عامر لیاقت کا وزیراعظم عمران خان سے شکوہ
شکوہ کی زبان بہت خطرناک ہوتی ہے جس میں انسان آداب مراتب اور رکھ رکھاؤ والی زبان بھول جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی مستی و بے خودی کی کیفیت کا نام ہے جس میں کوئی اپنا دوسرے اپنے سے کھل کر ہم کلام ہوتا ہے اور اپنے گلے شکوے کسی بھی قسم کا مصلحتی فلٹر استعمال کیے بغیر صاف لفظوں میں کہہ ڈالتا ہے، چاہے اس بلنٹ زبانی کے جتنے بھی تلخ نتائج برآمد ہوں اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اسی قسم کی شکوہ والی بلنٹ زبان کبھی ہمارے شاعر مشرق نے بھی استعمال کی تھی مگر مذہبی ٹھیکیداروں کے دباؤ میں آ کر جواب شکوہ لکھنا پڑی تاکہ سند رہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ عامر لیاقت اپنے شکوہ والے موقف پر کب تک قائم رہتے ہیں یا انہیں بھی ریکارڈ کی درستگی کے لیے جواب شکوہ کا ورژن سامنے لانا پڑتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
اگرچہ یہاں دونوں کا موازنہ بنتا نہیں ہے مگر بات سمجھنے سمجھانے کے لیے ایسی مثالوں کا سہارا لینا پڑتا ہے تاکہ معاملہ کی گہرائی تک آسانی سے پہنچا جا سکے۔ ابھی تک اس بات کا تعین کرنا باقی ہے کہ عامر لیاقت کی اس گفتگو میں سنجیدگی کی شرح کتنی ہے؟ کیونکہ ان کا ٹریک ریکارڈ بشمول شادیوں کے، غیر سنجیدگی کا مرکب ہے۔ کیونکہ جو بندہ رونے رلانے یا ہنسنے ہنسانے کی شعبدہ بازیاں اچھے سے جانتا ہو اس کے متعلق کوئی بنتی جڑتی رائے قائم کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
ٹی وی سکرین سے اپنی چرب زبانی اور شستہ اردو کی بدولت مقبولیت حاصل کرنے کے بعد اسی شہرت کو بطور سٹنٹ ہر فیلڈ میں استعمال کر کے بلندی کی سیڑھیوں تک پہنچنے والے اس بندے نے خان صاحب کو کچھ اس طرح سے آڑے ہاتھوں لیا۔ ”خان صاحب! بلیک میلرز سے بلیک میل ہونے میں مزہ آ رہا ہے؟ اگر ہم اپوزیشن میں بیٹھ جاتے تو کیا حرج تھا؟ عثمان بزدار جیسے وفادار شخص سے ذلت کے ساتھ استعفی لیا گیا۔ پرویز الہی کی انا کو تسکین پہنچا کر پوری پارٹی کو گھبرانے پر مجبور کر دیا۔ خان صاحب کو تحریک انصاف دوبارہ جوائن کرنی چاہیے۔ میں نے اتحادیوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے والے عمران خان کو جوائن نہیں کیا تھا“
یہ ایک غیر سنجیدہ شخص کی اپنے محبوب وزیر اعظم کے متعلق ایک سنجیدہ گفتگو ہے۔ جس میں انہوں نے وہ تمام باتیں کھل کر کہہ ڈالی ہیں جن کا تذکرہ تقریباً ہر بندے کی زبان پر ہے۔ چونکہ پاکستانی عوام اس عمران خان کو بڑے اچھے سے جانتے ہیں جو بہت کچھ ایسا کہہ چکا ہے جس کے لئے ہماری سرزمین ابھی موزوں ہی نہیں ہے۔
جو قوم 2022 تک جمہوریت والے حقیقی پھل کی تاثیر ہی نہ چکھ پائی ہو وہاں ”عمرانی گفتگو“ جذباتی بیانیہ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ جمہوریت کا جنم جمہوری رویوں سے ہوتا ہے اور یہ ایک طویل اور بڑا حوصلہ افزا پروسیس ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل مدتی اور فیئر چانس کے ساتھ آگے بڑھنے والا عمل کہلاتا ہے۔ اسی لیے سیاست کا میدان انہی لوگوں کو قبول کرتا ہے جو جمہوری روایات کو اچھے سے جانتے ہوں، اکھڑ اور اڑیل قسم کا میٹریل جو اپنی انا کے خول میں بند ہو وہ جمہوریت کی بساط پر زیادہ عرصہ تک ٹک نہیں سکتا۔
جن لوگوں نے خان صاحب کے 126 دن والے دھرنے کی جذباتی باتیں سن رکھی ہوں اور وہ اس دھرنے والے بندے کا آج کے کمپرومائزنگ خان صاحب سے موازنہ کرتے ہیں تو انہیں بہت مایوسی ہوتی ہے۔ آج کے خان صاحب اتنے مجبور ہوچکے کہ انہوں نے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار جو کہ ان کے اقتدار کے ”گڈلک سمبل“ تھے، جن کا دفاع وہ آخر تک کرتے رہے کی قربانی تک دے ڈالی۔ خدا کسی کو ایسی مجبوری اور بے بسی نہ دے کہ تمام آئیڈیل ازم کو بالائے طاق رکھنا پڑ جائے۔
شہزادی جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کے وہ تاریخی الفاظ یاد آرہے ہیں کہ ”جمہوریت سے بڑا کوئی انتقام نہیں ہوتا“ کیونکہ جمہوریت وہ نظام ہے جو آپ کے بڑے بڑے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دیتا ہے اور آج خان صاحب کو بھی اس حقیقت کا پتہ چل گیا ہے۔ ضدی اور اڑیل قسم کا مٹیریل جمہوریت کے لیے موزوں نہیں ہوتا کیونکہ ایسے بندوں کے اندر ایک خاص طرح کا ججمینٹل بیرو میٹر نصب ہوتا ہے جو ان سے اس قسم کے عجیب و غریب فیصلے کروا ڈالتا ہے جن کا وہ کچھ عرصے کے بعد خود ہی شکار ہو جاتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے کٹرتاپن کی وجہ سے ان کے اپنے بھی کنی کترانے لگتے ہیں۔ کیونکہ اپنے شخصی حصار میں بند اس قسم کا بندہ چند اپنوں کی بڑی محنت سے تیار کیے گئے سسٹم یا آشیانے کو تباہ کرنے میں ذرا سی دیر نہیں لگاتا اور سب کچھ بکھیر کے رکھ دیتا ہے۔ ایسے لوگوں میں سچ سننے اور سہنے کا حوصلہ نہیں ہوتا اور ان کے رویے اتنے ہارڈ اینڈ فاسٹ ہوتے ہیں کہ انہیں ہر وقت اکڑنا اچھا لگنے لگتا ہے اور جھکنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے مگر وقت کا ظالم چکر بڑے سے بڑے اڑیل کو بھی جھکنے پر مجبور کر دیتا ہے اور یہی تاریخ کا سبق ہے۔


