پاکستانی سیاست کے عہد مزاح کا نیا موڑ
دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات سے لگ بھگ دو برس قبل کپتان کا اصل رنگ ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشہور فرمان کے مفہوم کی اگر عملی صورت دیکھنی ہو تو کپتان سے بہتر مثال فی زمانہ شاید ہی مل سکے۔ اقتدار، اختیار اور دولت انسان کو تبدیل نہیں کرتے بلکہ اس بے نقاب کرتے ہیں۔ پیسہ کبھی کپتان کی ضرورت نہیں رہا۔ بغیر کوئی کاروبار کیے کپتان نے احساس کمتری میں مبتلا پاکستانی قوم میں اپنی مقبولیت اور شخصیت کی کشش کو کمال مہارت سے استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ سے ہی شاہانہ زندگی گزاری۔
کپتان کو داد دینی پڑے گی کہ عوام میں اس تاثر کو راسخ کیے رکھا کہ وہ پیسے اور دولت سے بے نیاز آدمی ہے لیکن پیسے کا عمل دخل ان کے بود و باش میں بدرجہ اتم موجود رہا۔ چار سو کنال کے محل میں رہتے ہوئے جھونپڑیوں میں عمریں گزارنے والوں کو اپنی زندگی کا محور بنائے رکھنے کا ہنر کپتان کو ہی آتا ہے۔ خیر 2013 کے انتخابات میں کپتان کو اقتدار اور اختیار کا پہلا چسکا لگا۔ اقتدار کے غلام گردشوں میں کپتان کا گزر بسر تو کرکٹ کھیلنے کے دنوں سے تھا لیکن عوامی وسائل تک رسائی اور اس کے استعمال کا براہ راست تجربہ کپتان کو پختونخوا کی حکومت ملنے کے بعد ہوا۔
وزیراعلی اگرچہ پرویز خٹک تھے لیکن صوبائی حکومت کی پوری مشینری کپتان کی آمد پر فعال ہو جاتی۔ صوبائی کابینہ کپتان کے سامنے دم دبائے بیٹھی رہتی اور کپتان سب کو طرز حکمرانی پر لیکچر دیتا۔ کپتان کے بے سروپا فلسفوں کو سننا فہم و فراست سے عاری وزیروں کی مجبوری تھی اور یہی سے کپتان کے اندر وہ بیتابی اپنے انتہا کو پہنچی جس نے اسے وزارت عظمی کی کرسی حاصل کرنے کے لئے ہر حد پار کرنے پر آمادہ کیا۔
اس کے بعد کپتان نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ اپنی زندگی بھر کے وہ تمام اصول جس نے کپتان کو دیگر سیاستدانوں میں امتیازی حیثیت بخشی، کپتان نے اپنے پاؤں تلے مسل دیے۔ جنہیں چپڑاسی رکھنے کے روادار نہیں تھے انہیں اپنا وزیر خاص بنایا اور عمر بھر جس روایتی سیاست کے خلاف اپنی تلوار بے نیام رکھی، اسی سیاست کو اپنا نصب العین بنایا۔ ڈھلتی عمر نے کپتان کے اندر اقتدار کی بیتابی مزید بڑھا دی۔ جس نے اس کے کان میں اقتدار کے حصول کے لئے جو بھی کہا، کپتان فوراً آمادہ ہوئے۔ اداروں کے اشاروں پر ناچنے لگے، سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے اور بالآخر وزیراعظم بن بیٹھے۔
اقتدار کی یہی بیتابی اس موڑ پر جب اقتدار کے کھو جانے کا خوف لاحق ہوا ہے، مزید بڑھ گئی ہے۔ لگتا ہے کپتان نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اب ساری عمر اقتدار کے سنگھاسن سے نہیں اترنا۔ مجھے نکالا تو اور خطرے ناک ہو جاؤں گا، چوہے مل کر شیر کا شکار نہیں کر سکتے، ستائیس مارچ کو ٹرمپ کارڈ کھیلوں گا، خریداری کی منڈی لگی ہوئی ہے، لوگ آپ کے بچوں سے شادی نہیں کریں گے، واپس آ جائیں معاف کر دوں گا، میں باپ کی جگہ ہوں، نیوٹرل جانور ہوتے ہیں، اللہ نے ہمیں نیوٹرل رہنے سے منع کیا ہے۔
انٹرنیشل اسٹیبلشمنٹ کپتان کو ہٹانا چاہتی ہے، کس میں ہمت ہے کہ لاکھوں کے مجمعے سے گزر کر کپتان کے خلاف ووٹ ڈالے اور پھر واپس آئے، سپیکر کی مرضی ہے کہ ووٹ کاؤنٹ کرے یا نہ کرے، مونس الٰہی اپنے کام کو جہاد سمجھ کر کرتا ہے، یہ اور اس جیسے درجنوں بیانات اور اقدامات کپتان کی اسی بیتابی کا مظہر ہیں جو اسے اقتدار سے محروم ہونے سے ڈراتی ہے۔ جو بھی ہے قرائن ایسے ہیں کہ کپتان کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اقتدار سے محروم ہونے کے باعث کپتان کرے گا کیا؟
پاکستان سیاست کا عہد مزاح ایک نیا موڑ موڑنے کو ہے۔


