اضطراب ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ تناؤ کی کیفیت پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ وہ ٹاک شوز جو بیکار کی باتوں سے بھرے ہوتے تھے اور جن کو دیکھنے والوں کی تعداد مسلسل خسارے کا شکار تھی، پھر سے عوام کی نگاہ شوق کا مرکز بنے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی حالات ایک بار پھر وہیں ڈی چوک پر کھڑے ہمارے شکست و ریخت سے دوچار بھونڈے نظام کو للکارتے نظر آتے ہیں۔ ہر بار ایسے لگتا ہے کہ اب کی بار یہ ٹوٹی پھوٹی دیوار گر جائے گی اور اس کی پشت سے ایک ہرا بھرا خوبصورت پاکستان نکلے گا جس کی سرسبز وادیاں گنگنائیں گی۔ جس کی ہوائیں آزادی اور جمہوریت کے مترنم گیت گنگنائیں گی مگر ہر بار اس شکستہ دیوار کی مرمت یوں کردی جاتی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ بد نمائی کا شکار ہو جاتی ہے۔

ایک طرف مہمان وزرا کی اسلام آباد آمد کا پروگرام ہے۔ تئیس مارچ کی آزادی پریڈ ہے تو دوسری طرف احتجاجی جلوسوں کو اسلام آباد کے دروازوں پر رک کر مہمانوں کے جانے کا انتظار کرنا ہے۔ جیسے ہی مہمان اسلام آباد سے نکلیں فوراً حملہ کر دیا جائے۔ چند سال پہلے بھی جب چینی صدر نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا، ڈی چوک پر حکومت کو آج کے حکمرانوں نے للکارا ہوا تھا۔ تب اسمبلی کا مشترکہ سیشن پارلیمنٹ کے اندر بیٹھا ہوا تھا اور جتھوں کے رحم وکرم پر ہی تھا۔

یہ جتھے نعرے لگا رہے تھے۔ ملک پر بے یقینی کی کیفیت طاری تھی۔ ایک مذہبی جماعت کی عورتیں بچے اور بڑے پرتشدد نعرے بازی کر رہے تھے۔ آج ایک بار پھر اسلام آباد کی فضائیں پر تشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آنے والی ہیں۔ اس بار تصادم کا خطرہ کہیں زیادہ ہے۔ ماضی میں تصادم حکومت اور جتھوں کے درمیان تھا، اب کی بار مخالف جتھے آپس میں ٹکرانے کی سوچ رکھتے ہیں جبکہ ایک جتھے کو حکومتی اداروں کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگی۔ ایسے میں جذبات کی رو نوجوانوں کو تشدد کی طرف بہت آسانی سے مائل کر سکے گی۔

ساری کہانی اقتدار اور انتقام کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی لکھنے والے نے نفرت کو مرکز و محور بنا کر نوجوان نسل کو ایک مخصوص طبقے کے سیاستدانوں کے خلاف استعمال کیا۔ موجودہ وزیر اعظم کی کرشماتی شخصیت کو بطور سپر ہیرو متعارف کروایا اور خوب پروان چڑھایا۔ اس نے بھی مصالحہ خوب لگایا اور کہانی کار کے خوابوں کو پروان چڑھانے کی پوری کوشش کی۔ اس کوشش میں وہ اپنا اصل کام ”عوام کی خدمت“ سے دور ہو کر خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے میں مصروف عمل ہو گیا۔

حکومت پر اس کی گرفت کمزور اور مافیاز کے ساتھ تعلق داری روز بروز ترقی کی طرف گامزن رہی حتیٰ کہ حکومت کمزور، مافیاز طاقتور ہوتے چلے گئے۔ منتخب نمائندوں کے ساتھ بدتمیزی ہونی شروع ہوئی اور ان کو کرایہ دار سمجھا جانے لگا۔ فنڈز کا بے محابا استعمال چند لوگوں کے مفادات کو مقدم رکھ کر کیا جانے لگا۔ گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ ریونیو جمع ہونے کے باوجود ٹیکس گزار کو کوئی سہولت نہیں دی گئی۔ مصنوعی طور پر برآمدات میں اضافے کی خاطر کارخانہ دار کو بجلی ارزاں نرخوں اور غریب آدمی کی بجلی مہنگی کردی گئی۔

