سزائے موت اور مسلم حکمران


گزشتہ ہفتہ بارہ مارچ کو سعودی عرب نے ایک ہی دن میں اکیاسی افراد کو سزائے موت دے دی۔ اس خبر نے ایک طرف انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو متحرک کیا تو وہیں دوسری طرف اسلامی ملکوں کے عدالتی نظام اور قوانین کو پھر سے زیر بحث لایا گیا۔ اس سے قبل جنوری 2016 میں سعودی عرب نے ایک دن میں 47 بندوں کو سزائے موت دی تھی اور 2019 میں بھی ایک ہی دن میں 37 بندوں کا سر قلم کر دیا تھا۔ جن میں اکثریت اہل تشیع مسلمانوں کی تھی۔

امریکن انسٹیٹیوٹ فار گلف افیئرز کے علی الاحمد نے اب بھی یہ دعوی بھی کیا ہے کہ ہفتہ کو سزائے موت پانے والوں میں تین درجن سے زیادہ شیعہ تھے جبکہ سعودی عرب نے اس بارے میں کوئی سرکاری وضاحت نہیں کی کہ سزائے موت پانے والوں کا تعلق کس فرقہ سے تھا۔ اس وقت اقوام متحدہ کے ٹوٹل 193 ممبر ممالک میں سے 108 ممالک سزائے موت کو مکمل طور پر ختم کر چکے ہیں۔ سزائے موت برقرار رکھنے والے ممالک دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف امریکہ اور چین جیسے ممالک ہیں جو کچھ جرائم کے لئے موت کی سزا دینا آخری حل سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف اکثر مسلمان ممالک ہیں جو اس وجہ سے سزائے موت ختم کرنے کے خلاف ہیں کہ قرآن و حدیث میں بعض جرائم کی سزا موت بطور حد و قصاص متعین کی گئی ہے اور اسے ختم کرنے کا اختیار کسی کو نہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شریعہ نے بعض جرائم کی سزا موت ہی رکھی ہے اور اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا لیکن کیا اسلامی ممالک میں سزائے موت صرف انہی جرائم پر دی جاتی ہے یا اس کے علاوہ بھی جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے جو بسا اوقات سیاسی یا مذہبی مخالفین کو پھنسانے اور انہیں عدالتوں سے سزائے موت دلوانے کے کام آتا ہے۔ اسلامی مالک نے سزائے موت کے اسلامی قوانین کا سہارا لے کر اقوام متحدہ کے عالمی معاہدے کا فریق بننے سے تو انکار کیا لیکن دوسری طرف مسلم حکمرانوں نے اکثر سزائے موت کو سیاسی و مذہبی مخالفین کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ بدقسمتی سے مسلم ممالک کی عدالتیں اکثر طاقتور حلقوں اور حکمرانوں کی خواہشات کے گرد گھومتی ہیں۔

پاکستان کے معروف سیاستدان سردار شوکت حیات نے اپنی کتاب ”گم گشتہ قوم“ میں بھی اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ کیسے سابق پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر سپریم کورٹ کے ججز نے حلف پر لاہور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مولوی مشتاق احمد کو یقین دلایا تھا کہ سپریم کورٹ بھٹو کی اپیل خارج کر کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھے گی تاکہ ہائی کورٹ کے ججز مستقبل کے انجانے خوف کی وجہ سے میرٹ کے بجائے صدر ضیا الحق کی منشا کے مطابق بھٹو کو پھانسی کی سزا دیں۔

اس وقت بین الاقوامی انسانی حقوق سزائے موت کو انسانی عظمت و وقار کے خلاف سمجھی ہے کہ کسی انسان سے اس کی زندگی نہیں لی جا سکتی چاہے وہ کوئی مجرم ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ جمہوریت میں تمام انسان برابر ہیں تو پھر ایک انسان اقتدار کی وجہ سے طاقت حاصل کر کے ایسا کوئی قانون نہیں بنا سکتا کہ دوسرے انسانوں سے ان کا بنیادی و پیدائشی حق چھین سکے۔ یہ زندگی کا حق چھیننا انسانی عظمت و وقار کے خلاف ہے۔ جبکہ اسلامی قانون کا ماخذ چونکہ انسان کا بنایا ہوا قانون نہیں بلکہ وحی الہی ہے تو اس میں چند مخصوص جرائم پر سزائے موت موجود ہے۔

بیسویں صدی کے شروع میں اقوام متحدہ بنی تو اس کے منشور میں انسانی حقوق کا تحفظ سر فہرست تھا۔ اپنی پہلی دستاویز ”انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ۔ 1948“ کے آرٹیکل 3 میں اقوام متحدہ نے تمام انسانوں کے لئے زندگی اور آزادی کا حق تسلیم کر لیا کہ کسی انسان سے اس کی زندگی و آزادی نہیں چھینی جا سکتی۔ اگرچہ جرم کی صورت میں سزائے موت دینا تب بھی قانونی مانا گیا۔ اقوام متحدہ نے 1966 میں ”شہری اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدہ“ پیش کیا، جس کے آرٹیکل 6 میں ہر انسان کے لئے زندگی کا حق بطور بنیادی و پیدائشی حق مانا گیا اور معاہدے کے رکن ممالک سے اس بات کا پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ سزائے موت کو صرف چند مخصوص اور وحشیانہ جرائم تک محدود رکھیں۔ 1989 میں اقوام متحدہ نے ایک اور معاہدہ ”شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کا دوسرا اختیاری پروٹوکول؛ جس کا مقصد سزائے موت کو ختم کرنا ہے“ پیش کیا جس میں سزائے موت کو مکمل ختم کر کے بین الاقوامی انسانی حقوق کی رو سے غیر قانونی مانا گیا اور اب اسی معاہدے کے مطابق سزائے موت کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

