ذرا سی بے احتیاطی شیر خوار بچوں کے لیے جان لیوا ہو سکتی ہے
مائیں اکثر چھوٹے شیر خوار بچوں کو رات کے وقت اپنے ساتھ سلایا کرتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو بچے کو بار بار دودھ پلانے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری وجہ بچے کا خیال رکھنے اور محبت کی وجہ سے اسے قریب رکھنے کا احساس بھی ہے۔ ویسے تو شیر خوار بچوں کی ماں کو عموماً گہری نیند میں جانے کی مہلت ہی نہیں ملتی لیکن اگر وہ گہری نیند میں چلی جائیں تو اس بات کا امکان رہتا ہے کہ نیند میں جب وہ کروٹ لیں گی تو ان کا بازو، کندھا یا جسم کا کوئی حصہ بچے کے اوپر آ سکتا ہے۔
یا پھر پاس پڑی کوئی موٹی چادر، کمبل یا تکیہ بچے کے منہ پر آ سکتا ہے جو بچے کے لیے سانس لینے میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ اتنا چھوٹا بچہ چادر تکیہ یا بازو اپنے منہ سے نہیں ہٹا سکتا اور بعض اوقات ایسی صورتحال میں رو کر اپنی تکلیف یا مشکل کے متعلق بتا بھی نہیں پاتا۔ ایسے میں یہ سانس کی رکاوٹ اس کے لیے لقمہ اجل بن جاتی ہے۔ اس لیے ایسے شیر خوار بچوں کو نہ صرف محفوظ مقام پہ سلانا بہت ضروری ہوتا ہے بلکہ سوتے وقت کوئی ایسی چادر کمبل یا تکیہ بھی ان کے چہرے کے پاس نہیں ہونا چاہیے جو ان کے منہ پہ آ کر ان کے لیے سانس کی رکاوٹ کا باعث بن سکے۔
ماؤں کو اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے کہ رات کو سوتے وقت ایسے چھوٹے بچوں کو ذرا الگ اور محفوظ جگہ پہ سلایا کریں۔ ایسی محفوظ جگہ جہاں ماں کے نیند میں کروٹ لینے سے ان بچوں کا ماں کے بازو یا جسم کے نیچے آنے کا خدشہ نہ ہو۔ یا پھر کسی موٹے کپڑے یا تکیے کا ان کے منہ پہ آنے کا امکان نہ ہو ورنہ ان کا دم گھٹ سکتا ہے اور
ایسی ذرا سی بے احتیاطی ان بچوں کے لیے جان لیوا ہو سکتی ہے۔
آج صبح ہمارے پاس ہسپتال میں ایسا ہی ایک دو ماہ کا بچہ فوت شدہ حالت میں لایا گیا۔ دیکھتے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ اس کی موت ہوئے کافی دیر گزر چکی ہے۔ ساتھ آئے لواحقین یہی بتا رہے تھے کہ صبح اٹھ کر دیکھا تو بچہ اس حالت میں تھا۔ انھیں اس بات کا اندازہ تھا کہ بچہ وفات پا چکا ہے لیکن وہ احتیاطاً چیک کروانے کے لیے اسے لائے ہوئے تھے۔ پوری صورت حال دیکھتے ہوئے یہ امکان موجود تھا کہ اس کی وفات انجانے میں کی گئی کسی ایسی ہی بے احتیاطی کے باعث ہوئی تھی۔


