پوجا کماری


ادی کمار سکھر کے نواحی علاقے چھوہارا منڈی کا رہنے والا ایک غریب ہندو ہے ایک کچے سے مکان میں اپنی چھے بیٹیوں کے ساتھ زندگی کی چکی میں پس رہا تھا جس کا ایک پاٹ مذہب کا دوسرا غربت کا ہے۔ اس کی شادی ہوئی تو اس کو اس کے بھگوان نے بیٹی عطا کی۔ اس نے اسے اپنے اور بھگوان کے رشتے ہی سے منسوب کر دیا اس کا نام پوجا رکھ دیا۔ ادی کمار کی عبادت۔ پوجا کماری

اسکے بھگوان نے اسے بیٹا نہ دیا اور چھے بیٹیاں عطا کیں۔ اک دن پوجا تھوڑی سیانی ہوئی تو اپنے ماں باپ کو بیٹے کی حسرت میں کوئی بات کرتے سن لیا تو اپنے باپ ادی کمار سے کہنے لگی ابا نہیں مانتی میں ان فرسودہ سماجی روایات کو۔ ان سے لڑوں گی۔ بازو بنوں گی تیرا بھگوان کی قسم۔ بیٹا بن کر دکھاؤں گی۔ ادی کمار کو اپنی پوجا پر اتنا پیار آیا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور پوجا کماری فوراً بیٹے سے پھر بیٹی بن گئی اور اپنے آنچل کا تقدس بڑھاتے ہوئے باپ کے آنسو پونچھتے ہوئے کہنے لگی ابا تو مرد ہو کر روتا ہے اور میں بیٹی ہو کر بھی نہیں روتی۔ ہوئی بیٹا کہ نہیں؟ چل اب ہنس بھی دے ابا۔ شاباش، یہ ہوئی نہ بات۔ میں تیرے لیے اچھی سی چائے بناتی ہوں۔

پوجا کے کچے مکان سے سکول کی طرف جانے والا رستہ مفلسی نے بند کر رکھا تھا۔ ایک موڑ مڑ کر یہ رستہ مشقت کی درسگاہ کو چلا جاتا تھا جس پر باپ سے بیٹا اور بازو بننے کا عہد کرتی پر عزم لڑکی چلنے لگی۔ اس نے سلائی کا کام سیکھا اور اوائل عمری میں ہی اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر بہت اچھا کام کرنے لگی اور حیات کی گاڑی کو ماں باپ کے ساتھ مل کر اپنے نرم و نازک سنگ مر مر جیسے ہاتھوں سے دھکیلنے لگی۔

وہ واقعی کوئی عظیم روح تھی۔ عزیز رشتہ داروں میں اس کی مثال دی جاتی تھی۔ سب سے بہت ہی بہترین برتاؤ، اپنی چھوٹی بہنوں سمیت سارے چھوٹے بچوں سے بہت اچھا سلوک کرتی تھی۔ بڑوں کا بہت ادب کرتی تھی۔ اپنے ماں باپ سے کہتی تھی میں ڈیزائننگ سیکھ کر ایک بوتیک بناؤں گی اور فیس بک پر مشہور ہو جاؤں گی۔ آن لائن کام کروں گی۔ اپنی ہندو برادری کی دوسری بچیوں کو بھی کام کے مواقع ملیں گے۔ آپ لوگوں کو گھر بٹھا کر کھلاؤں گی۔ اور میرا سب سے بڑا خواب ہے اپنی چھوٹی بہنوں کو پڑھانا۔ وہ اپنے سوئی دھاگے سے اپنی بہنوں کے بختوں پر علم کے پھول کاڑھنا چاہتی تھی۔

خدا اتنا عالی ظرف ہے کہ عطا کرتے ہوئے کسی کا مذہب نہیں پوچھتا زمین کے خدا اتنے کم ظرف اور تنگ نظر ہیں کہ بے سہارا لوگوں کے پاس کوئی شے خداداد بھی ان کی مکروہ آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ اس میں غریبوں کی بیٹیوں کا حسن بھی آتا ہے۔

پوجا ایک حسین لڑکی تھی۔ اور یہ بات اس کے ہمسائے میں رہتے ایک امیر اور با اثر لاشاری خاندان کے ایک گدھ کو برداشت نہ تھی۔ جس نے اپنی رگوں میں دوڑتے خون کی پراگندگی ظاہر کرنی شروع کر دی اور اسے راستے میں آتے جاتے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ وہ اسے مجبور کرنے لگا کہ وہ مذہب تبدیل کر کے اس سے نکاح کرے۔ اور اس گدھ کو اپنی معصومیت اور حسن ایک غریب اقلیت ہونے کے خراج کے طور پر دے دے۔

