے مجھے یہاں بند کر دیا اور اب۔ مجھے چھوڑ دو“ لڑکی نے روتے ہوئے چیخ کر کہا۔

”میں نے پہلے بھی کہا تھا۔ چیخو مت، تمہاری آواز اس کمرے سے باہر نہیں جائے گی“ چودھری نے سرد لہجے میں کہا۔ لڑکی یک دم بستر سے اتر کر دروازے کی طرف بھاگی مگر اچھو نے اسے دبوچ لیا۔

”بھاگ نہیں سکو گی۔ چپ چاپ چودھری صاحب کی بات مان لو“ اچھو غرایا۔ لڑکی اس کے بازوؤں میں مچلنے لگی۔ چودھری ٹیکا بھرتے ہوئے یہ منظر دیکھ کر کھل اٹھا۔ وہ انجکشن بھر چکا تھا اور اب لڑکی کی طرف بڑھ رہا تھا۔

”شاباش۔ اسے اسی طرح پکڑے رکھو“ چودھری انجکشن لگانے کے لیے آگے جھکا۔ عین اسی وقت اچھو نے زور دار مکا چودھری کی ناک پر مارا۔ چودھری اچھل کر گرا۔ لڑکی بھی حیرت سے اچھل پڑی۔ اچھو نے اچھل کر دو تین ضربیں اس کے سر پر لگائیں اور اپنے گلے سے چادر اتار کر اس کے گلے میں پھندا ڈال دیا۔ چودھری کی چیخیں گھٹی گھٹی آواز میں بدل گئیں۔ نہ جانے اچھو کے بازوؤں میں کتنی طاقت تھی کہ چند لمحوں میں ہی چودھری کی گردن ڈھلک گئی۔

”کک۔ کیا یہ مر گیا“ لڑکی کی خوف سے کپکپاتی آواز نکلی۔

”ہاں مر گیا۔ شکر کرو کہ تم بچ گئیں۔ اس کا تو یہی کھیل ہے اور برسوں سے جاری ہے۔ اس ہوس ناک درندے کو مر ہی جانا چاہیے تھا۔ دیکھو تم میری بیٹی کی طرح ہو۔ اول تو اس طرف کوئی نہیں آئے گا۔ پھر بھی ہمیں فوراً اس جگہ سے نکلنا ہے۔ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں گا۔“ لڑکی نے سر ہلا دیا۔ اچھو نے فرش پر پڑی چودھری کی لاش کو دیکھا اور پھر منہ پھیر لیا۔

Facebook Comments HS