اسلامی سال کتنا اسلامی ہے؟


اسلام میں قرآن مجید اور سنت رسولﷺ ہی کسوٹی ہیں۔ ظہور اسلام کے وقت عربوں میں تاریخ جاننے کے چند طریقے معروف تھے۔ وہاں میلادی یا عیسوی سال بھی کم و بیش متعارف تھا، البتہ قمری سال کا رواج زیادہ تھا، جس کے مہینوں کے دنوں کی تعداد کو لوگ چاند دیکھ کر معین کیا کرتے تھے۔ کچھ عرب قریش کی مانند کسی غیر معمولی واقعے سے اپنے دنوں کا حساب لگایا کرتے تھے، جیسا کہ عام الفیل کے اتنے سال بعد یا بعثت کے اتنے سال بعد ۔ ظہور اسلام کے بعد تاریخ جاننے کے لئے مسلمانوں میں قریش والا طریقہ ہی معمول رہا۔

پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات مبارکہ میں اور بعد ازاں خلیفہ اول کے دور میں بھی قریش کے ہاں مروجہ طریقہ کار کو ہی اپنایا گیا۔ تاریخی اسناد کی بنیاد پر خلیفہ دوم کے عہد میں جب دنیا کے تین حصوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی تو اب اتنی بڑی سلطنت میں خط و کتابت، جزیہ و خراج، تجارتی لین دین اور ٹیکس کو منظم کرنے کے لئے پرانے طریقے سے کسی تاریخ کا تعین کرنا خاصا دشوار ہو گیا تھا۔ ایک مرتبہ خلیفہ دوم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو ایک سرکاری خط لکھا۔

انہوں نے جوابی خط میں اس مشکل کا ذکر کیا کہ آپ کے خطوط پر تاریخ کا اندراج نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مشکل پیش آتی ہے۔ ظاہر ہے مشکل یہی تھی کہ یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کون سا خط پہلے والا ہے اور کون سا بعد والا۔ چنانچہ اس دور میں مسلمانوں کے ہاں پہلی مرتبہ ایک سال مشخص کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ 17 ہجری ﷺ کو مسجد نبویﷺ میں اس سلسلے کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا۔

اس اجلاس میں مختلف تجاویز سامنے آئیں۔ حضرت امام علی ؑنے مسلمانوں کے حساب کتاب کے لئے ہجرت پیغمبر ﷺ کو مبداء قرار دینے کا مشورہ دیا۔ اب قطعیات تاریخ کے مطابق پیغمبر اسلام ﷺ نے مکے سے مدینے کی طرف 16 ستمبر 622 عیسوی اور یکم ربیع الاول 1 ہجری کو ہجرت کی۔ یوں پیغمبر اسلام ﷺ کی ہجرت کو مبداء تو مانا گیا لیکن سال کا آغاز ربیع الاول کے بجائے محرم الحرام سے آغاز کیا گیا۔ اس تبدیلی کی جتنی بھی تاویلیں اور تفسیریں کی جائیں، حقیقت حال یہ ہے کہ ہجرت پیغمبرﷺ یکم ربیع الاول کو ہوئی اور ہجری سال کی ابتدا دو ماہ گزشتہ شدہ یعنی ماہ محرم الحرام سے کی گئی۔

یہی مہینے انہی ناموں کے ساتھ اسلام سے پہلے عربوں میں رائج تھے۔ اسلام سے پہلے بھی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہی ہوتا تھا اور اسلام سے پہلے جو مہینے محترم شمار کیے جاتے تھے، آج بھی وہی مہینے محترم ہیں۔ یعنی خلیفہ دوم کے زمانے میں صرف یہ طے کیا گیا کہ مسلمان اپنی تاریخوں کا تعین نبی اکرمﷺ کی ہجرت سے کریں گے۔ باقی چاند دیکھ کر مہینے کے دنوں کا تعین، مہینوں کی تعداد، مہینوں کی ترتیب، مہینوں کے نام، حرمت والے مہینے، نیز سال کا ابتدائی مہینہ و آخری مہینہ یہ سب ظہور اسلام سے پہلے والا ہی ہے۔