پوجا کماری خود کو پاکستان کی بیٹی کہتی تھی۔ اسے پاکستان سے بے حد محبت تھی۔ پچھلا یوم پاکستان آیا تھا تو اس نے کسمپرسی کو پرسہ دیتے ہوئے بساط بھر تیاری کی تھی۔ ایک جھنڈا وہ لے کر آئی تھی جسے اس نے بڑی محبت سے لگایا اور لہرایا تھا۔ 23 مارچ کے حوالے سے تقریبات دیکھتے ہوئے اس کے خوب صورت دل میں جذبۂ حب الوطنی در آیا تھا اور ٹی وی پر ایک خطاب سن کر بڑی پر جوش ہوئی تھی۔ اس کی چراغوں جیسی آنکھوں میں امید کی کرنیں نمی بن کر آئی تھیں کہ اب انہیں بھی تحفظ ملنا شروع ہو گا وہ پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن خدا نے اسے ایک شعور سے نوازا تھا۔ اور شعور یہاں ایک جرم ہے۔ جیسے کسی غریب کا حسین ہونا جرم ہے۔ جیسے سماجی روایات کے دھارے کے آگے ہمت و جرات کے بندھ باندھنا جرم ہے۔ جیسے حسرت زدہ آنکھوں میں خواب سمونا جرم ہے۔ اور جیسے مذہبی منافرت کے زہر میں بجھا کر تقسیم کیے گئے برصغیر میں کوئی اقلیت ہونا جرم عظیم ہے۔

غربت کے کیچڑ میں کھلتا ہوا اقدار کا ایک کنول، یاسیت کی تیرگی میں امید کی راہ دکھلاتا ایک چراغ، مجبوری کی خزاں میں عزم نو کا پیام بہار لاتی ایک کلی اور ظلم کے حبس کی انتہا پر جاں بہ لب فضاؤں میں حق کی باد نسیم کا ایک جھونکا۔ نہیں گوارا یہاں۔ ہر گز نہیں

اس لیے وہ مشہور تو ہوئی فیس بک پر مگر ایک لاش بن کر۔ اپنے خوبرو چہرے پر ہر دم کھلتی مسکراہٹ کی چاندنی کی جگہ بارود کی سیاہی کے ساتھ، زندگی کے نام موت کا پروانہ لیے چلائی گئی وحشی گولی جو یہاں ان تمام جرائم کی واحد سزا ہے۔ اس روئے زمین پر دندناتے ان وحشیوں کی طرف سے جن کے لیے کسی کی زندگی چھین لینا کوئی کام ہی نہیں۔

واحد لاشاری نامی ہوس کے پجاری نے اپنے دو ساتھی بھیڑیوں کے ساتھ اس کے گھر پر اس وقت دھاوا بول دیا جب وہ اکیلی تھی۔ مبینہ طور پر وہ اسے اغواء کر کے ساتھ لے جا کر اس سے زبردستی اسلام قبول کروانے اور شادی کرنے کے لیے آیا تھا۔ لیکن پوجا کماری نے انکار کر دیا۔ 18 سالہ پوجا کماری نے مزاحمت کی جس کی سزا اسے اس یوم پاکستان سے ایک دن قبل سزائے موت کی صورت دے دی گئی۔

اسکے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ظالموں نے ایک ہیرا دفن کر دیا اس کا باپ کہنے لگا اس کی ہمت نے مجھے جوان کر دیا تھا وہ واقعی بیٹا تھی میرا۔ میرا سہارا میرا فخر اس کی موت نے ایک دم بوڑھا کر دیا۔ اس کی ماں کے فلک شگاف بین بالکل ایسے تھے جیسے کوئی مسلمان ماں ماتم کناں ہو اپنی بیٹے نما بیٹی پر اپنی کل جمع پونجی پر۔

یوم پاکستان پر ایک جانب 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان کی یاد کی تقریبات منائی جا رہی تھیں دوسری جانب پوجا کماری کی ارتھی جلائی جا رہی تھی۔ پچھلے یوم پاکستان پر اڑتے جہازوں سے نکلتے رنگ برنگے دھوئیں کو دیکھ کر خوش ہوتی پوجا کماری نہیں جانتی کہ اگلی دفعہ اس دھوئیں میں اس کی جلتی ہوئی چتا کا دھواں بھی شامل ہو کر گم ہو جائے گا جیسے وہ کھو گئی۔

کاش کہ مذہب کے نام پر جغرافیائی تقسیم کرتے اپنی قراردادوں میں یہ بھی لکھتے کہ وہاں مسکان خان کیسے جیے گی یہاں پوجا کیسے زندہ رہے گی؟

ایک نظم۔
”پوجا کماری“
مسلمان قاتل پہ
جنسی ہوس کی وہ وحشت تھی طاری
سو بندوق کی نوک پر ساتھ چل کر
کہ مذہب بدل کر
نکاح اس سے کرنے کا تھا حکم جاری
وہ معصوم ننھی اکیلی بے چاری
کہ ہمت نہ ہاری
سو وحشی درندے نے گولی تھی ماری
کہ اس جرم انکار پر جان ہاری
وہ بیٹی ہماری
پوجا کماری

Facebook Comments HS