انتہائی دیانت دار وزیراعظم اور غلیظ زبانی کا کلچر
جب وکلاء موومنٹ زوروں پر تھی اور کالے کوٹ والے اپنے باس کی بحالی کے لئے سڑکوں پر مارچ کر رہے تھے، اس منظر کو دیکھ کر بہت سے حقیقت پسند دانشور بھی عمران خان کے یوٹرن کی طرح آئیڈیل ازم کی حسین جنت میں مستغرق ہو کر یہ کہنے لگ پڑے تھے کہ اب اس دیس میں قانون راج کرے گا اور ریاست آئیڈیل ماں کی طرح اپنے تمام بچوں سے یکساں سلوک کرے گی۔ آئیڈیل ازم کے اس حسین سحر میں بیرسٹر اعتزاز احسن جیسے حقیقت پسند اور زیرک قسم کے قانون دان بھی گرفتار ہوئے ”اور ریاست ہوگی ماں کی جیسے“ ایک شاہکار نظم تاریخ کو دان کر ڈالی۔
اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ان کے ذہن نے یہ قبول کر لیا تھا کہ افتخار چوہدری کی بحالی کے بعد عدلیہ ایک مکمل آزاد ادارے کی حیثیت سے ابھرے گی، مگر شاید وہ آئیڈیل ازم کے سحر میں یہ بھول گئے تھے کہ ریاست کا صرف ایک ادارہ کیسے آزاد ہو سکتا ہے؟ اگر آ زاد ہوں گے تو سب ادارے ہوں گے ایک ادارہ کیسے آزاد ہو سکتا ہے؟ چونکہ اعتزاز اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور پارٹی میں بھی ان کی آزاد رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور محترمہ بے نظیر صاحبہ بھی انہیں آئیڈیلسٹ کہا کرتی تھیں۔
لوگوں نے مان لیا، اس تحریک کی کامیابی کے بعد جو حقیقی منظر نامہ بنا اور جو اس کے نتائج سامنے آئے یقیناً اعتزاز احسن اس سے باخبر ہوں گے۔ اسی قسم کی آئیڈیل ازم کا ڈھنڈورا 126 دنوں کے دھرنے میں بھی پیٹا گیا اور مسلسل ایک بات ہی دہرائی جاتی رہی کہ خان صاحب بہت دیانتدار شخص ہیں اور وہ کسی کے آگے جھکنا پسند نہیں کرتے، حتی کہ سنکی دانشور حسن نثار نے تو یہ پیش گوئی بھی کر ڈالی تھی کہ اگر حاکم نیک اور با صلاحیت ہو تو عوام و ریاست اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
کچھ اسی قسم کی باتیں ایم ٹی جے کے سربراہ نے بھی کی تھیں۔ اب آپ کنٹینر والے آئیڈیلسٹ کا موجودہ وزیر اعظم کی حیثیت سے براجمان خان صاحب کا موازنہ کر لیں فرق واضح ہو جائے گا۔ ”مر جاؤں گا مگر کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا“ کے دعوی کے بعد یوٹرن کی صورت میں اپنی نہیں بلکہ ان کی شرائط پر آئی ایم ایف کے در پر چل کر جانا سے لے کر اب موجودہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی خاطر، ان کی زبان میں کہیں تو ٹکے ٹکے کے سیاستدانوں کے در پر جانے تک کا سفر ان کی جہد مسلسل اور دعووں کی خاک اڑا کر چلا گیا۔
انتقامی سیاست سے خان صاحب کا حقیقی چہرہ تو سامنے آیا مگر اس کے ساتھ ساتھ دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے مسافروں نے اپنے کرائے کی جدوجہد کا معاوضہ ڈبل طریقے سے پورا کیا اور اپنی اگلی منزل کی طرف بڑی کامیابی سے روانہ ہو گئے۔ اب جانے والوں کے متعلق خان صاحب اور کچھ بچے کھچے ٹیم ممبرز کا یہ کہنا ہے کہ یہ پرواز کرنے والے ضمیر فروش یا ایمان فروش ہیں جو اپنے مفادات کے لیے کروڑوں میں بک چکے ہیں۔ سندھ کے مہمان خانہ کے متعلق جہاں یہ بکاؤ لوگ جمع ہیں، اس پاک پارٹی کا موقف ہے کہ یہاں ضمیر فروش بیٹھے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہی ڈرٹی پالیٹکس جہانگیر ترین کے جہاز کے ذریعے کی جا رہی تھی تو کیا وہ حلال ڈیل تھی؟ سندھ حکومت کرے تو حرام ڈیل اگر پی ٹی آئی کا ترین کرے تو حلال ڈیل کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ عقل کل ہونے کا دعوی، ایماندار وزیراعظم کا ٹیگ اور معیشت کی مضبوط ترین ٹیم کے باوجود آؤٹ پٹ کیا نکلا؟ آؤٹ پٹ کی کہانیاں یہ باغی ممبران مختلف چینلز پر سنا رہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ پارٹی چھوڑنے کے باوجود بھی خان صاحب کو ایماندار ڈکلیئر کر رہے ہیں اور ان کے قریبی رفقاء کو اور مشیران کو پیسہ بنانے کے علاوہ موجودہ تباہ کن صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ورلڈ کپ کے مہان ہیرو کو اپنی ناک کے نیچے ہونے والی اس ڈرٹی گیم کا پتا ہی نہیں چلا؟ سرکاری کیمپ سے جن مسافرین کے چلے جانے پر خان صاحب تلملا رہے ہیں کیا خان صاحب کو پتا نہیں تھا کہ وہ ان کے بندے ہی نہیں ہیں بلکہ وہ مختلف جماعتوں کے مہرے ہیں جو ہر ابھرتی طاقت کے پلڑے میں جا گرتے ہیں؟ ان کے مخلص بندے جنہوں نے واقعی پی ٹی آئی کو پروان چڑھانے میں دن رات محنت کی تھی وہ تو کب کے خان صاحب کی ایگو اور نرگسیت کی وجہ سے چھوڑ گئے تھے، اور اب جن ممبران کے سہارے خان صاحب حکومت فرما رہے ہیں وہ تو مختلف پارٹیوں کے لوگ ہیں۔
گلہ تو اپنوں سے اچھا لگتا ہے غیروں سے نہیں۔ آپ کے اپنے بہت زیرک قسم کے لوگ تھے اور وہ آپ کی ذات کا حقیقی سچ جانتے ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ اب دو پارٹی سسٹم کے سٹیٹس کو کے خلاف باتیں کرنے والے دانشور کہاں ہیں جو کہا کرتے تھے کہ اب ملک ایشین ٹائیگر بنے گا؟ ”ہن آ رام جے“ ؟ جلالی و غصیلے حسن نثار صاحب تبدیلی کا یہ نیا تجربہ کیسا رہا؟ آپ کا دانشوری کا چورن تو بک گیا مگر عوام کا کیا؟ ”میں ہی میں ہوں باقی سب مایا ہے“ کا منتر عوام کو کتنا مہنگا پڑے گا اور ان کی آنے والی کئی نسلیں کب تک بھگتیں گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ موجودہ صورتحال پر ماتم کرنے کی بجائے جمہوری طریقہ سے سامنا کریں اور پھپھے کٹنے والی مائیوں کی طرح طعنے دینے کی بجائے اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں اور جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے وہی کچھ دوسروں کے ساتھ کر کے آپ حکومتی دائرے میں داخل ہوئے تھے۔ تاریخ خود کو دہراتی ہے یہی جمہوریت کا سبق ہے۔



بہت خوبصورت تجزیہ۔ بہت شکریہ