بے روزگاری کی شرح؛ عمران خان نے غلط ڈیٹا شیئر کیا، میڈیا نے ساتھ دیا


بے روزگاری بارے ڈیٹا

ورلڈ بینک کی جانب سے پوری دنیا میں بے روزگاری کی شرح کے حوالے سے رپورٹ شائع کی گئی۔ اس رپورٹ میں دنیا کے اکثر ممالک میں بے روزگاری کی شرح کم یا زیادہ ہونے کے اعداد و شمار بتائے گئے ہیں۔ چونکہ کرونا وبا کی وجہ سے اکثر ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ رہا، تو اس حوالے سے یہ ڈیٹا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

جعلی ٹویٹر ہینڈل ؛ ساؤتھ ایشیا انڈیکس

ٹویٹر پر ساؤتھ ایشیا انڈیکس کے نام سے ایک ہینڈل موجود ہے۔ یہ ہینڈل دسمبر 2019 کو بنایا گیا ہے۔ اس ہینڈل پر ”انڈیکس“ کے علاوہ باقی سب کچھ مل جاتا ہے! یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک اینٹی انڈین اور پرو پاکستانی ہینڈل ہے جس کا ساؤتھ ایشیا، انڈیا اور پاکستان ہی ہے۔ اس ہینڈل کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے شبہ ہوتا ہے کہ گویا یہ پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا سیل کا باقاعدہ حصہ ہے!

ساؤتھ ایشیا انڈیکس نے ورلڈ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بے روزگاری کی شرح بارے ڈیٹا ٹویٹ کیا۔ ٹویٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں 2020 اور 2022 کے دوران جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سب سے کم بے روزگاری کی شرح ریکارڈ ہوئی۔ ٹویٹ میں جنوبی ایشیا کے صرف سات ممالک کے حوالے سے ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ہندوستان میں 8، مالدیپ میں 6.3، بنگلہ دیش میں 5.4، بھوٹان میں 5، سری لنکا میں 5.9، نیپال میں 4.7، جبکہ پاکستان میں 4.3، فیصد بے روزگاری کی شرح ریکارڈ ہوئی۔

عمران خان کی قوم کو مبارکباد، غلط ڈیٹا اور جھوٹا دعویٰ

عمران خان نے اسی ٹویٹ کو کوٹ کرتے ہوئے اپنی حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے کرونا وبا کے دوران جنوبی ایشیا کے تمام ممالک سے بہتر حالات کو قابو کیا۔ عمران خان نے یہ ٹویٹ اردو اور انگریزی زبان میں کیا تاکہ ہر طبقے تک ان کا پیغام پہنچ سکے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے فیس بک پیج اور دیگر سوشل میڈیا ہینڈلز سے باقاعدہ گراف بنا کر یہ ڈیٹا شیئر کیا اور مبارک بادوں کے پل باندھے۔

جعلی ڈیٹا

ساؤتھ ایشیا انڈیکس نے ورلڈ بینک کا جو ڈیٹا کوٹ کیا وہ دراصل غلط تھا۔ چونکہ عمران خان کو اس وقت عدم اعتماد، ناراض اپوزیشن، اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا ہے تو ان مسائل سے توجہ ہٹانے اور لوگوں کو اپنی بہتر کارکردگی دکھانے کی خاطر یہ غلط ڈیٹا شیئر کیا گیا۔ عمران خان کو بھی علم ہے کہ سوشل میڈیا پر وہ ایک زاویے سے اپنی امیج بہتر کر سکتے ہیں لیکن ورلڈ بینک کا غلط ڈیٹا شیئر کرنے سے یہ عمل انتہائی مشکوک ہو گیا!

ہم نے اصل ڈیٹا کے حوالے سے تحقیق کی تو ہمیں دو مختلف جھوٹے دعوے نظر آئے۔
بے روزگاری کے حوالے سے ڈیٹا کا ٹائم فریم کیا تھا؟

ساؤتھ ایشیا انڈیکس اور عمران خان نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان میں کرونا وبا کے پیش نظر 2020 تا 2022، ( 4.3 فیصد) سب سے کم بے روزگاری کی شرح ریکارڈ ہوئی لیکن ورلڈ بینک کی اسی رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ ڈیٹا صرف 2020 تک کا ہے۔ یعنی گزشتہ ایک سال اور موجودہ سال کے یہ چند مہینے اس میں شامل نہیں۔ اس لئے یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں 2020 تا 2022 بے روزگاری کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے کم ریکارڈ ہوئی۔

کیا پاکستان میں سب سے کم بے روزگاری کی شرح ریکارڈ ہوئی؟

نہیں۔ ورلڈ بینک کی جس رپورٹ کو ساؤتھ ایشیا انڈیکس اور عمران خان نے کوٹ کیا، اس کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک میں بھوٹان میں 2020 کو سب سے کم بے روزگاری کی شرح ریکارڈ ہوئی۔ بھوٹان میں 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 3.6 فیصد رہی۔ اب ایک ذی شعور اور ہر سوچنے والا شخص 3.6 فیصد اور 4.3 فیصد میں با آسانی فرق جان سکتا ہے! ساؤتھ ایشیا انڈیکس پر بھوٹان کا ڈیٹا 5 فیصد دکھایا گیا جو کہ اصل رپورٹ کے بالکل برعکس ہے۔

