قصور واقعہ: قصور کس کا؟ ہماری روایتی بے حسی


پنجاب کے قصور میں ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں شادی ہال کے اندر پٹاخے بیچنے پر ایک غریب دکاندار کو شادی کے مہمانوں نے مبینہ طور پر تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس واقعہ کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دکاندار کی لاش جس کی شناخت اشرف عرف سلطان کے نام سے ہوئی ہے، فرش پر پڑی ہے جب کہ مہمان کھانا کھا رہے تھے۔

تصاویر نے نیٹیزین کو حیران کر دیا اور بہت سے لوگوں نے حاضرین کے ظلم پر تنقید کی۔ اشرف کے بہنوئی پرویز نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ وہ شادی ہال کے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار تھا جب اس نے یہ واقعہ دیکھا اور اسے بچانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اسی دوران اشرف تشدد کا نشانہ بن کر زمین پر گر گیا جس کے بعد ریسکیو ٹیم نے آ کر اس کی موت کی تصدیق کی۔ سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی کے بعد پنجاب پولیس حرکت میں آ گئی اور مبینہ قتل کے الزام میں شادی ہال منیجر سمیت 12 افراد کو گرفتار کر لیا۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹروں نے تشدد کی تصدیق نہیں کی تاہم واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ادھر ڈی پی او قصور کا کہنا تھا کہ انہوں نے سی سی ٹی وی کیمروں اور ویڈیوز سمیت دیگر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جن کی مدد سے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے بھی بیٹھے ہیں، کیسے لوگ ہیں ہم کہ تربیت کے نام پر ہم اپنے بچوں کے ذہنوں زہر گھول رہے ہیں۔ یہی بچے بڑے ہو کر مجرم ذہنیت رکھیں گے اور ہم سر پکڑ کر روئیں گے۔ ہم مجموعی طور پر ایک بے حس قوم بن چکے ہیں جس کی تازہ ترین مثال یہ واقعہ ہے۔ پہلے جہاں لوگ بیچ بچاؤ کرانے کے لیے اپنی جان تک دے دیتے تھے وہ قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ یہ ڈھٹائی کی حد تک بے حسی ہی تو ہے کہ باقاعدہ اہتمام کے ساتھ ڈیڈ باڈی پڑی ہے اور کھانا کھایا جا رہا ہے۔

کوئی ایک تو انسان بھی ہوتا اس ہجوم میں جو اس کی آنکھیں بند کر دیتا یا کم از کم اس کو وہاں سے ہٹا دیا جاتا اور کوئی شخص نہیں تھا تو شادی ہال کی انتظامیہ ہی کچھ کر لیتی۔ ویڈیو میں واضح آوازیں سنی جا سکتی ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ تصویر لو آگے سے پیچھے سے۔ کیا ہمیں یہ بھی بھول گیا کہ میت کی بے حرمتی نہیں کرنی۔ میت سامنے ہو تو کھانا جائز نہیں۔ ہم کیسے انسان ہیں یا شاید انسان نہیں ہجوم بن چکے ہیں کبھی چیونٹیوں کو دیکھا ہے اگر کوئی چیونٹی مر جاتی ہے تو اپنا کھانا ڈھوتی چیونٹیاں سب کچھ چھوڑ کر پہلے مری ہوئی چیونٹی کو اٹھا کر بل میں پہنچاتی ہیں۔ تو کیا ہم اشرف المخلوقات چیونٹیوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔

~ بس کہ دشوار ہے ہر کام کا ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

یہ کسی کو نہ پوچھنے کا نتیجہ ہے جو آئے روز لوگ بھوک سے تنگ آ کر اپنے بچوں کو بیچنے نکلتے ہیں جو زیادہ تنگ ہو جاتے ہیں وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔

ہم ہر چیز، ہر گناہ کے لئے ڈپریشن کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور یہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہے کیونکہ ڈپریشن ایک ایسی بیماری بن چکی ہے جس کا علاج ہم نہیں کروانا چاہتے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیماری نہیں یا یہ کہ سائیکیٹرسٹ کے پاس جائیں گے تو لوگ پاگل کہیں گے۔ پاکستان، دیگر ترقی پذیر ممالک میں، موجودہ سماجی مشکلات کی وجہ سے ڈپریشن کی شرح زیادہ ہے۔ ڈپریشن کے عوارض اور اضطراب کا مجموعی پھیلاؤ 34 % ہے۔ صوبہ وار پھیلاؤ یہ ہے : سندھ 16 %، پنجاب 8 %، بلوچستان 40 %، خیبرپختونخوا 5 %۔

لوگ کیا کہیں گے، یہ سوچ کر بہت سے لوگوں نے خود کشی کر لی، لوگ کچھ نہیں کہیں گے سوائے گوسپس کے۔ وہ باپ، بیٹا اور گدھے والی کہانی تو یاد ہوگی نا۔ گدھا جان سے گیا باپ، بیٹے کا نقصان ہوا اور لوگ تھوڑی دیر رکے اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ خدارا سمجھیے! اس ڈپریشن سے خود بھی نکلیں اور اپنے بچوں کو بھی بے حس نہ بنائیں۔ ان کو اچھا انسان بنائیں اور یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ بچوں کو اور خود کو تعمیری کاموں میں مصروف کریں۔ بچے وہی کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں۔ تو بڑے ہو کر اگر وہ تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں تو یہ ہمارا قصور ہے ان کا نہیں۔ ہمیں مجموعی طور پر خود کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS