میڈیا کے حکومت پر اثرات

میڈیا اس وقت بحران سے گزر رہا ہے۔ بہت بار میڈیا کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی کہیں بار بہت سے میڈیا چینلز کے اشتہارات بند کر دیے گئے۔ ان تمام مسائل کے پیش نظر بہت سے میڈیا نمائندگان کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ حکومتی اراکین کی جانب سے ہمیشہ سے میڈیا پر پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت کو بنانے میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ یہی نہیں میڈیا نے ہر دور میں جمہوریت کو اہمیت دی اور میڈیا کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ جمہوریت کا راج ہو اور آمریت کبھی ملک میں پنجے نہ گاڑ سکے۔
اس کی بڑی وجہ میڈیا کی آزادی پر انحصار کرتی ہے۔ میڈیا آمریت کے دور میں کبھی پھل پھول نہیں سکتا۔ بات کرتے ہیں تحریک انصاف پر میڈیا کے نظر کرم کی جب سے وزیراعظم عمران خان نے تحریک کا آغاز کیا میڈیا نے بڑھ چڑھ کر کوریج دی اور چاہے وہ ڈی چوک پر دیا جانے والا دھرنا ہو یا سابقہ حکومتوں کو گرانے کے لئے کیے جانے والے لاتعداد جلسے ہوں جنہیں سونامی کا نام دیا جاتا رہا ہے۔ یہ تمام مقاصد جہاں عوام کو گھروں سے نکالنا ہو یا عوام کو جلسے یا دھرنے میں شرکت کے لئے مجبور کرنا ہو ان کو میڈیا کی مدد سے حاصل کیا جاتا رہا ہے۔
مگر یہ سب اس وقت کے اعداد و شمار ہیں جب تک میڈیا پر اتنی زیادہ پابندیاں نہیں تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب تحریک انصاف اپوزیشن کی ایک جماعت کے سوا کچھ نہ تھی یہ رات دن کی میڈیا کوریج ہر گزرتے دن نئے سرے سے انٹرویوز ہر گھر میں وزیراعظم عمران خان صاحب کی بات کو پہنچانا اور انہیں روزبروز مقبولیت کی بلندی پر لے کر جانا یہ سب میڈیا ہی کے کمالات ہیں۔ مگر وہ کہتے ہیں نہ جب تک کسی کو آزمایا نہ جائے پتا نہیں چلتا کہ کون کتنے پانی میں ہیں الفاظ کے ذریعے بیان بازی کرنے اور حقیقت میں اس پر عمل درآمد کرنے میں خاصہ فرق ہے ایک وقت تھا وزیراعظم عمران خان صاحب میڈیا کے احسان مانتے نہیں تھکتے تھے پھر ایک ایسا وقت بھی دیکھنے کو ملا جس میڈیا کی کاوشوں سے وزیراعظم صاحب الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے انہیں کو پابندیاں لگا کر مشکلات کا شکار کر دیا۔
ایسا وقت بھی آیا میڈیا بحران کے بڑھنے کی وجہ سے کہیں گھروں کے چولہے بجھ گئے۔ بہت سے میڈیا ورکرز کو اپنے پیشے سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑی۔ اب 27 مارچ کو ہونے والے اسلام آباد جلسے کی بھی میڈیا نے بڑھ چڑھ کر کوریج کی مگر ایک وقت ایسا بھی آیا جب حکومت کی جانب سے جلسے کی کوریج کو روکنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ اس طرح کے احکامات میڈیا مزدوروں کے لئے نہ قابل برداشت تھے کیونکہ کہیں لوگوں کو ایک بار پھر نوکریوں سے نکالے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
یہ ایک اندازے کے مطابق حکومت کو خدشہ لاحق تھا کہ اگر جلسے میں زیادہ افراد نے شرکت نہ کی تو جلسہ فلاپ نہ ہو جائے ان معاملات کو دیکھتے ہوئے میڈیا پر پابندی کے احکامات سامنے آئے مگر جب حکومت کو یقین ہو گیا کہ جلسہ کامیاب ہو سکتا ہے تب جا کر میڈیا کو کوریج کی اجازت دی گئی۔ کسی بھی حکومت کو یہ حق نہیں کہ میڈیا پر پابندی عائد کرے اگر میڈیا آزاد ہے تو ملک میں جمہوریت ہے مگر میڈیا کو قید کر دیا جائے تو آمریت کا دور دورہ ہے۔ اگر ملک میں شعور بیدار کرنا ہے تو حکومتوں سے اپیل ہے کہ میڈیا کو آزاد رہنے دیں تاکہ ہر سیاسی پارٹی کو اپنا آزادانہ حق دیا جا سکے۔