یہ ساری کہانی بہت کامیابی سے اپنی منازل طے کر رہی تھی اور غریب کی زندگی مسلسل ناکامیوں کا شکار ہوتی چلی جا رہی تھی۔ لوگ یعنی عوام اور اپوزیشن بے بس ہو چکے تھے کہ اچانک ماحول میں گرمی شروع ہوئی۔ لانگ مارچ کی دھمکیاں آنی شروع ہوئیں، تاریخیں دی جانے لگیں اور پھر تحریک عدم اعتماد بڑے اعتماد کے ساتھ جمع کروا دی گئی۔ ایک لانگ مارچ اختتام کو پہنچا اور کسی کا نفع نقصان کیے بغیر یوں گزر گیا جیسے کسی غریب آدمی کے دنیا میں آنے، زندگی گزارنے اور دنیا چھوڑ جانے سے باقی دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

پاکستان کے سیاسی سٹیج پر آج تک جتنی فلمیں چلی ہیں ان کا انجام ٹریجڈی ہوتا ہے۔ لوگ بھی ٹریجڈی پسند کرتے ہیں یا اس کو زیادہ ریسپانڈ کرتے ہیں۔ دراصل یہاں کے سینما بین کے اس وقت تک پیسے پورے نہیں ہوتے جب تک ان کے آنسو نہ نکلیں۔ ہیرو یا تو مر جاتا ہے یا محبت کا جنازہ اٹھا کر شہر چھوڑ جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کا کردار یادگاری بن جاتا ہے۔ شہر چھوڑ جانے والے ہیرو پھر ولن کا رول پکڑ لیتے ہیں یوں انڈسٹری میں ان کا نام چلتا رہتا ہے۔

ہماری ان فلموں کے زیادہ تر کردار ثانوی یا کریکٹر ایکٹر ہوتے ہیں۔ یہ فلمیں انہی کریکٹر ایکٹرز کے سر پر کامیابی سے چلتی رہتی ہیں۔ یہ کریکٹر اکثر پاکستان ہر ہر سیاسی فلم کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ فلم اس وقت تک چلتی رہتی ہے جب تک یہ کردار زندہ رہتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت جو فلم چل رہی ہے اور جس کے انجام کی کچھ خبر نہیں ہے۔ سٹیج پر ہیرو گنڈاسا لے کر کھڑا ولن کو للکار رہا ہے تو ولن اپنے ٹولے کے ساتھ سینہ تان کر مقابلے کو تیار ہے۔ درمیان میں کریکٹر ایکٹر ناچتے گاتے کبھی ہیرو تو کبھی ولن کی طرف جا رہے ہیں۔ ایسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے جس کا ڈائرکٹر کہیں سیٹ سے دور بیٹھا چائے پی رہا ہے یا اپنی تھکاوٹ دور کر رہا ہے۔

قوم ایک بار پھر اعصابی تناؤ کا شکار ہے۔ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں جمع ہو چکی ہے۔ قومی اسمبلی کے شعبہ قانون نے اسے تکنیکی بنیاد پر درست قرار دیا ہے یعنی اب ہر حال میں تحریک پر ووٹنگ کرانی پڑے گی۔ ابتدائی طور پر وزیر اعظم کے دشمن نما دوستوں نے انہیں یہ کہ کر مطمئن کر دیا کہ سپیکر پی ٹی آئی کے ممبرز کو مخالفت میں ڈالے گئے ووٹوں کو شمار ہی نہیں کرے گا۔ یہ خوش فہمی جلد ہی قانون دانوں نے دور کردی۔

اب دس لاکھ لوگوں کا جلسہ کرنے کی غلط فہمی میں خان کو مبتلا کر دیا گیا ہے۔ اور یہی قوم کے ہیجان کا باعث ہے کیونکہ ان کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمٰن نے پی پی، اے این پی اور ن کے ورکر اکٹھے کرنے کا پلان بنا لیا ہے۔ ایسے حالات میں غریب غربا کے جوان بے روزگار بچوں کو اسلام آباد کے میدان جنگ میں اتارا جائے گا، پھر کسی ماں کی گود اجاڑی جائے گی، کسی دلہن کو بیوہ اور کسی بچے کو یتیم کیا جائے گا۔ اس جنگ کا نتیجہ جو بھی نکلے قرضوں کا بوجھ نہیں اترے گا، آئی ایم ایف سے نجات نہیں ملے گی، آٹا، چینی اور گھی سستے نہیں ہوں گے۔ جاگیرداروں، کارخانہ داروں اور مافیاز کا ایک گروپ دوسرے گروپ کی جگہ سنبھال لے گا۔ ایسے میں بہتر ہے عوام دونوں فریقین کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کسی کی بھی کال پر اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کر لیں۔