موبائل فون کی فحاشی اور طلاق۔ کیا وزیراعظم سوشل فیبرک تباہ کر رہے ہیں؟

او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے موبائل فون، فحاشی اور طلاق میں ایک تعلق قائم کیا۔ یہ پہلی بار نہیں کہ انہوں نے اس طرح کے سماجی معاملات پہ گفتگو کی ہے۔ بلکہ وہ تواتر کے ساتھ، خواتین کے لباس، فحاشی، اور ہراسمنٹ میں تعلق جوڑتے رہے ہیں۔ مشرقی اقدار، قومی لباس، قومی زبان، قومی ثقافت اور مشرقی خاندانی نظام ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ اسی طرح وہ مغرب کی فحاشی، مغرب کے خاندانی نظام، لباس اور مغربی اقدار کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔
وزیراعظم بھی ایک شہری ہیں اور انہیں اپنی آرا کے اظہار کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی بھی اور شہری کو ہے۔ مگر وزیراعظم بطور عہدے کے امین ایک مختلف حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی بات عہدے کی وجہ سے ملک گیر پھیلاؤ رکھتی ہے۔ اگر وہ غیر حقیقی تصورات دیو مالائی محبت کی وجہ سے پھیلاتے ہیں تو اس کا سماج پہ اثر ہوتا ہے۔
بہت سے لوگ ان کے ذاتی عمل اور ان کی تقاریر کے بیچ موجود وسیع تفاوت پہ بات کرتے ہیں۔ مگر اس سے زیادہ اہم دو اور نکات ہیں۔
پہلا یہ ہے کہ جو وہ فرماتے ہیں وہ حقیقت نہیں ہے۔
دوسرا یہ کہ جو وہ فرماتے ہیں اس کی وجہ سے معاشرے میں تقسیم گہری ہو چکی ہے، دوہرے معیار پروان چڑھ رہے ہیں اور کھوکھلے نظریات پہ معاشرے کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے۔
موبائل فون ایک سائنسی آلہ ہے اور اس نے ہر طرح کے سٹف تک رسائی آسان کی ہے۔ فحش مواد اس سٹف کی محض ایک قسم ہے۔ اب جو لوگ ننگی فلمیں دیکھتے ہیں کیا وہ طلاقوں کا رجحان پیدا کر لیتے ہیں؟ ؟ سوال کا جواب تو کوئی سائنسی تحقیق ہی دے سکتی ہے مگر ہمارے ارد گرد ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یہ موقف رکھتے ہیں کہ فحش مواد ان کی خانگی زندگی کی تکمیل میں ان کی مدد کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ مواد انہیں بوریت سے بھرپور روٹین کی زندگی سے نکال کر بیڈ روم کی زندگی سے جوڑتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے ساتھی کے ساتھ نسبتاً زیادہ منسلک محسوس کرتے ہیں۔ سو فحش مواد کی بنا پر طلاق ہو جانے کی شکایت کم ازکم ہم نے آج تک نہیں دیکھی۔ طلاقوں میں اضافے یا کمی کے رجحانات کی اور بہت سی وجوہات ہم نے دیکھی اور پڑھی ہیں مگر فحش مواد بطور وجہ طلاق مزید توجہ مانگتا ہے۔
معاشرے اور ثقافتیں مسلسل عمل ارتقاء سے گزرتے رہتے ہیں۔ ہر سو برس بعد پچھلی ثقافت کے بس آثار ہی ملتے ہیں۔ انسانوں کی ثقافتی رجحانات سے محبت دراصل ان کے مفادات سے جڑی ہوتی ہے۔ جن لوگوں کے مفادات مشترکہ خاندانی نظام سے وابستہ ہوتے ہیں وہ اسی کے گن گاتے ہیں جب کہ جن لوگوں کی زندگیاں مشترکہ خاندانی نظام کی وجہ سے اذیت میں ہوں وہ مختصر خاندانی نظام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر ایک نظام زندگی کے اپنے مثبت اور منفی پہلو ہیں۔ جدید زندگی میں لوگ شخصی آزادی اور محدود طرز زندگی کے خواہاں ہیں۔ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلوں کے لیے رشتہ داروں کے منہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہتے۔ مشینوں اور صحت کی سہولیات نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے اب بہت کم لوگ مشترکہ خاندانی نظام کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
اسی طرح پینٹ شرٹ اب ایک گلوبل لباس ہے۔ چین، جاپان برصغیر ہر علاقے میں پہنا جاتا ہے۔ برصغیر میں خواتین کے لیے ساڑھی ایک پرانا لباس ہے مگر تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان میں ساڑھی کے رجحان میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ شلوار قمیض نہ تو کوئی زیادہ پرانا رجحان ہے اور نہ ہی اسلامی تشخص کے ساتھ اس کی جڑیں چپکی ہیں۔ نہ ہی ہم یہ پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ آنے والے سو برس بعد شلوار قمیض کا سٹیٹس کیا ہو گا۔
یہی معاملہ زبان کا ہے۔ ہماری قومی زبان بے شک اردو ہے مگر اندرون ملک، عوام علاقائی زبانوں کے ساتھ زیادہ پختگی سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی جڑاؤ کی وجہ سے وہ اپنی پہچان بھی وہی رکھنا چاہتے ہیں جو ان کی زبان ہے۔
دراصل پہچان اور تشخص بہت مائع قسم کے تصورات ہیں جو سیاق و سباق کے ساتھ متعین ہوتے ہیں۔ اگر کوئی فرد کسی اور ملک کی قومیت رکھنے والی کمیونٹی میں ہو تو اسے لامحالہ اپنی پہچان اپنے پاسپورٹ سے کروانی پڑتی ہے۔ دوسری جانب مذہبی کمیونٹی کے درمیان وہی فرد اپنی پہچان اپنے مذہبی عقائد کے ذریعے کرواتا ہے۔ جب کہ اندرون ملک صوبائی یا لسانی پہچان اسی فرد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سارے معاملے میں مغرب کو برا بھلا کہنے کی کوئی گنجائش نکلتی ہی نہیں، جانے ثنا خوان تقدیس مشرق یہ گنجائش کیسے نکال لیتے ہیں۔
فحاشی اور عریانی کچھ عرصے سے وزیراعظم کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ مگر یہ بھی اسی طرح کے تصورات ہیں جس طرح کے تصورات ثقافت اور پہچان ہیں۔ ان کی کوئی متفقہ تعریف دانشوران مشرق پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
فحش برقعے اور عریاں عبایہ کی اصطلاحات بھی مذہبی طبقات کی جانب سے ہی سامنے آتی رہتی ہیں۔ اسی طرح لوگ دوسروں کی فحاشی کا تعین اپنے آپ کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔ جو لباس خود پہنا ہوتا ہے وہ پاکیزہ لگتا ہے جب کہ اپنے سے مختصر لباس لوگ فحاشی کے ڈبے میں ڈال دیتے ہیں۔ نقاب کرنے والے خاندان بنا نقاب والوں کو بے پردہ گردانتے ہیں۔ جب کہ سکارف کا رجحان رکھنے والے بنا سکارف کے رہنے والوں کو فحاشی کے کسی نہ کسی درجے پہ رکھتے ہیں۔
اب اتنے پیچیدہ اور مختلف الجہات تصورات پہ وزیراعظم کی بلیک اینڈ وائٹ میں گفتگو نے ایک خاص طبقے کو حاوی کر دیا ہے۔ پہلے سے تقسیم شدہ معاشرہ مزید تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔ شخصی آزادی ثقافت، اقدار اور نام نہاد مشرقیت کے نیچے دب رہی ہے۔ آزاد سوچ رکھنے والا پہلے سے محدود طبقہ مزید نشانہ بن رہا ہے۔ طعن و تشنیع سے بچنے کے لیے اس طبقے نے نقلی چادر اوڑھ لی ہے۔ ماسک پہن لیا ہے۔ اس نقلی چادر کے نتائج مزید منافقت اور دوہرے معیار کی صورت میں نکل رہے ہیں۔ یونیورسٹیاں اور ادارے قدغنیں لگا رہے ہیں۔ سوچنے کی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ یہی عوامل ملک میں شدت پسندی کو پروان چڑھا رہے ہیں اور آئے روز کسی فرد کے، ہجوم کے ہاتھوں مار دیے جانے کی خبریں آتی ہیں۔
ضروری ہے کہ حکومت فی الفور اس شدید خطرے کا جائزہ لے اور صاحبان اقتدار اپنی گفتگو میں محتاط رویہ اختیار کریں۔ تاکہ ایک صحت مند سوچ رکھنے والا معاشرہ پروان چڑھ سکے۔


بہت پیاری تحریر۔ بہت شکریہ