ارطغرل ڈرامے کی حلیمہ سلطان بھی جسم کی نمائش کی شوقین نکلی

یہ ہمارے ہیروز ایسے کیوں نکلتے ہیں جنہیں ہم پوجنے کی حد تک پیار کرنے لگتے ہیں وہی ہمیں اپنے کرتوتوں سے مایوس کیوں کر ڈالتے ہیں؟ آخر یہ اقتدار اور پیسے کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک کیوں چلے جاتے ہیں؟ حال ہی میں کچھ ایسا عجیب سا ہوا ہے جس سے ہمارے پاکستانی مردوں کے دل بری طرح سے چکنا چور ہو گئے ہیں، ارمانوں پر اوس پڑ گئی، آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے اور ایک صدمے کی سی کیفیت برقرار ہے مگر کوئی پرسان حال نہیں۔
پاکستانی مسلمانوں کے ایمان میں حدت پیدا کرنے کے لئے عمران خان صاحب کی پر زور فرمائش پر ہم نے ترکی والوں سے ایک ڈرامہ ارطغرل غازی امپورٹ کیا تھا، جو اتنا مقبول ہوا کہ مذہبی طبقوں نے بھی اس ڈرامے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا اور ان کے کرداروں خاص طور پر ارطغرل اور حلیمہ سلطان کی مثالیں دی جانے لگیں۔ ہمارے سماج میں عقلی و شعوری رویوں کو فروغ دینے کی بجائے جذباتیت کی جڑیں گہری کرنے کے لئے روحانیت کے نام پر باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے ایسے ایسے لوگوں کو پروموٹ کیا گیا جو جہالت اور غربت میں اٹی اس بدحال قوم کو ایمانی و روحانی جھنجنوں کے ذریعے بہلانے کا ہنر بڑے اچھے سے جانتے تھے، انہی ہستیوں میں ہمارے شاعر مشرق بھی آتے ہیں جنہوں نے ہمیں خیالی بحر ظلمات کا ایسا اسیر بنا دیا کہ ہمیں ہر وقت ایسا ہی محسوس ہوتا رہتا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور کفار کے خلاف جہاد کرنا صرف ہم پر ہی فرض ہے۔

اب ظاہر ہے بریزر کی نمائش کے لیے برقع ڈال کر تو ایڈ نہیں کی جا سکتی، جیسے ہی ایسریٰ بلجک نے اپنے انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کیں تو پاکستانی مردوں کے سر شرم سے جھک گئے اور عزت کے ٹھیکیداروں نے حلیمہ سلطان کو مشورہ دے ڈالا کہ ”باجی حلیمہ چند پیسوں کی خاطر اپنے جسم کی نمائش مت کرو“ ۔ ہم کتنے بھولے بھالے لوگ ہیں کہ ہمیں کوئی جدھر مرضی لگا لے ہم آنکھیں بند کر کے پیچھے پیچھے ہو لیتے ہیں، بس ٹیگ مذہب کا ہونا چاہیے پھر مذہب کی آڑ میں چاہے جتنی مرضی دو نمبری چلتی رہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
نسیم حجازی، بچوں کا اسلام والے اشتیاق احمد اور تبلیغی جماعت والوں نے بڑی محنت اور ریاضت سے فکشن اور فیکٹ کے بیچ فرق کرنے کے لیے جو باریک سی لائن ہوتی ہے جسے ڈھونڈنے کے لیے دماغ یا ریشنیلٹی کی ضرورت ہوتی ہے اس باریک لائن کے فرق کو مٹا ڈالا۔ جب محرم و مجرم ایک سا دکھائی دینے لگے تو پھر آہستہ آہستہ سب کچھ ہی ٹھیک لگنے لگتا ہے۔ ہم مورل پولیسنگ کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ہمیں سکرین لائف اور حقیقی لائف ایک سی محسوس ہوتی ہے اور دو بعد المشرقین اسٹائل کو انٹرچینج ایبل سمجھتے ہیں۔
فلمی دنیا کے لئے ایک لفظ استعمال ہوتا ہے جسے ”شو بزنس“ کہتے ہیں جس کا عام فہم مطلب ”دکھاوے کا کاروبار“ بنتا ہے جو جتنا واضح اور کلیئر دکھے گا وہی سینٹر آف اٹینشن یا آئی کیچنگ ہو گا، جس کی بدولت ہی کاروبار بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔ ہم عجیب دنیا کے عجیب لوگ ہیں جو اکیسویں صدی میں بھی دوسروں کے جسم پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں خاص طور پر خواتین کے جسموں پر۔ ترکی ایک ماڈرن ملک ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ ایک طرح یورپ ہی ہے اور وہاں کی ایک ماڈرن اداکارہ ایسریٰ بلجک جو کہ اپنی زندگی میں بھی بہت بولڈ ہیں، جنہوں نے ارطغرل ڈرامے میں حلیمہ سلطان کا کردار نبھایا ہے، ہم نے ان کی سکرین لائف کو اتنا آئیڈیالایز یا روماینٹاسائیز کر لیا کہ جیسے ہی ہم نے اسے بولڈ لباس میں دیکھا تو ہمارا پارا چڑ گیا اور اسے بے شرم تک کہہ ڈالا۔
مجھے تو اپنے مسلمان بھائیوں کے دکھ بھرے کومنٹس پڑھ کر بہت ہنسی آئی اور افسوس بھی ہوا کہ ہمارے مذہبی اداکاروں نے ہمیں ہماری حقیقی زندگیوں سے کتنا دور کر دیا ہے اور خود بڑے دھڑلے سے لگژری لائف انجوائے کر رہے ہیں اور ایک اللہ سے ڈرنے والے اپنی گھٹیا سی زندگی کے تحفظ کے لئے درجنوں گارڈ ساتھ میں لیے گھومتے ہیں۔




واہ بہت پیاری تحریر۔ بہت شکریہ