پیکا ایکٹ
حالیہ تاریخ میں سب سے زیادہ موضوع بحث رہنے والا قانون ”پروینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ایکٹ رہا۔ ایک بیٹھک میں موجود شخص کا کہنا تھا کہ“ اچھا ہی ہے نا یہ قانون ”جھوٹی خبریں“ نا پھیلائیں صحافی اپنا کام کریں ”۔
اس طرح کی سوچ کے حامل تمام افراد سے گزارش ہے کہ اپنی مصروف ترین زندگی میں سے کچھ وقت نکال کر ان ترامیم پر غور و فکر کریں ہی محض صحافیوں کو مشکلات میں نہیں ڈالے گا بلکہ آپ بھی اپنی کسی فیس بک پوسٹ یا واٹس ایپ سٹیٹس کی وجہ سے 5 سال تک کی قید میں جا سکتے ہیں، یہ قانون پاکستان کے ہر شہری پر لاگو ہے۔
پیکا 2016 میں نافذ ہوا لیکن فروری 20 کو چھٹی کے دن بروز اتوار ایک صدارتی آرڈینینس کے تحت صدر پاکستان عارف علوی کے دستخط کے بعد مندرجہ زیل ترامیم اس قانون کا حصہ بن چکی ہیں :
جعلی خبریں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر اب نہ صرف پانچ سال تک کی قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے بلکہ اسے ناقابل ضمانت جرم بھی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ترمیم شدہ قانون کے مطابق ضروری نہیں کہ یہ غلط خبر کسی شخص سے متعلق ہی ہو۔ اگر یہ خبر کسی ادارے، تنظیم یا کمپنی سے متعلق ہے تو بھی اس قانون کے تحت متاثرہ ادارہ یا تنظیم اس شخص کے خلاف کارروائی کی درخواست دے سکتا ہے۔
اور کچھ صورتوں میں تو غلط خبر یا معلومات کے خلاف شکایت کرنے والا کوئی تیسرا فرد بھی ہو سکتا ہے جو اس خبر سے براہ راست متاثر نہ ہوا ہو۔
لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس قانون میں ”جھوٹی خبر“ کی تعریف بیان نہیں کی گئی، کسی بھی معلومات، خبر یا سوشل میڈیا پوسٹ کو ”جھوٹی خبر“ کہہ کر انتقامی کاروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
پیکا قانون میں کی گئی تبدیلیاں آزادی اظہار کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے نتیجے میں ”زبان“ اور ”قلم“ حکومت کے قابو میں آ گئے ہیں۔