اس کے علاوہ ساتھ ایشیا انڈیکس کی ٹویٹ میں افغانستان کو جنوبی ایشیائی ممالک میں شامل نہیں گیا، جبکہ افغانستان بھی جنوبی ایشیائی ممالک کا حصہ ہے۔ افغانستان میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح ( 11.7 فیصد) ریکارڈ ہوئی۔ پاکستان اس وقت افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے ؛ چونکہ یہ ٹویٹ عمران خان نے دانستہ طور پر عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے کوٹ کرنا تھا، تو ایسے میں افغانستان کی یہ بری صورت حال لوگوں کی توجہ کا مرکز ہو سکتی تھی، اس لئے افغانستان کو شامل نہ کر کے، بھوٹان اور پاکستان کا غلط ڈیٹا شیئر کیا گیا تاکہ عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ عمران خان کی حکومت کی کارکردگی سب سے بہتر ہے۔

بے روزگاری میں پاکستان کس درجے پر ہے؟ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ یا کمی واقع ہوئی ہے؟

اصل ڈیٹا کو پرکھنے کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت جنوبی ایشیا میں بھوٹان میں سب سے کم ( 3.6 فیصد) بے روزگاری کی شرح ہے جبکہ پاکستان اس لسٹ میں 4.3 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کو ٹٹولنے کے بعد ایک انکشاف یہ ہوا کہ 2019 میں پاکستان میں 3.542 فیصد بے روزگاری کی شرح ریکارڈ ہوئی تھی؛ جس کا مطلب ہے کہ ایک سال کے بعد یہ شرح 3.542 فیصد سے بڑھ کر 4.3 فیصد ہوئی ہے۔ یعنی ایک سال کے دوران بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن میڈیا پر یہ سب نہیں بتایا گیا!

پاکستانی میڈیا اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ

عمران خان کی ٹویٹ کے بعد پاکستانی میڈیا نے تحقیق کیے بغیر ہی عمران خان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یہی غلط ڈیٹا پیش کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون، ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی، ڈیلی ٹائمز، دی نیشن، دی نیوز، جنگ، ڈان، اے آر وائے، عرب نیوز، مشرق ٹی وی، بول نیوز، نوائے وقت، الغرض سب نے یہ ڈیٹا پیش کر کے خبر لگائی لیکن کسی بھی میڈیا آؤٹ لٹ نے تحقیق نہیں کی کہ حقیقت میں پاکستان کس درجے پر ہے؟ اور کیا پاکستان میں بے روزگاری واقعی کم ہوئی ہے یا نہیں؟

صحافت میں ایک اصطلاح پی آر (پبلک ریلیشنز) کی پائی جاتی ہے۔ پی آر میں کسی ادارے یا فرد کی ساکھ اور تشخص کو بحال کرنے کے لئے مثبت زاویوں سے خبریں، مواد اور مضامین، اشتہارات وغیرہ شائع یا نشر کیے جاتے ہیں۔ میڈیا آؤٹ لٹس کو ایسا مواد شائع کرنے کی مد میں بھاری رقم ادا کی جاتی ہے۔ براہ راست پی آر کا اثر کم ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کو اشتہارات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ عصر حاضر میں خبروں اور کالموں میں پی آر کا عنصر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی عمل اس معاملے میں کیا گیا۔ عمران خان اور اس کی حکومت کی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے خبر کے انداز میں پی آر کیمپین چلائی گئی۔

پاکستان میں بے روزگاری کی صورت حال

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2010 سے پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ستر لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق چوبیس فیصد تعلیم یافتہ نوجوان جبکہ چالیس فیصد تعلیم یافتہ خواتین بے روزگار ہیں۔ گزشتہ برس سلیم مانڈی والا کی صدارت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی اور ترقی کے اجلاس میں اسی ادارے نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں بے روزگاری کی شرح 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 6.5 فیصد کے حکومتی دعوے کے بالکل برعکس ہے۔

مالی سال 2020۔ 21 کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا جبکہ گزشتہ برس 2 کروڑ 7 لاکھ 60 ہزار افراد کو روزگار کے حوالے سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایک کروڑ ستر لاکھ ستر ہزار گھرانوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوا۔ جس ملک میں ایک چپڑاسی کی نوکری کے لئے ایم فل ڈگری یافتہ سمیت 15 لاکھ افراد درخواست دیتے ہوں، لوگ بہتر کمائی کی غرض سے دیگر ممالک روزگار ڈھونڈنے جاتے ہوں، ڈگری یافتہ افراد گھروں میں بے روزگار پڑے ہوں تو یہ فیصلہ آپ پر ہے کہ یہاں بے روزگاری سب سے کم کیسے ہو سکتی ہے؟

کرونا وبا نے بے شک پوری دنیا کو متاثر کیا لیکن جھوٹے دعوے اور غلط ڈیٹا سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو جاتے۔ حکومت کو سنجیدگی اس بارے سوچنے ہو گا ورنہ مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ عفریت پاکستان کو نگل جائے گا!

عمران خان نے اس ٹویٹ کا حوالہ دیا
https://twitter.com/SouthAsiaIndex/status/1506309502316195843?t=3F9p4gsXzV9wNz0wMLw9OA&s=19

اس ٹویٹر ہینڈل نے درجہ ذیل رپورٹ کا حوالہ دیا۔ لنک پر کلک کر کے خود حقیقت جانیں :
https://t.co/EILaplQmd1

Facebook Comments HS