ایک کہانی سے نکلتی ہوئی کہانی


فیصلہ مضحکہ خیز، سفاکانہ اور حیرت انگیز تھا لیکن مطلق العنان بادشاہ نے اسے ہر صورت جاری رکھنے کا حکم جاری کیا ہوا تھا۔ وزیراعظم، وزرا اور دیگر لوگ اس عجیب و غریب فیصلے کے نتائج و عواقب سے بادشاہ کو آگاہ کرتے تو وہ ہمیشہ وہی پرانی رٹ ہی الاپتا کہ

”دادا حضور اور ابا حضور کے جاری کیے ہوئے فیصلے کو میں کیسے ختم کر سکتا ہوں“
سو اس سلطنت میں برسوں سے وہ حکم نافذالعمل تھا۔

اس عجیب اور مضحکہ خیز حکم کے مطابق سلطنت میں جرم کوئی بھی کرتا لیکن سزا صرف مرد کو ہی دی جاتی تھی۔ مرد جرم کرتا تو ٹھیک لیکن اگر جرم کرنے والے عورت ہوتی اور اس کے اپنے گھر میں کوئی مرد نہ ہوتا تو رشتے داروں میں سے کسی قریبی یا دور کے مرد کو پکڑ کر سزا دے دی جاتی تھی۔

تقریباً سو سال سے یہ سزا اس سلطنت میں دی جا رہی تھی۔

قریبی سلطنت کا بادشاہ عرصہ سے اس سلطنت پر نظریں گاڑے ہوئے تھا اور وہ دیکھ رہا تھا کہ اس سلطنت میں نافذ اس فیصلے کی وجہ سے مردوں کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے اور وہ کوئی مناسب موقع دیکھ کر اس سلطنت پر قبضہ جمانے کا تہیہ کیے ہوئے تھا اور اس نے اپنی فوج کے سپہ سالار کو خفیہ طور پر فوجی تیاریوں کا حکم بھی جاری کیا ہوا تھا۔

اور پھر کچھ عرصہ بعد حالات و واقعات کا بغور جائزہ لے کر اس نے لاؤ لشکر سمیت اس سلطنت پر حملے کا حکم دے دیا۔

اپنی سلطنت پر حملے کی اطلاع پاکر بادشاہ نے مشیر خاص سے کہا
”سلطنت کی حفاظت کے لیے فی الفور سپاہ کو تیاری کا حکم دیا جائے“
مشیر خاص جو کہ ایک ہیجڑا تھا نے کمر لچکا کر کہا
”بادشاہ سلامت!

کیسی اور کہاں کی سپاہ عالی پناہ؟ مرد تو عرصہ دراز سے اس سلطنت میں آپ اور آپ کے بڑوں کے فیصلے کی وجہ سے مشق ستم بنے ہوئے تھے اور آج یہ حال ہو چکا کہ سوائے آپ کے اس سلطنت میں کوئی مرد نام کو بھی نہیں ہے۔

بس ہم ہیجڑے ہیں اور عورتیں ہیں۔

بادشاہ نے دم بخود ہو کر اپنے مشیر خاص ہیجڑے کی ساری گفتگو سنی اور بڑے عرصے کے بعد جب پہلی بار اپنے دربار پر غور سے نظر دوڑائی تو وہاں ہیجڑوں کے سوا کوئی بھی نہ تھا۔

اور اچانک اسے بھی یہ لگنے لگا کہ شاید وہ بھی مرد نہیں رہا۔

Facebook Comments HS