گنگو بائی کاٹھیا واڑی


آج کل ایک فلم ”گنگو بائی کاٹھیا واڑی“ سینما گھروں کی زینت بنی ہوئی ہے جو کہ کھڑکی پر کافی رش لے رہی ہے۔ مجھے بھی اشتیاق ہوا اور فلم دیکھنے چلا گیا۔

یہ فلم حقیقت پر مبنی گنگو بائی کی سچی کہانی ہے جو سید حسین زیدی کی کتاب ممبئی کی مافیا ملکہ (Mafia Queens of Mumbai) سے بنائی گئی ہے۔ فلم میں عالیہ بھٹ اور اجے دیوگن نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

گنگو بائی کا اصل نام گنگا تھا جو ایک بہت ہی تعلیم یافتہ خاندان سے تھی جسے بچپن سے ہی ممبئی کی فلموں میں ہیروئن بننے کا شوق تھا۔ اس کا ایک دوست اس کو دھوکا دے کر ممبئی لے آتا ہے اور ہیروئن بنانے کے بہانے اسے بازار میں بیچ دیتا ہے۔ وہ بہت روئی، چلائی لیکن جو ان گلیوں میں آ گیا، وہ واپس کہاں جا سکتا ہے۔ گنگا اب گنگو بائی بن گئی تھی۔

گنگو بائی نے اپنے مشکل حالات میں بھی طوائفوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا شروع کی اور وہ جلد ہی ان کی لیڈر بن گئی۔ اس کی جان پہچان انڈر ورلڈ ڈان کریم لالہ سے ہو گئی جس نے اس کو راکھی باندھ دی اور اسے بہن بنا لیا۔ گنگو بائی اب چار ہزار عورتوں کے علاقے کی سربراہ تھی۔

اس نے ہفتہ میں ایک دن ان عورتوں کو چھٹی دلائی۔ بچے ضائع کرنے کی بجائے، بچوں کی پرورش کی اور ان کو اسکول میں داخلہ کروایا۔

داخلہ کرواتے وقت پرنسپل نے پوچھا ان بچوں کی ماں کا نام تو گنگو نے جواب دیا گنگو بائی۔ پرنسپل نے پوچھا باپ کا نام تو گنگو نے جواب دیا ”ماں کا نام کافی نہیں ہے؟

اسکول والوں نے کورٹ کے ذریعے اس علاقے کی طوائفوں کو نوٹس دیا کہ آپ کی وجہ سے بچوں پر برا اثر پڑ رہا ہے، آپ لوگ علاقہ چھوڑ دیں۔ گنگو بائی نے جواب دیا کہ ہماری برائی سے آپ پر اثر پڑ رہا ہے۔ آپ کی اچھائی سے ہم پر اثر کیوں نہیں پڑ رہا؟

گنگو بائی چاہتی تو اس علاقے سے نکل سکتی تھی لیکن اس نے علاقے کی چار ہزار عورتوں کا سوچا اور ان کے حقوق کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ گنگو بائی اتنی مشہور اور با اثر ہو گئی کہ کانگریس نے ووٹ حاصل کرنے کے لئے گنگو بائی سے رابطہ کیا۔

گنگو بائی نے شرط رکھی کہ وزیر اعظم نہرو سے ملاقات کروائی جائے۔ نہرو گنگو بائی سے ملا لیکن یہاں بھی گنگو بائی نے اپنے لئے کچھ مانگنے کی بجائے نہرو سے درخواست کی اس پیشے کو قانونی درجہ دیا جائے تاکہ زبردستی خرید و فروخت کو روکا جا سکے۔ نہرو نے جواب دیا کہ وہ اس مسئلے کو زیر بحث لائے گا۔

گنگو بائی کی آزاد میدان انڈیا میں ایک جلسے میں کی گئی تقریر کے کچھ مندرجات جس میں کچھ نیتا بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ توجہ ہو،

” میں گنگو بائی کماتھی پورا علاقے کی صدر۔ مجھے اسٹیج پر بلاتے ہوئے خاتون منتظم سے شری کماری گنگو بائی نہیں بولا گیا۔ کنواری آپ نے چھوڑا نہیں اور شری متی کسی نے بنایا نہیں۔ آپ مجھے بلاتے وقت صحیح طور پر بول نہیں پا رہی تھیں، ہم  نے تو جیا ہے۔

