سانپ اور سیڑھی کا کھیل
ٓٓاپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد سے پاکستانی سیاست میں بھونچال سی کیفیت ہے۔ شہر اقتدار میں جوڑ توڑ کا کھیل بھی بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ یوں کہئے کہ ایک منڈی لگی ہے جس میں خریدار اور بکنے والا دونوں ہی مول تول کے فن آزما رہے ہیں۔ کسی کو زیادہ نرخ چاہئیں تو کسی کو مستقبل کی ضمانتیں، کوئی سیاسی سپیس چاہتا ہے، کوئی اچھے نرخ چاہتا ہے، تو کوئی بڑے عہدے چاہتا ہے۔
ہر کوئی اپنی سیاسی اہمیت، حیثیت کے مطابق یعنی کہ حصہ بقدر جثہ چاہتا ہے۔ سیاسی نیلامی کا یہ کھیل روزانہ کی بنیاد پر لگتا ہے اور روزانہ کی ہی بنیاد پراس کھیل میں آنے والے ڈرامائی موڑ تماشائیوں یعنی کہ پاکستانی عوام اور میڈیا کے لئے سنسنی اور سستی تفریح کا باعث بن رہے ہیں۔ ایسے میں دونوں طرف سے پراپیگنڈا بھی زور و شور سے جاری ہے۔ حکومتی وزراء جہاں دور کی کوڑی لاتے ہوئے اسے امریکی اور یورپی سازش قرار دے رہے ہیں۔
تو اپوزیشن کی جانب سے اسے حکومتی ایوانوں میں بغاوت اور مہنگائی کی لہر کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کھیل نے جہاں سیاسی پنڈتوں کی مندے میں جانے والی دکانداری کو خوب چمکایا ہے وہاں سیاسی جیوتشی بھی دونوں طرف والوں کو اپنی پیش گوئیوں سے رام کر کے اپنا اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں۔ آٹھ مارچ سے شروع ہونے والے اس سیاسی مد و جذر کے بھی کیا ہی کہنے ہیں، شام ڈھلے ایک اتحادی حکومت چھوڑنے کا اعلان کرتا ہے تو دن چڑھتے ہی اپنے پیدا کئے گئے تلاطم کے آگے حکومت کی تعریفوں کے ذریعے بند باندھنے کی کوشش کرتا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن سے زیادہ جو قابل رحم حالات ہیں وہ دونوں سائیڈوں کے سیاسی ورکروں اور سوشل میڈیا فالوورز کے ہیں۔ جو ساری رات اس مبینہ منحرف کو احسان فراموش، خود غرض اور پتہ نہیں کن کن القابات سے نوازتے گزارتے ہیں۔ تو دن چڑھتے ہی پھر اسی کو ہر اچھے برے وقت کا پائیدار ساتھی ثابت کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ مجھے میرے کلاس فیلو اور صحافتی میدان کے سینئر دوست جو کہ تحریک انصاف کی طرف رجحان رکھتے ہیں نے شہباز شریف صاحب کا انٹرویو بھیجا جس میں وہ ایبسولیوٹلی ناٹ پر عمران خان کے لتے رہے تھے۔
میرے اس دوست نے پرجوش انداز میں کہا کہ دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ امریکہ، یورپ نے ہی یہ سب کھیل رچایا ہے، اوپر سے خان صاحب نے نیوٹرل لوگوں کے منع کرنے کے باوجود روس کا دورہ کیا ہے تو پھر یہی حال ہونا تھا۔ ایک ہی سانس میں کیے جانے والے اس تجزیے کو مزید موثر بنانے کے لئے اس نے او آئی سی کانفرنس کا حوالہ دے ڈالا کہ دیکھو جب سے او آئی سی کانفرنس کا اعلان ہوا ہے تب سے ہی اپوزیشن کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگ گیا۔
ساتھ ہی اس نے ذوالفقار بھٹو کی جانب سے او آئی سی سربراہ کانفرنس بلانے کا حوالہ دیا، اس کے بقول بھٹو کے ساتھ بھی جو ہوا وہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے اسلامی اتحاد بنانے کے جرم کی پاداش قرار دے ڈالا۔ اب میں نے اسے سمجھایا کہ نہ امریکہ اتنا فارغ بیٹھا ہے اور نہ ہی یورپ، وہ تو سابقہ چودھری روس کی للکار سے نمٹنے اور اپنی چودھراہٹ کا طنطنہ برقرار رکھنے کی جدوجہد میں ہے۔ یورپ کو روس کی چڑھائی یوکرین سے اپنی سرحدوں میں آنے کی فکر ہے تو امریکہ افغانستان میں شرمناک شکست کے کی جھنجلاہٹ سے نکلنے اور مہنگائی سے نمٹنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
انہیں اپنے جھمیلوں سے فرصت ملے گی تو پاکستان جیسی کمزور معیشت کے معاملات میں مداخلت کریں گے۔ مگر چونکہ پاکستانی عوام میں امریکہ اور مغرب مخالف منجن خوب بکتا ہے تو پھر ہمدردی کے لئے یہ بیانیہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ بہرحال حکومت اور اپوزیشن کا یہ اراکین کی حمایت حاصل کرنے کے اس کھیل سے مجھے بچپن میں کھیلے جانے والے سانپ سیڑھی کے کھیل کی یاد آ گئی۔ دونوں فریقین کے ساتھ ان کے اتحادی اور منحرف ہو کر آنے والے فریقین سانپ سیڑھی کا ہی کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایک وقت میں حکومت اوپر تو ایک وقت میں اپوزیشن، مگر دونوں کو یہ نہیں سمجھ آ رہی کہ ان کے اس کھیل میں چاروں طرف سانپ پھن پھیلائے بیٹھے ہیں، یہ نہ ہو کہ چاروں طرف سانپ گھیر لیں اور پھر سیڑھی ہی نہ ملے۔ ان حالات پر مجھے بھارتی شاعرہ شفاء کجگاؤنوی کی نظم یاد آ گئی جو آپ لوگوں کی نظر کئے دیتا ہوں
وہ سانپ سیڑھی کا کھیل تھا جو
ہم عہد طفلی میں کھیلتے تھے
اگرچہ سانپوں سے گھر بھی جاتے
جو کوئی ان میں سے ڈس بھی لیتا
تو واپس اپنی جگہ پہ جاتے
وہ زہر ہوتا تھا اتنا ہلکا
کہ مر نہ پاتے
پھر اپنی جد و جہد کی خاطر
ہم اٹھ کے قسمت کو آزماتے
اور ایسا ہوتا بھی تھا کہ اکثر
ہمیں وہ سیڑھی ملی ہے جس سے
بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں
مگر نہ جانے کہ سانپ سیڑھی کا
اب یہ کیسا ہے کھیل نکلا
کہ چار سمتوں میں سانپ ہیں بس
جو اپنے پھن کو اٹھائے اوپر
ہر ایک لمحہ ڈرا رہے ہیں
کہیں بھی سیڑھی نہیں ہے کوئی


