عورت


لفظ عورت جونہی زبان سے ادا ہوتا ہے تو اس وقت ہمارے ذہن میں ایک جسمانی لحاظ سے نازک، ارادے کی مضبوط، ممتا سے بھرپور خدا کی خوبصورت تخلیق کی تصویر وجود میں آتی ہے، اللہ تعالیٰ نے عورت کے وجود میں ایک کشش رکھی، اس کے دل میں محبت پیدا کی اپنی اولاد کے لیے، عورت کو حساس پیدا کیا، عورت کی ذات میں قربانی و ایثار رکھا، اسے کئی ایک مقام سے نوازا اسے بیٹی پیدا کیا تو وہ باپ کی عزت ٹھہری اسے اگر بیوی کا درجہ دیا تو اس سے مرد کے ایمان کو مکمل کیا اور سب سے بڑھ کر عورت کو ماں کا مقام دیا اور جنت عورت کے قدموں میں رکھ دی، اور مرد کو یہ حکم دیا کہ اگر اسے جنت کو پانا ہے تو ماں کی عزت و احترام میں کمی نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑے میں پیدا کیا، حضرت آدم ع کو پیدا کیا تو وہ اکیلے تھے جنت جیسی سکون دہ اور خوبصورت ترین جگہ میں بھی تنہائی سی محسوس ہوئی، تب خدا تعالیٰ کی ذات بابرکت نے حضرت حوا ع کو پیدا کیا اور دونوں کے دلوں میں محبت پیدا کردی، دونوں تنہائی میں ایک دوسرے کے مونس ٹھہرے، قابل غور نقطہ یہ ہے کہ حضرت آدم ع جنت جیسے مقام میں بھی تنہائی کا شکار ہو گئے تب حضرت حوا ع ان کی مونس بنی، اس سے آپ عورت کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،

اس میں کوئی شک نہیں عورت کو جو مقام و منزلت دیا گیا اسے وہ مقام آج تک اسے نہیں ملا، صدیوں سے ہی عورت پہ طرح طرح کے ظلم ہوئے، کبھی اسے پیدائش پہ دفن کیا گیا، تو اگر کبھی اسے زندہ رہنے کا حق دیا گیا تو اسے بازار حسن کی زینت بنا دیا گیا، جہاں اس کی عصمت پامال کی گئی، نہ صرف یہ صدیوں سے پہلے تھا بلکہ آج ہم نئے زمانے میں ہیں جہاں سائنس عروج پہ ہے ہم دیکھتے ہیں کہ عورت کو اس کے حقوق میسر نہیں، آج بھی اسے پیدائش پہ مار دیا جاتا ہے، تو اگر زندہ رکھا جائے تو بازار حسن کی زینت بنا دیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر عورت کے ساتھ اس ظلم کی ابتدا کب اور کہاں کیسے ہوئی؟

تمام ادیان الٰہی نے ہمیشہ عورت کو عزت و عظمت والا مقام دیا لیکن اس میں شک نہیں کہ عورت پہ ہونے والے ظلم میں غیر تربیت یافتہ اور ادیان الٰہی سے دور مرد حضرات کا ہاتھ رہا ہے لیکن آپ کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ عورت خود بھی خود پہ ظلم کروانے میں شامل ہے، آج اگر کہیں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو وہاں مرد سے پہلے عورت کے روپ میں ساس ہی کو سب سے پہلے اعتراض ہوتا ہے۔

خود پہ صدیوں سے ظلم اور خود کو مرد سے کمتر سمجھے جانے اور اپنے حقوق کی پامالی کی وجہ سے آج عورت اس نہج پہ ہے کہ وہ ان حقوق کی دعویدار ہے جو اس کی عزت و توقیر کے لئے انتہائی غیر مناسب ہیں، اب مشرقی عورت حقوق کی طلب گار ہے جائز ہیں یا ناجائز، اس میں کوئی شک نہیں کہ آج اگر عورت غیر اسلامی حقوق کی طلبگار ہے تو اس میں اسلام دشمن قوتیں بھی شامل ہیں، اس کے باوجود بھی یہ سوال باقی ہے کہ جو ہم نے اس پہ ظلم کیا، کیا اس کا ازالہ ہم کبھی کر سکتے ہیں؟