سنہ 1989 سے اب تک اقوام متحدہ اور مختلف بین الاقوامی تنظیمیں سزائے موت کو ختم کرنے کے لئے تمام ممالک ہر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ امریکہ اور چائنا جیسے طاقتور ممالک تو اسے ختم کرنے سے صاف انکار دیتے ہیں لیکن اسلامی ممالک کا رویہ البتہ مختلف اور کسی حد تک مضحکہ خیر ہے کہ وہ وحشیانہ جرائم کے بجائے کچھ عام نوعیت کے جرائم پر بھی سزائے موت برقرار رکھے ہوئے ہیں جیسے پاکستان میں ”ریلوے ایکٹ 1890“ کے سیکشن 127 کے مطابق ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اب انگریز کا بنایا یہ قانون ریاست سے غداری کی وجہ سے اتنا سخت رکھا گیا تھا کہ ریلوے لائن کو خراب کرنے کا مطلب ریاستی و فوجی نقل و حرکت کو روکنا تھا اور تب اسے ریاست سے غداری شمار کیا گیا جس پر سزائے موت لاگو کیا گیا۔ لیکن پاکستان آزادی کے 75 سال بعد بھی اسی قانون کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

سزائے موت کے خلاف دلائل میں سے دو دلائل سرفہرست ہیں پہلی یہ دلیل کہ یہ انسانی عظمت و وقار کے خلاف ہے اور دوسری یہ کہ اس میں عدالتی سسٹم کی کمزوری اور انسانی غلطی کا احتمال موجود ہے۔

بطور مسلمان ہم سزائے موت کو انسانی عظمت و وقار کے خلاف تو نہیں سمجھ سکتے کہ قرآن و سنت کے دلائل سے بعض جرائم میں سزائے موت دینا ثابت ہے البتہ چھوٹے چھوٹے جرائم اور حکمرانوں کی منشا پر سزائے موت دینا یقیناً انسانی عظمت و وقار کے خلاف ہے، اور دوسری طرف اس میں عدالتی سسٹم کی کمزوری کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم ممالک اگر سزائے موت کو ختم نہیں کر سکتے تو انہیں ان جرائم کو لازما صرف وحشیانہ جرائم تک محدود کرنا ہو گا۔ دہشت گردی کا لیبل لگا کر یا منشیات کے کیسز میں سزائے موت دینا کسی طور بھی درست رویہ نہیں ہے۔ 12 مارچ 2022 کو سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے 81 افراد میں سے بھی اکثریت کو دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کی بنا پر سزائے موت دی گئی ہے۔

مسلمان اپنے تابناک ماضی پر ہمیشہ فخر کرتے ہیں اور بعض دفعہ حجاج بن یوسف جیسے حکمرانوں کو ظالم کہہ کر خود کو بری الزمہ سمجھتے ہیں امام ابن کثیرؒ نے ”البدایہ و النہایہ“ میں ہشام بن حسان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے۔ لیکن کیا ہم اس دور کے قاضی القضاۃ اور عدالتوں پر سوال اٹھاتے ہیں کہ جب حجاج بن یوسف ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں کو قتل کر رہا تھا تب مسلم ریاست کی عدالتیں کیا کر رہی تھی اور انہوں نے حجاج کو کیوں نہ روکا یا پھر وہ بھی حجاج کے اس فعل کے لئے دلال تراش رہے تھے؟ کیا وہ عدالتیں حجاج کے اقتدار میں آتے ہی بانجھ ہو گئی تھی اور اس کی موت کے بعد کتنے عرصہ بعد انصاف کا دور دوبارہ بحال ہوا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن سے ہم اکثر خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔

2018 میں ترکی میں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی بھی شاید اسی لئے ترکی میں مارا گیا کہ وہ ان ممالک کا سفر کرنے سے گریز کرتا تھا جہاں اس کو دہشت گردی کے کسی بھی کیس میں ڈال کر آسانی سے اس کا سر قلم کیا جا سکتا تھا۔ سعودیہ میں ایک پاکستانی ٹرک ڈرائیور رحمت بنگش کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جس پر اس لیے دہشت گردی کے مقدمات بنائے گئے کہ 2017 میں جب مکہ مکرمہ میں شرکتہ العلوان الوطنیہ کمپنی کے ملازمین نے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کیا تھا اور احتجاج کے دوران پولیس کی کچھ گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے تو ان سب مزدوروں کو پکڑ کر ان پر دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمات بنائے گئے تھے۔

سعودی شہزادہ محمد بن سلمان خود کو جتنا مرضی لبرل متعارف کروائے۔ سینما کھولنے یا خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دینے جیسے احکامات دیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب آج بھی اس دور میں جی رہا ہے جہاں قانون، عدالت اور حکم سب کچھ بادشاہ سلامت کی مرضی سے چلتا ہے۔ جہاں دہشت گردی کے مقدمات میں سیاسی و مذہبی مخالفین اور منشیات کے مقدمات میں عمرہ و حج کے زائرین کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں سے بچنے کے لئے مسلم حکمران اسلامی قوانین و شریعت کا سہارا لیتے ہیں لیکن پھر انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں شریعت کو پس پشت ڈال کر اپنی حکومت یا سلطنت کو طول دیتے ہیں چاہے وہ پاکستان کے ”مرد مومن مرد حق“ ہوں یا پھر سعودی شہزادہ محمد بن سلمان۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد صادق کاکڑ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments