محبت: کے 40 اصول، انگلینڈ کا چورن اور مذہبی کارڈ
بعض لوگ حادثاتی طور پر یا کسی کے کہنے پر کوئی ایک آدھ کتاب زندگی میں پڑھ لیتے ہیں تو پھر زندگی بھر اسی کے حوالے دیتے رہتے ہیں، اس حقیقت کو جانے بغیر کہ ادبی سطح پر اس کتاب کا معیار کیا ہے؟ اور کس حد تک اس کا ریفرنس دیا جاسکتا ہے؟ ”دی فارٹی رولز آف لو“ جس کی مصنف ایلف شفق ہیں، جو شمس تبریز اور جلال الدین رومی کے گرد گھومتی ہے اور ایک طرح کی فکشن ہے۔ آپ کی نظر میں اس کتاب کی بہت اہمیت ہو سکتی ہے مگر دوسروں کے متعلق آپ کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے اور ہر جگہ بطور ریفرنس کوٹ کرنا بھی مناسب رویے میں شمار نہیں ہوتا۔
جی ہاں یہ کتاب حادثاتی طور پر یورپ کو سب سے زیادہ جاننے کا دعویٰ رکھنے والے ہمارے مہان عمران خان پڑھ چکے ہیں اور ہر جگہ اس کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس طرح کی چنیدہ فکشن قسم کی کتابیں ترجمہ کروا کر قاسم علی شاہ فاونڈیشن والے شائع کرواتے رہتے ہیں اور شاہ صاحب اپنے عقیدت کے روبوٹس کو ایک کنویں کا مسافر بنانے کے لیے مختلف ہجوم میں اس قسم کی کتابوں کو پڑھنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ اس طرح سے کمپنی کی مشہوری بھی ہو جاتی ہے اور بیسٹ سیلنگ کی وجہ سے فاؤنڈیشن کے غلے میں برکت بھی پڑ جاتی ہے۔
ہمارے جیسے سماج میں دراصل وہی بندہ کامیاب ہوتا ہے جسے سٹوری ٹیلنگ کا ہنر اچھے سے آتا ہو کیونکہ اسٹوری ٹیلنگ میں وہ خاص بات ہے جو عقلی اور پریکٹیکل باتوں میں نہیں ہوتی۔ اسی ہنر کی بنیاد پر ہمارے ہاں مولوی، پیر اور موٹیویشنل سپیکرز جو ایک طرح کے ماڈرن مولوی ہی ہوتے ہیں دنوں میں کروڑ پتی بن جاتے ہیں اور ایک طرح سے شاہی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ مگر سامنے بیٹھنے والے سامعین کی زندگیوں میں کوئی ہریالی نہیں آتی اور ساری زندگی ہینڈ تو ماوتھ طرز کی زندگی گزار کر مٹی کا رزق بن جاتے ہیں۔
یہ مداری اپنی چکنی چپڑی روحانی باتوں کے ذریعے سے بھولے بھالے عوام کو روحانی تھپکی دے کر سکون کی نیند سلا کر خود باہوش طریقہ سے انہی کی جیبوں سے پیسے نکلوا کر مالک بن جاتے ہیں اور آج کل اسی قسم کی روحانی چالبازیوں کا مظاہرہ ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان جو کہ تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے کافی حد تک پریشان ہیں، اپنی قوم کے ساتھ مختلف جلسوں کی صورت میں کر رہے ہیں اور لاسٹ ہوپ کے طور پر پر مذہبی کارڈ کھیلنے میں مصروف ہیں۔ مذہبی مبلغ بن کر مختلف جلسوں میں اس قسم کی وعیدیں سنا رہے ہیں۔
ارشاد فرماتے ہیں کہ جن اسمبلی ممبران نے اپنے ضمیر کا سودا کیا ہے یاد رکھیں کہ آپ کے ضمیر فروشی کی وجہ سے آپ کے بچوں سے لوگ شادیاں نہیں کریں گے اور آپ کا پبلک فنکشنز میں جانا دوبھر ہو جائے گا۔ آخر میں ایک اچھے باپ کی طرح باغی اراکین کو نصیحت بھی کر ڈالی کہ آپ واپس آ جائیں میں آپ کی غلطی معاف کر دوں گا۔ جبکہ شیخ رشید کا ان کو مشورہ ہے کہ پیسہ ہڑپ کریں اور ووٹ چپکے سے خان صاحب کو ڈال دیں۔
دراصل خان صاحب ابھی بھی خود کو گیارہ کھلاڑیوں کا کپتان سمجھ رہے ہیں، حالانکہ انیس سو بانوے گزر چکا ہے اور 2022 کے بھی تقریباً تین ماہ گزر چکے ہیں مگر ذہنی صدمے کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ وہ 342 کے ایوان کو بھی گیارہ کھلاڑی سمجھ کر ٹریٹ کر رہے ہیں اور گراؤنڈ سے باہر کھڑے سامعین سے درخواست کر رہے ہیں کہ میری مدد کریں۔ حالانکہ ضرورت صرف 172 ارکان کی ہے جو اس ایوان کے گراؤنڈ کا حصہ ہیں جنہیں عوام نے منتخب کر کے بھیجا ہے اور یہی عوامی نمائندے ہی ایک وزیر اعظم کو مضبوط بناتے ہیں مگر خان صاحب ان پر لعنت بھیج کر باؤنڈری سے باہر چھکا چوکا لگنے پر تالیاں بجانے والے سامعین سے مدد مانگ رہے ہیں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟
عوامی جلسوں حتی کہ او آئی سی کے اجلاس میں بھی ایک ہی طرح کی رٹی رٹائی گردان کہ ”میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ یورپ میں گزارا ہے اور میں ان کے کلچر کو بہت اچھے سے جانتا و سمجھتا ہوں، اس کے علاوہ میں نے انٹرنیشنل فورم پر گستاخانہ خاکوں کے خلاف آواز بلند کی اور اسلاموفوبیا کے خلاف 15 مارچ کا عالمی دن منظور کروانے کے ساتھ ساتھ خاتم النبیین فورم بنایا جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی“ ۔ سرکار آپ کی باتیں تسلیم مگر عوام کا کیا؟
جن کی زندگی میں بہتری کی بجائے ابتری آئی اور آپ کے پردھان منتری بننے کے بعد رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی، بڑے بڑے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے اور قوت خرید جواب دے گئی اور بہت سے لوگ تو صرف ایک وقت کے کھانے پر آ گئے۔ کشکول توڑنے کی بجائے آپ نے تو اپنی عوام کے ہاتھ میں کشکول تھما دیا اور تمام یوٹیلٹی بلز کو مہنگائی کے ایسے پر لگا دیے جو عوام برسوں بھگتیں گے۔ آپ کو تو اپنے کچن چلانے کے لئے درجنوں مل جائیں گے مگر عوام کدھر جائیں؟
آپ کی آئیڈیل ازم والی باتوں سے متاثر ہو کر اور عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجا کر عظیم سوشلسٹ اور زیرک سیاستدان معراج محمد خان جیسا بندہ بھی آپ کے ساتھ ہو لیا تھا مگر آپ کی نرگسیت زدہ شخصیت اور خیالی باتوں کا ادراک ہو جانے کے بعد جس دن معراج محمد خان نے پی ٹی آئی چھوڑی تھی اسی دن بہت سے حقیقت پسندوں کو ادراک ہو گیا تھا کہ آپ کے دامن میں خالی باتوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ شکر ہے معراج خان آپ کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے اور آج اگر وہ زندہ ہوتے تو پتا نہیں انہیں کیا کچھ جھیلنا اور سہنا پڑتا۔ دھرنے کے علاوہ، ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں بس یہی کچھ سننے کو ملتا رہا کہ ”فلاں فلاں میرے نشانے پر ہے، فلاں کو نہیں چھوڑوں گا یا این آر او نہیں دوں گا“ وغیرہ۔ محض اقتدار میں رہنے کے لیے گراوٹ کا یہ کیسا لیول ہے؟
اب تو ہم آپ کے آکسفورڈ گریجویٹ ہونے کی مثال بھی اپنے بچوں کو نہیں دے سکتے، سوشل میڈیا کے دور میں پلٹ کر وہ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ کیا آکسفورڈ میں اس قسم کی گند زبانی یا تکبر سکھایا جاتا ہے کہ اپنے علاوہ کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ 25 سالہ جدوجہد بشمول 126 دن کے دھرنے کے باوجود کیا کوئی خان صاحب سے یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ آپ کی پارٹی میں جینوئن کارکنان کی شرح کتنے فیصد ہے؟ کیونکہ موجودہ پی ٹی آئی میں تو دوسری پارٹیوں کے لوگ ہیں جو مختلف پارٹیوں کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر ہر بار ایوان میں آ جاتے ہیں اور اب اگلے سسٹم کا حصہ بننے کے لیے وہ پرواز کر چکے ہیں۔
خان صاحب اب لگے رہیں اپنے اخلاقی بھاشن دینے میں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پاور پالیٹکس میں جذباتی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی چاہے آپ کتنی ہی اسٹار پوزیشن انجوائے کر چکے ہوں۔ خیر خان صاحب کو سمجھ آ چکی ہوگی کہ اقتدار کو جلدی میں حاصل کرنے کے چکروں میں جب آپ الیکٹ ایبلز کا ہجوم اکٹھا کرتے ہیں تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ جیتنے والے گھوڑے ہمیشہ اقتدار کے ساتھ ہوتے ہیں ناکہ 1992 کی اسٹار پوزیشن رکھنے والے ساتھ۔
یہی حقیقت ہے اور یہی تاریخ کا سبق بھی ہے۔ ماضی میں جاوید ہاشمی کا بھرپور طریقے سے بطور باغی پی ٹی آئی میں شمولیت کرنا اور راز افشا ہونے پر اتنی ہی شدت سے واپس پلٹنا اور موجودہ وقت میں چوہدری پرویز الٰہی کی ”میٹا فوریکل نیپی کلاس تھیوری“ میں عقل والوں کے لیے اتنی نشانیاں موجود ہیں کہ اگر ان سے استفادہ کر لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہو گا۔



آپ کی ہر تحریر پوسٹ دیکھتے ہی پڑھ لیتا ہوں۔ بہترین معلومات، بہترین تجزیہ اور شستہ سلیس زبان یہ تینوں آپ کی تحریر کا خاصہ ہیں۔ بہت بہت شکریہ ماسٹر صاحب