تاریخی شواہد کی روشنی میں ظہور اسلام سے پہلے مختلف عرب قبائل اپنی ضرورت کے مطابق مہینوں کو آگے پیچھے بھی کر لیتے تھے، جس سے جنگ و امن نیز تجارت و حج جیسے امور میں خلل پڑتا تھا۔ قرآن مجید کی سورہ توبہ کی آیت 36 اور 37کے مطابق اللہ تعالی نے بھی سابقہ حرام مہینوں کی حرمت کی تائید کی ہے اور مہینوں کو آگے پیچھے کرنے سے منع کیا ہے۔

لہذا یہ واضح ہے کہ ہجری کیلنڈر یا ہجری جنتری کا آغاز اور رواج، ہجرت کے بہت بعد ، پیغمبر اسلام ﷺ اور خلیفہ اول کے بھی بعد یعنی ہجرت کے سترہویں سال سے شروع ہوا۔

یہ بتانا بہت ضروری ہے چونکہ ایسی چیزوں پر بعد ازاں عقائد استوار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً مولوی عبدالکریم شعیب صاحب ایک ہندوستانی تھے۔ انہوں نے اس وقت کے برما اور آج کے میانمار کی طرف ہجرت کی۔ وہاں انہوں نے 786 کے نام سے ایک جنتری نکالی۔ 1898 ء میں انہوں نے اپنی جنتری میں یہ پیشین گوئی کی کہ سو سال کے بعد برما میں مسلمانوں کا عروج ہو گا۔

1998 ء میں ایک بودھ بھکشو نے اس جنتری کی پیشین گوئی کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا کہ 786 صرف ایک جنتری ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے عروج کی ایک جہادی تحریک ہے۔ اس نے 786 کو ایک جہادی کوڈ سے تعبیر کیا اور 786 کی جہادی تحریک کو کچلنے کے لئے 969 کے کوڈ سے بدھ بھکشووں کی ایک سپاہ بنائی۔ ”آشین ویراتو“ کو اس لشکر بھکشوی کا امیر بنایا گیا۔ اس کے بعد وہاں ایسی فضا بنائی گئی کہ اقوام متحدہ کے مطابق وہاں کے مسلمان آج کرہ ارض پر بسنے والی سب سے مظلوم اور بے بس مخلوق ہیں۔ آج میانمار وہ واحد ملک ہے، جو مذہبی تعصب کی بنیاد پر اپنے ہی شہریوں کو اپنی ریاست کا باشندہ تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

لہذا ہم بتانا یہ چاہتے ہیں کہ اگر قرآن و سنت کو معیار مان لیا جائے تو پھر اس اعتبار سے ہمارے ہاں اسلامی سال کا کوئی تصور نہیں ہے۔ قرآن مجید میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ مسلمان اپنے قبلے کی مانند اپنا ایک الگ سال طے کریں اور نہ ہی رسولﷺ کی زندگی میں الگ سے کسی اسلامی سال کی بنیاد رکھی گئی۔

عوام کو حقائق سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہ تحقیق نہیں کرتے، کتابیں نہیں چھانٹتے اور مقالہ جات میں مغز ماری نہیں کرتے۔ جس بات کا ڈھنڈورا پیٹا جائے، لوگ اسی پر ایمان لے آتے ہیں۔ اگر انہیں یہ یقین دلا دیا جائے کہ فلاں کیلنڈر، سال یا جنتری کا تعلق ہمارے عقیدے سے ہے تو اس کے بعد اس سال یا کیلنڈر کے انکار سے عقیدے کی توہین کا پہلو تو لوگ خود بخود ہی نکال لیتے ہیں۔ مبادا کچھ برس کے بعد یہ بھی مسلمانوں کے مقدسات اور عقائد میں شامل ہو جائے اور پھر اس کا انکار بھی توہین مذہب، نیز کفر و ارتداد کا سبب ٹھہرے۔

Facebook Comments HS