عمران خان کے دعوی کی ممکنہ وجوہات
کچھ روز پہلے عمران خان نے صحافیوں کے سامنے بڑے پر زور اور پر اعتماد انداز میں یہ کہہ کر ایک بڑا دعوی کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کو سرپرائز دے گا ( صحافی ) لکھ لیں کہ عدم اعتماد کو ناکام کرا لوں گا ”۔ اگرچہ کچھ حلقے عمران خان کے اس دعوے کو زیادہ وقعت نہیں دے رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق عمران غیض و غضب یا جوش خطابت وغیرہ میں اس قسم کے لاتعداد دعوی کر چکے ہیں اور پھر ان سے“ یو ٹرن ”لے چکا ہے۔ اس لیے بقول ان کے یہ بھی اس کی معمول کی ایک بھڑک ہے ان حلقوں کا مذکورہ موقف شاید اپنی جگہ کچھ وزن رکھتا ہو تاہم اس دعوی کو خالصتاً ہوائی دعوی یا بھڑک سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔
اس لیے ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کے اس پر اعتماد دعوی کے محرکات کیا ہیں۔ اس حوالے سے کچھ ممکنہ وجوہات حسب ذیل ہو سکتی ہیں۔ 1۔ ایمپائر (اسٹیبلشمنٹ ) کی طرف سے کسی مدد کا وعدہ یا اشارہ 2۔ صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے بارے کوئی پیشگی یقین دہانی۔ 3 اتحادی جماعتوں سمیت بعض منحرف یا ناراض اراکین کے حوالے سے کوئی پکی تسلی۔ 4۔ اپوزیشن جماعتوں میں پھوٹ ڈلوانے یا کئی اپوزیشن ارکان کی حمایت کے حصول کا عندیہ۔
جہاں تک پہلی ممکنہ وجہ کی بات ہے تو بادی النظر میں اس کا امکان تاحال یوں کم ہے کہ ابھی تک مختلف حلقوں بشمول اپوزیشن کے یہاں تاثر بلکہ یقین یہی چلا آ رہا ہے کہ ایمپائر نیوٹرل ہے۔ اب ایسی صورت میں اس کی طرف سے کسی خاص مدد کی توقع پر وزیر اعظم کا انحصار شاید نہیں ہو سکتا ہے تاہم بالفرض اگر اسٹیبلشمنٹ یا اس کے بعض عناصر نے کسی“ فیکٹر ”کے بنا کچھ درپردہ یا بالواسطہ خفیہ مدد کرانے کا عندیہ دیا ہو۔ تو بعد میں یہ راز نہیں رہے گا کیونکہ اگر ان کی طرف سے کسی قسم کی مدد کتنے بھی خفیہ طریقے سے کیوں فراہم نہ گئی ہو یہ چھپا نہیں رہ سکے گا۔
اس کا ملکی سیاست پر مضمرات کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ پر بڑا خراب اثر پڑے گا اسی بنا سر دست اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے موثر مدد کا کوئی وعدہ عمران خان کے متذکرہ دعوی کا محرک شاید نہ ہو۔ 2۔ دوسری اہم ممکنہ وجہ صدارتی ریفرنس کے حوالے سے ہو سکتی ہے۔ یہ اس حد تک تو درست ہے کہ اگر فیصلہ نہ صرف حق میں بلکہ عدم اعتماد پر رائے شماری سے پہلے آ جائے تو اس صورت میں اس کا فائدہ حکومت کو یوں ہو سکتا ہے کہنہ صرف پارٹی کے بعض منحرف اراکین کو واپس لانا اس کے لیے شاید نسبتاً آسان ہو جائے بلکہ اتحادی جماعتوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے سلسلے میں کارآمد ہو سکے۔
مگر۔ فیصلے کا حکومت کے حق میں پیشگی یقین دہانی کی بات دل کو نہیں لگتی کیونکہ سپریم کورٹ حکومت کی ماتحتی سے آزاد اعلی ترین ادارہ ہے اور اس کے معزز جج صاحبان کا اپنا ایک منفرد باوقار مقام اور ساکھ ہوتی ہے۔ ان سے اس قسم کی پیشگی یقین دہانی کی توقع نہیں ہو سکتی ہیں؟ یوں یہ وجہ بے جان ہے 2۔ تیسری ممکنہ وجہ نسبتاً زیادہ قرین قیاس ہے۔ اتحادی جماعتیں اگرچہ حکومت سے بھی خوش نہیں ہیں مگر ان کا محض اسی بنا حکومت کے خلاف ہوجانا بھی اس کے فیصلہ کا باعث نہیں ہو سکتا ہے ابھی تک اتحادی جماعتیں کوئی واضح فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔
جس کی بظاہر بڑی وجہ فریقین سے بہتر پیکیج کی توقع ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ان حکومتی اتحادی جماعتوں سے رابطے میں ہیں حکومت کی بھر پور کوشش ہے کہ ان کو ساتھ چھوڑنے سے رکا جائے۔ جبکہ دوسری طرف اپوزیشن والے بھی ان کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے سرگرم ہیں۔ اب ایسے میں یا تو شاید عمران خان نے اتحادیوں کے تمام مطالبات کو آخر میں مان لینے کی دل میں ٹھان لی ہو۔ جس کے باعث اس کو اپنے تئیں یہ پکی تسلی ہو کہ اس صورت میں اتحادی ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے بلکہ کچھ منحرف اراکین کو بھی واپس لایا جا سکے گا۔
یا۔ پھر ممکن ہے کہ حکومت کو“ باوثوق ”ذرائع نے یہ تسلی دی ہو کہ آخر میں اتحادی جماعتوں کا آخری فیصلہ“ بوجوہ ”اس نوعیت کا ہو گا جس کا فائدہ اپوزیشن کو نہیں مل سکے گا اس لیے شاید یہ عمران خان کے پر زور دعوی کا سبب ہو۔ 4۔ ایک اور ممکنہ وجہ اپوزیشن جماعتوں کے کچھ اراکین کی حمایت کا حصول بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا دعوی بعض حکومت وزراء کرتے بھی رہے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد تاحال موجود نہیں تاہم اس کو پوری طرح خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
ممکن ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے چند ارکان حکومت سے درپردہ ملے ہوں اور عین موقع پر کسی بہانے یا طریقے سے غیر حاضر ہو کر اپوزیشن کو ہزیمت سے دوچار کردے اور یوں عمر ان خان اپنے سرپرائز دینے کا دعوی سچ ثابت کرا دے۔ جہاں تک ٹرمپ کارڈ کی بات ہے (جس کا ذکر اپنے اس حالیہ بیان میں وزیر اعظم نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ ووٹنگ سے پہلے وہ اس کارڈ کو کھیل کر سرپرائز دیں گے اور میچ جیت کر دکھائیں گے ) ۔ تو اس حوالے سے اگرچہ تجزیہ کار مختلف اندازے لگا رہے ہیں تاہم واضح نہیں کہ یہ کس نوعیت کا کارڈ ہو سکتا ہے اور کیا واقعی فیصلہ ہو سکے گا بہر حال آنے والے چند دنوں میں ہار جیت کا نتیجہ شاید سامنے آ جائے اور پتہ چلے گا کہ کس فریق نے بہتر کارڈز کھیل کر میچ جیتا اور کس کے کارڈز اور چالیں کمتر اور دعوی بھڑکیں نکلیں


