Perfume: The Story of a Murderer 2006


میں ایک مرغزار کے کنارے اپنے رفیق کے ساتھ چلتا جا رہا تھا اردگرد کئی چہرے کئی افراد کچھ آنکھوں میں رکے بغیر اور کچھ دل تک میں اتر کر چند لمحے قیام کے بعد آگے نکل جاتے۔ جتنے چہرے اتنی طرح کی خوشبو ایک پری چہرہ میرے قریب سے گزری چہرے پر مسکراہٹ کا لیپ کیے اپنی سہیلیوں کے ساتھ نقرئی قہقہے لگاتی گزری لیکن اس کی خوشبو تو سسکیوں کی کہانی سنا رہی تھی آنسوں میں جلی خوشبو۔

ایک اتراتی بھربھرے جسم والی عورت ایک امیر شوہر کے ساتھ بینچ پر بیٹھی نخرے سے اپنا مقام مزید بلند کر رہی تھی لیکن اس کے جسم کی باس میں اس کے شوہر کی خوشبو نہیں تھی وہ کسی مضبوط پٹھوں والے غریب کی خوشبو تھی یعنی، میں نے آنکھ موندھ لی اور سوچا کہ کیا خوشبو جو کہانی سناتی ہے کبھی ایسا بھی تو ہو گا کہ کہانی خوشبو سے جنم لے۔ یہ سب تو میرا تخیل تھا لیکن ایک سچی کہانی ہے فرانس کی۔ اتنی ہی سچی جتنی کہانی کی ابدیت میں سچائی ہے۔

پرفیوم بھی کہانی ایک ایسے فرد کی جو اپنے ساتھ ازلی نحوست لیے پیدا ہوا۔ اس کی نحوست اس سے متعلقہ ہر چیز کو نگل جاتی تھی لیکن اس نحوست میں اس کے پاس خوشبو کی کہانی پڑھنے کی منفرد صلاحیت موجود تھی وہ خوشبو سے لکھی کسی بھی شے کی تحریر پڑھ لیتا۔ اسے کوئی اور زبان سمجھ نہ آتی لیکن باس کو اس کی عمیق گہرائی تک سمجھتا۔ وہ خوشبو کو کشید کرنا جانتا تھا وہ ہر خوشبو کو بنا سکتا تھا۔ اس کے لیے کوئی مادی جسم حتی کہ اس کی محبت بھی اہم نہ تھی بلکہ صرف اس کی خوشبو۔ لیکن پھر اس نے ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ اس نے خوشبو کشید کرنے اور خوشبو کی تحریر پڑھنے کے بجائے خود کو کشید کو خوشبو میں ڈھالنے اور خوشبو سے خد و خال بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ پہلے وہ خوشبو سے واقعات پڑھتا تھا اب نے ایک تجربہ کرنے کی ٹھانی کہ خوشبو سے واقعہ بنایا جائے۔

پروین شاکر نے کیا خوب کہا تھا کہ ”وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا“
بس یہ کہانی کی خوشبو نہیں خوشبو کی کہانی بنانے کا تجربہ ہے۔

Facebook Comments HS