اسلام دشمن عناصر تو ہمیشہ ہی سے اسلام کے دشمن ہیں لیکن ہم نے بھی عورت کو وہ حقوق نہیں دیے جو اسے اسلام نے دیے، آج وہ مرد کو اپنا مدمقابل سمجھتی ہے خود کو اس سے غیر محفوظ جانتی ہے، حالانکہ مرد کو اس کا محافظ بنایا گیا، وہ یہ سمجھتی ہے کہ دنیا میں مردوں کا نظام ہے اور گھروں میں بھی، اسے مردوں کے نظام سے آزادی چاہیے، آج عورت پدر سری نظام کے مقابل میں مدر سری نظام چاہتی ہے، جس میں ایک عورت کے ہاتھ میں گھر کا اور دنیا کا نظام ہو، آج کچھ عورتیں ایسی ہیں جن کو آزادی چاہیے مرد سے، مذہب سے، کلچر سے، تہذیب سے، وہ چاہتی ہے کہ اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہو، مرد تو بالکل بھی نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ایسی آزادی کہیں بھی ممکن ہے؟

کیا آپ آزادی کے نام پہ کچھ بھی کر سکتے ہیں؟ کیا آزادی کی کوئی حد نہیں ہوتی؟ کیا آپ کسی ملک میں کسی دوسرے ملک کا جھنڈا لہرا سکتے ہیں، یہ بول کر کہ میں آزاد پیدا ہوا ہوں مجھے آزادی اظہار رائے کا حق ہے؟ اگر یہ ممکن نہیں تو ہمیں ماننا ہو گا کہ ہر آزادی کی کچھ حد ہوتی ہے، اور ہر چیز حد ہی میں بہتر رہتی ہے، اسی طرح عورتوں کی آزادی و حقوق کی بھی کچھ حد ہیں، اس سے مراد یہ نہیں کہ مرد مکمل آزاد ہے یقیناً ان کی بھی حدود ہیں، مرد کو اپنی نظروں میں حیا پیدا کرنا چاہیے، اس پہ لازم ہے کہ وہ عورت کی عزت کرے چاہے وہ باپردہ ہو یا نہیں، کیونکہ مرد پہ ہر عورت کے پردے کی ذمہ داری نہیں ماسوائے ان کے جن پہ اس کا حق ہے، وہ عورتیں جو مغربی کلچر کی خواہاں ہیں عزت و قدر ان کو بھی مشرقی عورت جیسی ہی چاہیے، آیا یہ ممکن ہے؟ آج جو چند آوازیں عورتوں کے حقوق کے لئے اٹھائی جاتیں ہیں وہ مغربی کلچر کو فروغ دینے کے لئے ہے، عورتوں کے وہ حقوق جو اسے فطرت نے دیے اسلام نے دیے، اس کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھاتا، حکمرانوں، علماء دین اور خود عورتوں کو اپنے جائز حقوق کے لئے آواز اٹھانی چاہیے اور مردوں کو ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے،

آخر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ یہ نسل انسانی مرد و عورت کے ہی مرہون منت ہے، یہ دونوں مل کر ہی مکمل ہیں، یہی دونوں اشرف المخلوقات ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی الگ الگ ذمہ داری رکھی، مرد کو کفیل بنایا اور عورت کی ذمہ داری مرد پہ رکھی اور عورت کے ذمہ اس کی اولاد کی تربیت، لہذا ان دونوں کی آپسی الفت و محبت ہی ایک گھر اور ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے، ان دونوں کے درمیان نا اتفاقی نہ صرف گھر بلکہ معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنے گی،

Facebook Comments HS