اندھیرے میں روشنی کی کرن


میری نظر اکثر بند کمروں پر پڑتی ہے، جہاں کھنڈرات نما عمارات میں جن اور بھوت بسیرا کرتے ہیں۔ بھوت بنگلے مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں یا میری پاگل پن مجھے ان بنگلوں کی طرف جانے پر مجبور کرتا ہے، یہ اب تک ایک ایسا معمہ جسے حل ہونے میں دہائیاں لگ سکتیں ہیں۔

ویسے بھی ماضی میں میرا آشیانہ جنگل کے آخری کونے میں ہوتا تھا، جہاں رات تو اپنی جگہ دن میں آدمی نما انسان آنے سے کتراتے تھے۔ ہم بچوں کو رات کے پہلے پہر میں جھونپڑوں میں بند کر کے بڑے سکون کی نیند سوتے تھے۔

جب جنگل میں ریل پیل میں اضافہ ہوتا گیا تو ہمارے آشیانہ بھی جنگل کی وسط میں آتا گیا اور بہت جلد جنگل کے بیچوں بیچ ہم کسی آشیانے میں دوسرے جانوروں کے ساتھ رہ رہیں ہوں گے۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ جس تاریک اور بند کھولی میں بیٹھ کر میں اپنا دانشورانہ خیالات لوگوں پر مسلط کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوں، یہ عمارت بھی کھنڈر نما بننے جا رہا ہے اور گہری سانس لینے کے لئے مجھے کھڑکی سے باہر جھانکنا پڑتا ہے اور میری نظریں ایک بھوت بنگلے کی طرف پڑ جاتی ہیں۔ اب یہ کھنڈر نما عمارات جن اور بھوتوں کا عارضی مسکن نہیں بلکہ ایک عالیشان عمارت بننے جا رہا ہے کھڑکی کے باہر کا نظارہ مجھے عجیب و غریب کیفیت میں مبتلا کرتا ہے۔

جنگل کی طرح شہر میں بھی تاریک راتوں میں ستاروں کی جھرمٹ روشنی کی آخری امید ہے اور کبھی کبھار یہ امیدیں صرف خواہشات کی حد تک ہوتی ہے۔

مارچ کا مہینہ میرے لئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا ہے، کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق میں، میری بیوی اور بچوں میں سے کسی نے اس ماہ جنم نہیں لیا تھا۔ مگر جس عالیشان عمارت کو میں بھوت بنگلہ لکھتا آ رہا ہوں وہاں اسی مہینے روشنی کی پہلی کرن نمودار ہوئی۔

روشنی کے نام پر ترسے ہوئے نوجوان کو ایک امید کی کرن ملی، کہ اس شہر میں ایک جنگل بھی آباد ہے اور جنگل کے اندر ایک نئی بستی بھی موجود ہے۔

ویسے اس شہر کے لوگ کتابوں سے گہری محبت رکھتے ہیں، جب پہلی بار اس شہر میں کتابوں کی محفل سجی تو لوگ جوق در جوق اس کھنڈر نما عمارت کی طرف دوڑنے لگے اور تشنگی علم کو بجھاتے رہے۔

اس گمنام بستی میں یہ دہائیوں بعد ایک عجیب محفل تھا جہاں بچے اور بچیاں کتابیں خریدتے رہے، اور فن اور فنکاروں کے نمونے فروخت ہوتے رہے، خریداروں نے اس موقع کو نایاب سمجھ کر دل کھول کر خریداری کی۔

ویسے یہ ادیبوں اور دانشوروں کا شہر ہے، یہ علم سے محبت رکھنے والوں کی سرزمیں ہے۔

میرے گھر سے چند فرلانگ کے فاصلے پر موجود اس کھنڈر نما عمارات سے روشنی کی ایک کرن نمودار ہوئی ہے اور یہی امید ہے کہ اب روشنی کو آگے پھیلنا ہو گا۔

Facebook Comments HS