یہ اردو میڈیم لوگ اور نیپی کلاس
یہ جو اردو میڈیم لوگ ہیں ناں جیسا کہ چوہدری شجاعت حسین، فردوس عاشق اعوان اور جو بائیڈن یہ سب کے سب ہمارے خان کی کرشماتی شخصیت، یوٹرن لینے کی صلاحیت اور پیوٹن کے ساتھ نئی نئی دوستی سے جیلس ہیں۔ حالانکہ یہ بھی سب کو علم ہے کہ خان واحد آدمی تھا جس کو وزارت عظمی کے عہدے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ ان کے پاس تو پہلے ہی کرکٹ، جمائمہ گولڈ سمتھ اور سلائی مشینوں کا دیا ہوا سب کچھ تھا۔ وہ یورپ کو سب سے زیادہ جان چکے تھے، نیوٹرل ایمپائر لگوا چکے تھے اور لاہور میں رعایتی نرخوں پر پلاٹ کی درخواست بھی جمع ہو چکی تھی۔
یہ تو جب انہیں پتہ چلا کہ کچھ لوگوں کا پیسہ باہر پڑا ہے تو انہوں نے سوچا کہ کسی بھی طریقے سے ایک دفعہ وزیراعظم بن جاؤں تو سب کو سیدھا کر دوں گا۔ مراد سعید، شہزاد اکبر اور جنات کے ذریعے وہ پیسہ واپس لا کر کچھ آئی ایم ایف کو واپس کر دوں، کچھ عوام کے منہ پر مار دوں اور باقی پیسوں سے ریاست مدینہ بنا دوں گا۔ سنو میرے نوجوانوں اب جب وہ پیسہ ہی باہر سے واپس نہیں آیا تو ریاست مدینہ کیسے بنتی۔ لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ تو دال دلیا کر ہی دیا ہے جس میں چین، امریکہ، یورپ اور اب روسی نظام کے کچھ اجزائے ترکیبی شامل ہیں۔ بس صرف سعودی عرب، ترکی، ملائشیا اور ایران تھوڑے کم ہیں۔ ان کا تڑکا لگ جاتا تو سب ٹھیک ہو جاتا۔
ادھر بزدار صاحب کو سب لوگ تنگ کر رہے ہیں۔ لیکن بزدار صاحب واضح کر دیا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں وزیراعلی بننے کی ضرورت تھی اور نہ ہی کوئی امید لیکن اب جب کہ وہ سب کو بتا چکے ہیں کہ وہ لاہور میں شہباز شریف لگے ہوئے ہیں تو پھر اس وقت انہیں اتار کر کسی اور کو شہباز شریف لگانا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے نہایت دکھ کے ساتھ بیان فرمایا کہ اب تو وہ پریس کانفرنس کرنا بھی سیکھ گئے تھے اس لیے ان کے خلاف عالمی سازش کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب اگر میری سرکاری نوکری ختم ہو ہی رہی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ مجھے گولڈن شیک ہینڈ اور پینشن ضرور دی جائے۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے کیونکہ لاہور میں ان کے نام پر بھی کوئی گھر نہیں ہے۔ خان صاحب کا تو زمان پارک میں والد کے نام پر ایک گھر تھا لیکن ان کے تو والد صاحب کے نام پر بھی کوئی گھر نہیں ہے۔ اس لیے کسی بھی بنیاد پر ان کی امداد ضرور کی جائے۔
ادھر پرویز الہی صاحب نے اپنا اصولی موقف کھل کر بیان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزارت اعلی کی کرسی سے کم پر ہرگز نہیں بکیں گے۔ انہوں نے ایک نہایت ٹیکنیکل انٹرویو دیا ہے جس میں واضح کر دیا کہ وہ ابھی تک مارکیٹ میں کھلے پڑے ہیں۔ اور اگر حکومت فوری طور پر انہیں خرید نہیں لیتی تو وہ اپوزیشن کے ہاتھوں بک جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم خاندانی شریف لوگ ہیں روز روز یو ٹرن نہیں لیتے، کبھی کبھی لیتے ہیں۔ ایک دفعہ اگر اپوزیشن کے ہاتھوں بک گئے تو پھر ہم اگلے الیکشن تک اپنے آپ کو مارکیٹ میں پیش نہیں کریں گے۔ اور اگر کیا بھی تو ہم اپنی قیمت اتنی زیادہ لگائیں گے کہ کوئی مائی کا لعل وہ قیمت ادا ہی نہیں کر پائے گا۔
چوہدری پرویز الہی صاحب نے مزید کہا کہ وہ خاندانی شریف، عزت دار اور مہنگے لوگ ہیں۔ انہوں نے اسد عمر اور شیخ رشید کی باتوں کا برا نہیں منایا۔ اگر وہ ایسی باتوں کا برا مناتے تو خان صاحب نے انہیں جو پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کا خطاب دیا تھا اسی پر برا منا لیتے۔ لیکن فوج کی عزت اور خاندانی شرافت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
نیپی کے بیان پر چوہدری صاحب نے وضاحت کی کہ کل انہوں نے جو نیپی بدلنے کی بات کی تھی وہ انہوں نے نیپی بدلنے کی بات نہیں کی تھی۔ ان کے خیال میں تو خان صاحب نے جو کہا تھا کہ وہ حکومت میں بغیر تیاری کے آ گئے تھے تو یہ محض ان کی کسر نفسی تھی۔ وہ تو مکمل ٹرینڈ تھے۔ ہاں البتہ کابینہ کے کچھ لوگ بالکل نئے تھے۔ لیکن وہ بھی بچے نہیں تھے بس حرکتیں بچگانہ تھیں۔ رہی بات بزدار صاحب کی تو اب ان کے گھر بجلی تو آ گئی ہے لیکن وہ ابھی تک نیپی کلاس میں شامل نہیں ہوئے۔


