خطّے میں امریکی نقشِ قدم اور جمہوری افغانستان
پاکستان کی اہم جغرافیائی حیثیت، ایک طرف تو پاکستان کے لیے بہت سے معاشی اور سماجی امکانات کا باعث ہے، وہیں دوسری طرف اس اہم حیثیت کے بہت سے دیگر سٹریٹیجک مضمرات بھی ہیں، جو مثبت بھی ہیں، اور منفی بھی، ان اثرات کو نظر انداز کرنا پاکستان کے لیے کسی طرح سے بھی ممکن نہیں ہے۔ ہمارا اہم ترین ہمسایہ ملک افغانستان اور اس کے عوام پچھلے چالیس سال سے زائد عرصے سے جنگوں، بدامنی اور انتشار کا شکار رہے ہیں، اس صورتحال کے گہرے اور منفی اثرات مختلف طریقوں سے پاکستان پر بھی شدید طور سے مرتب ہوتے رہے ہیں، افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان کو تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں جن میں سے اکثر بوجوہ یہاں مستقل طور پر آباد بھی ہو گئے، اور اب پاکستان میں ان کی تیسری نسل ہے، جو پاکستان میں ہی پیدا ہوئی، دوسری طرف افغانستان میں جنگ اور بدامنی نے جہاں پاکستان میں ”انفرادی“ طور پر کچھ افراد یا خاندانوں کی ”تقدیر“ مثبت یا منفی طور پر بدل ڈالی، وہیں پاکستان کے سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے منفی اثرات ڈالے، اور جدید نوعیت کے ناجائز اسلحہ، اور منشیات کے پھیلاؤ سے پاکستان کے روایتی روادار معاشرے اور اس کے تانے بانے یعنی فیبرک کو شدید طور پر متاثر کیا اور نقصان پہنچایا۔
اس تمام ماضی اور اس کے پاکستان اور افغانستان کے عوام پر مرتب ہوئے اثرات کو دیکھتے ہوئے، پاکستان کی خطے میں مستقل امن، تجارت اور خوشحالی کی خواہش فطری ہے، لیکن ہمیں ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جبر کے ذریعے قائم ہوا یا کروایا گیا امن، کبھی دیرپا نہیں ہوا کرتا، اور یکساں اجزاء کے ساتھ دہرائے گئے تجربے کا نتیجہ، ہر بار حسب سابق ہی نکلتا ہے، ہمیں یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ کانٹے بو کر پھولوں کی فصل حاصل نہیں کی جا سکتی۔
اس وقت افغانستان پر مسلح، جنگجو طالبان کا قبضہ ہے، اور صورتحال یہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک نے ان کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے، گو کہ پاکستان بوجوہ اس مقصد کے لیے مسلسل اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، کہ دنیا کے کچھ ممالک یا کم ازکم اسلامی ممالک میں سے چند ملک طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت تسلیم کر لیں، جب تک ایسا نہیں ہو جاتا افغانستان پر قابض طالبان کی قانونی اور اخلاقی پوزیشن صرف ایک قابض مسلح گروہ کی سی ہی ہے، جس نے افغانستان اور اس کے عوام کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا رکھا ہے۔
طالبان جب تک آزادانہ الیکشن کروا کر افغان عوام کی کم از کم سادہ اکثریت کی حمایت ظاہر نہیں کرتے، اس وقت تک دنیا کے سامنے ان کی حیثیت قابض مسلح گروہ کی ہی ہوگی۔ پاکستان اور افغانستان کے ممالک اور عوام کی ترقی کے لیے ضروری ہے، کہ ہمارے ہمسائے میں ایک آزاد، خوشحال اور جمہوری افغانستان ہو، دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان بھائی چارہ اور دوستی پر مبنی خوشگوار تعلقات ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے صورتحال اس کے مخالف ہے، دراصل قابض طالبان کو پوری منصوبہ بندی کے ساتھ امریکی حمایت سے اور امریکہ کے ساتھ ہوئے طالبان کے معاہدے کے تحت، افغانستان پر مسلط کیا گیا ہے، اور اس کام میں پاکستان نے امریکی حکم اور ہدایت پر ہی ان کی افغانستان کا قبضہ دلانے میں پوری طرح مدد کی۔
افغانستان میں جاری بدامنی اور لاقانونیت کا ماحول پیدا کرنے کی امریکی کوشش اور خواہش کے پس منظر میں پاکستان کی ناکہ بندی کی خواہش ہی ہے، تاکہ پاکستان کے وسطی ایشیاء اور روس کے ساتھ زمینی اور تجارتی رابطے بحال کرنے کی خواہش اور کوشش کا راستہ روکا جا سکے۔ اب بھی امریکہ یو این اور دیگر چینلز کے ذریعے طالبان کی بالواسطہ طور پر محدود مدد کر رہا ہے۔ اب ان ہی کی سرپرستی سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ”ٹی ٹی پی“ کے درندے دوبارہ پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف سرگرم ہو چکے ہیں، اربوں روپے کے سرمائے سے افغان سرحد پر نصب باڑ علانیہ طور پر اکھاڑی جاتی ہے، سرحد پر واقع ہماری فوجی چوکیوں پر حملے کئیے جاتے ہیں، اور ہماری بے بسی کی انتہا یہ ہے کہ ہم واضح شواہد کے باوجود اس دہشت گردی کے سرپرست ممالک اور مراکز کا نام تک نہیں لے سکتے، اور اب ایسی خبروں کے میڈیا بلیک آؤٹ کو ہی مسئلے کا حل سمجھ لیا گیا ہے۔
