بینگن کھا کر دن میں جو خواب آتے ہیں


دو بجے کے قریب بستر پر بیٹھے بیٹھے لنچ کیا، لنچ کیا تھا بینگن تھے وہ بھی بنا گوشت کے، بنا آلو کے، ساتھ میں ماں نے سلاد بنا کر دے دیا تھا کہ ہائے سادہ سالن بنا گوشت کے دیکھ کر میرے پتر کا دل نہ اتر جائے۔ اب سلاد میں کیا تھا، پیاز، کھیرے اور گاجروں کے چند سلائس۔ گھر میں آٹا نہ کسی نے گوندھا تھا، نہ ہی ارادہ تھا۔ سو گھر کے پاس ایک تندور سے، دو پتیر اٹھا لایا۔

کھانے کو شروع کرنے سے پہلے، موبائل چارج سے اتارا، سونو نگم کا انٹرویو یوٹیوب پر سرچ مارا اور چلا دیا اور موبائل کو سامنے پڑے تکیے کے ساتھ رکھ دیا۔ وہ کیا ہے کہ ہم وقت ضائع کرنے کے بالکل قائل نہیں ہیں۔ ایک وقت میں دو چار کام نمٹا سکیں تو نمٹا لیتے ہیں۔

سونو بھیا انٹرویو میں میوزک بزنس کی تبدیلیوں سے لے کر اپنے کاموں کی کہانیاں سناتے رہے مگر جب ہم نے پہلا لقمہ بینگن کا منہ میں ڈالا تو ساری توجہ کھانے پر رہی کہ ہائے سادی تو لڑکی بھی اتنی اچھی نہیں ہوتی ہے، اسے بھی میک اپ اور لوازمات کی ضرورت رہتی ہے مگر یہ سادے بینگن بنا گوشت کے ہمیں سڈیوس کیے جا رہے تھے۔ چند منٹ کے اندر دو روٹیاں ختم ہو گئیں۔ زبان کا اصرار تھا کہ اتنی جلدی؟ بس یہی روٹیاں تھیں؟ تو وجود کی سستی نے بہن زبان کو سمجھایا کہ اتنے پر ہی اکتفا کیجیو۔

کھانا ختم کرنے کے بعد انٹرویو کو وہیں پر بند کیا، سوچا کچھ اور کیا جائے، سرہانے پڑی ول ڈیورانٹ کی کتاب The Story of Philosophy کو دو بار دیکھا، جسے میں نے دوسری بار پڑھنا شروع کیا ہے کہ شوپنہار کے مضامین شروع کرنے سے پہلے مرشدی ڈیورانٹ نے جو شوپنہار بارے لکھا ہے اس سے استفادہ کروں۔ مضمون آدھ سے زائد پڑھ چکا تھا کل، ابھی پڑھنے کا جی نہ چاہا، نیند کا نشہ اور بینگن کا مزا جو زبان پر تھا بڑھتا چلا جا رہا تھا۔

کمر کے پیچھے پڑے دو تکیوں میں سے ایک نکال کر پاؤں کی اطراف پھینکا اور دوسرا سیدھا کر کے اس پر سر رکھ چھوڑا۔ سر رکھنے کی دیر تھی کہ پلکوں نے مقناطیسی قوت سے ایک دوسرے کو کھینچنا شروع کیا۔ فوراً خیال آیا کہ نیند وہ شہزادی ہے جو ویسے تو کانٹوں پر بھی آجاتی ہے مگر اس کی عزت کرنی چاہیے اس کا اہتمام و پروٹوکول لازم ہے سو اٹھ کر خود بتی بجھا دی اور اس گیت، پیار ہمیں کس موڑ پہ لے آیا کی یہ لائن دل پر کانٹے کی مانند چبھنے لگی ”بتیاں بجھانے والی جانے کب آئے گی“ ۔

نیند نے جسم میں کب حلول کیا معلوم نہیں۔

پہلا منظر: اسلام آباد کی کوئی سڑک ہے اور میں رکشہ کی پچھلی سیٹ پر ہوں ( جبکہ اسلام آباد میں رکشوں کا داخلہ ممنوع ہے خیر خواب کی یہی طاقت ہے ) ۔ ساتھ کوئی خاتون ہے ہم دونوں ایک دوجے کے ساتھ جڑ کر بیٹھے ہیں اور مسکرائے جا رہے ہیں۔ اسی منظر کے دوران مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں کروٹ لیتا ہوں اور کروٹ لیتے ہوئے بھی مسکراتا ہوں۔

دوسرا منظر: وہی خوبصورت خاتون جو پہلے میرے ساتھ رکشہ میں پچھلی نشست پر تھی اب ڈرائیور کی نشست پر سوار ہے اور رکشہ چلا رہی ہے۔ رکشہ اسلام آباد سے پنڈی میں داخل ہو کر کسی سکول کے باہر رکتا ہے۔ ایک چھوٹا بچہ جس نے بستہ کندھے پر باندھ رکھا ہے رکشے میں داخل ہوتا ہے۔ ڈرائیور سیٹ پر بیٹھی خاتون بچے کو کہتی ہے کہ بیٹا انکل کے ساتھ آرام سے بیٹھ جاؤ۔

دوسرے منظر کے بعد میں شاید پھر کروٹ لیتا ہوں۔

تیسرا منظر: رکشے میں کچھ سفر طے کرنے کے بعد میں خاتون سے پوچھتا ہوں، یار تم پارٹ ٹائم میں سکول سے بچے پک اینڈ ڈراپ کا کام بھی کرتی ہو؟ تو یہ سن کر وہ غصے سے پیچھے مڑتی ہے اور کہتی ہے :

”وے مر جانٹریا! اے میرا پتر اے“

اس جواب کے بعد میری فوراً آنکھ کھلتی ہے اور میں افسردگی میں خود سے کہتا ہوں یار بندہ زیادہ عرصے تک کنوارا رہے تو خواب میں سنگل خواتین ہی آنا بند ہو جاتی ہیں۔ پھر سوچتا ہوں خواب تو وہ آتے ہیں جیسا آپ سوچتے ہیں اور میں نے کبھی ایسا سوچا نہیں سو تمام سائنسی اور نفسیاتی تحقیقات کو میں چولھے میں پھینکتا ہوں۔ بھئی ہو نہ ہو خوراک اور معدے کا بھی آپ کے خوابوں پر اثر ہوتا ہے۔ اور میں نے تو سونے سے پہلے جتنا سوچا بینگن کا ہی سوچا اور اسی کا لمس زبان پر تھا سو یہ سارا کیا دھرا ان بینگنوں کا ہے۔ سو بینگن سادے کبھی نہ پکائیں ساتھ آلو یا گوشت ضرور ڈال لیں کیونکہ سنگل کھائی ہوئی سبزی سنگل رہنے کے ہی سپنے دکھا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS