ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال


ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے کہ ہم پر جو سوچ مسلط کردی جاتی ہے ہم بغیر علم و تحقیق اسی سوچ سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ سوچ مسلط کرنے والی اشرافیہ اتنی مہارت رکھتی ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوانوں کی سوچنے کی صلاحیت کو بھی سلب کر لیتی ہے۔ میرا تو پاکستان کی سیاست سے یقین اس وقت سے اٹھ گیا جب عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد اپنی ہر کہی ہوئی بات سے منحرف ہو گیا۔ جب میری آنکھوں پر پڑی یہ پٹی کھلی تب تک دیر تو ہو چکی تھی لیکن مجھے اتنی سمجھ آ گئی کہ کس طرح سکرپٹ تیار کر کے ڈرامے چلائے جاتے ہیں اور کس طرح میڈیا کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے۔

پچھلے کئی دنوں سے عدم اعتماد تحریک کی بازگشت کے ساتھ ہی عوام کے سیاسی رجحان بھی تبدیل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ہمارے میڈیا پر صبح سے شام تک عدم اعتماد تحریک کے ممکنہ نتائج پر بحث کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ عوام بھی سیاسی گرمی کی تپش سے خود کو محفوظ نہیں کر پا رہی اور ہر بندے کے منہ مبارک پر سیاسی بحث چھیڑی ہوئی ہے۔ چائے کی دکان سے لے کر نائی کی دکان تک اسی تحریک پر بحث ہے اور ہر کوئی اس انتظار میں ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

سندھ اسمبلی میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ کے واقعہ کے بعد عوام کا سیاسی شعور جس سطح تک پہنچ چکا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ جلد ہی پبلک اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہو جائے گی۔ یہ سیاسی شعور ہمیں جمہوریت کی طرف لیے جا رہا ہے اور اسی ایک ایک قطرہ سے عنقریب ایک قلزم بن جائے گا (انشاءاللہ) ۔

اب ہمیں اپنے فیصلوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عمران خان کو جو لوگ سپورٹ کرتے رہے تھے وہی سارے لوگ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کچھ دنوں پہلے ان کو گالیاں دیتے نظر آئے۔ اب وہی سارے لوگ پھر سے خان صاحب کو سپورٹ کرنے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کی ذات سے ہٹ کر اس کے کام کو تنقید یا تعریف کا نشانہ بنائیں۔

میری تحریر کا مقصد اس بات کو باور کروانا تھا کہ اب ہمیں اپنی غلطیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اب ہمیں اپنی رائے پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے کہ یہ نہ ہو کہ کل کو ہمیں اپنے انتخاب کی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپانا پڑے۔ ہمیں اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے سوچ بچار کی ضرورت ہے تاکہ میڈیا کی کہی ہوئی اور سنی سنائی باتوں، سے ہٹ کر ہم عملاً خود کی تحقیق سے چیزوں کو پرکھیں

Facebook Comments HS