افغانستان میں امریکی فوج جاتے ہوئے عام استعمال کا سامان تباہ کر کے گئی، جس کے سکریپ کے ڈھیر بگرام کے فوجی بیس اور دیگر فوجی اڈوں کے باہر دیکھے جا سکتے تھے، لیکن وہ طالبان کے لیے ستر ارب ڈالر کا جدید اسلحہ، ایمونیشن، فوجی گاڑیاں اور دیگر فوجی سامان بالکل درست یا نئی حالت میں چھوڑ کر گئے۔ جو ان کے کئی سال استعمال کے لیے کافی ہے، اور اس اسلحہ کو کس پر استعمال کیا جائے گا یہ بھی واضح ہے۔ حال ہی میں کوئٹہ میں ہوئے فوجی کیمپوں پر دہشت گردوں کے حملوں میں یہی جدید ترین امریکی اسلحہ، اعلیٰ درجے کے نائٹ وژن اور کمیونیکیشن آلات استعمال کئیے گئے۔
جو افغان طالبان کچھ عرصہ قبل تک ٹیپیں لگی گھسے ہوئے بیرلز والی پرانی کلاشنکوف رائفلیں اٹھائے دکھائی دیتے تھے، اب وہ سب جدید امریکی ایم فور اور دیگر جدید اسلحہ سے مسلح دکھائی دیتے ہیں، ان کو دی جانے والی لائف لائن سپورٹ میں امریکی فٹ پرنٹ اور سرپرستی واضح ہے، اب کوئی یہ سب شواہد سامنے ہوتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر لے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ ”پلان بی“ کے تحت افغانستان کے کچھ محفوظ اور مخصوص بنائے گئے علاقوں میں ”داعش“ کو منظم کیا گیا ہے، اور شواہد بتاتے ہیں کہ ان کے لیے پاکستان کے علاقوں سے بھی افرادی قوت کی بھرتی اور تنظیم نہ صرف مسلسل جاری ہے بلکہ کچھ عرصے سے اس عمل میں تیزی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان اور یہاں کے مختلف اداروں میں اپنے ”اثر و رسوخ“ کو استعمال کرتے ہوئے یہاں سے طالبان کے قبضے کو تقویت دینے کے لیے سہولت کاری کروائی جا رہی ہے بھارت سے آنے والی افغانستان کے لیے امداد کے لیے، پاکستانی زمینی راستوں کے استعمال کی اجازت بھی امریکی تجویز یا حکم پر ہی دی گئی، اور اس ضمن میں اتنا بھی خیال نہیں کیا گیا کہ ماضی قریب تک بھارت کی طرف سے افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی منظم کرنے کے بارے میں ہمارا قومی موقف کیا تھا، اب اسی بھارت کو اسی کی شرائط پر افغانستان تک رسائی دی گئی۔
پاکستان میں منعقد کروائی جانے والی موجودہ او آئی سی کانفرنس کے پس پردہ بھی یہی امریکی خواہش ہے، کہ افغانستان پر قابض طالبان کے قبضے کو تقویت دینے کے لیے اسلامی ممالک امداد دیں، افغانستان کے عوام کی پرامن اکثریت جن آلام و مشکلات کا اس وقت سامنا کر رہی ہے اس کا تقاضا ہے کہ دنیا اور اسلامی ممالک ان کو فراخ دلی سے امداد دیں لیکن یہ مطالبہ بھی اس حالیہ او آئی سی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے کیا جانا لازمی ہے، کہ افغانستان کے عوام کو ان کا جمہوری حکومت سازی کا حق دیا جائے، اور ایک جمہوری افغانستان کے قیام کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں کی جائیں تاکہ چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد افغانستان کے عوام کے مصائب کا صحیح معنوں میں خاتمہ ہو سکے، لہذا اس مطالبے کو ”او آئی سی“ کے جاری اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست رکھا جانا چاہیے۔
سیاسی اور سٹریٹیجک حالات ویسے نہیں ہوا کرتے جیسے میڈیا پر پیش کروائے جاتے ہیں، بلکہ اس دور میں میڈیا کو کسی بھی مقصد یا جنگ میں ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ رائے عامہ کو غلط اطلاعات کے ذریعے درست حقائق اور منصوبوں سے بے خبر رکھا جائے، اور اس طرح رائے عامہ کو حسب منشاء سمت بھی دی جائے، اس ضمن میں پرنٹ میڈیا، اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا بھی بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔
اور ایسی مجموعی فضاء پیدا کی جاتی ہے کہ کسی کے مفاد اور حربوں کو رائے عامہ اپنا مفاد اور اپنے ملک کے کارنامے سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں، یہ ایسا ہی ہے کہ کروسیڈ کو عوام کے سامنے جہاد کے نام سے، اور طور پر، پیش کیا جائے۔ اور یہی اس میڈیا وار کو منظم کرنے والوں کا اصل مقصد ہوتا ہے۔