” بھاشن واشن دینے کی عادت نہیں ہے مجھے۔ جو کہتی ہوں دل سے کہتی ہوں۔ اگر برا لگے تو معاف کر دینا۔ سماج کے ٹھیکیدارو میری بات دھیان سے سننا۔ یہاں بیٹھے سب ہی لوگوں کا کچھ نہ کچھ تو دھندا ہوتا ہو گا۔ کوئی ڈاکٹر ہو گا، کوئی انجینئر، کوئی ٹیچر۔ کوئی چنا بیچتا ہے، کوئی دارو، کوئی صابن، کوئی دال، چاول، آٹا۔ دماغ والا دماغ بیچتا ہے، ہمارا دھندا شریر کا ہے سو ہم شریر بیچتے ہیں۔

بدن تڑوا کر کام کرتے ہیں، کیا غلط کرتے ہیں۔ ان کو صرف ہماری دکان پر اعتراض کیوں؟ صرف ہمارا ہی دھندا بے عزت کیوں؟ آپ کے محلے سے لوگ ہمارے محلے آتے ہیں، پھر بھی ہمارا ہی محلہ بدنام کیوں؟ ہمارے بنا تو سورگ بھی ادھورا ہے بھائی! تھوڑی تو عزت دینے پڑے گی، ہے کہ نہیں!

سچ کہوں تو آپ سے زیادہ عزت ہے ہمارے پاس۔ آپ کی عزت ایک مرتبہ گئی تو گئی۔ ہم تو ہر رات عزت بیچتے ہیں، سالی ختم نہیں ہوتی!

آپ ہمیں جو بھی سمجھو، ایک دم اصول والی عورتیں ہیں ہم۔ ہمارے دروازے پر جو کوئی بھی آئے، ہم کسی کو حقارت سے نہیں دیکھتے۔ ہم نہ مذہب پوچھتے ہیں نہ ذات۔ کالے سے پیسے زیادہ نہیں گورے سے کم نہیں۔ امیر ہو یا غریب، سب کا ریٹ ایک۔ جب ہم کسی سے بھید بھاؤ نہیں کرتے تو ہم سے یہ بھید بھاؤ کیوں؟ ہم ہی آپ کے سماج سے باہر کیوں؟

ابھی ایک سیاستدان ایکتا اور سمبھاونا کا پاٹ کر رہے تھے۔ کبھی آئیے گا ہمارے محلے، ہم آپ کو سکھائیں گے یہ سب۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہیں ہم۔ ہیں ہم، جیسے

پولیٹیشن کے لئے ووٹ ہیں ہم
پولیس کے لئے ہفتے کا نوٹ ہیں ہم
مردوں کے لئے ٹھنڈ کا کوٹ ہیں ہم
اور عورتوں کے لئے،
پتا تو ہے عورتوں کو کہ ہم کیا ہیں
ہم دل میں آگ چہرے پر گلاب رکھتے ہیں
مٹا کر آپ کے مردوں کی بھوک
ہم ان عورتوں کا رباب رکھتے ہیں

زرا سوچو تو اگر کماتھی پورہ نہ ہو تو، جنگل بن جائے گا یہ شہر۔ عورتیں کا ریپ ہو گا، پریوار بکھر جائیں گے۔ رشتے بدنام ہو جائیں گے اور ہماری ہندوستانی تہذیب کا ناس ہو جائے گا اور اس کے ذمہ دار ہوں گے آپ۔

ارے ہم عورتیں صرف آپ کی آبرو ہی کی نہیں بلکہ اس سماج کی بھی پہرے دار ہیں۔ اس لیے مجھے طوائف ہونے پر اتنی ہی فخر ہے جتنا آپ کو ڈاکٹر یا ٹیچر ہونے پر ہے۔

اور آپ لوگ ہمیں ہی ہمارے علاقے سے نکال دینا چاہتے ہو۔ آپ لوگ ہمارے بچوں کو اسکول سے بھی نکال دینا چاہتے ہو۔ میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ ہمارے بچوں کو بھی شکشا کا حق ہے کہ نہیں؟ ہمارے بچے بھی آپ کے بچوں کی طرح ہندوستان کا کل ہیں کہ نہیں؟

آزاد میدان کی اسی تقریر کے بعد نہرو  نے گنگو بائی کو دہلی بلایا تھا۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “گنگو بائی کاٹھیا واڑی

  • 25/03/2022 at 10:02 صبح
    Permalink

    خوبصورت انداز میں بہترین تحریر

    • 25/03/2022 at 8:55 شام
      Permalink

      Thanks

Comments are closed.