نو سال اور نو خط


حسن کوزہ گر وہ نو سال جو تم نے جہاں زاد کی انکھوں کی تابناکی کی حسرت میں دیوانہ بن کر اپنے سوکھے تغاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے گزار دیے۔ میں نے بھی اپنے جہاں زاد کو نو خط لکھے۔ ہر خط میں لکھے ہر لفظ نے میری محبت کی گواہی دینے کو جہاں زاد کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ نہیں معلوم کہ وہ نو خط اس دنیا کے کس ملک کے کس کونے میں بیٹھ کر پڑھے گئے ہوں گے۔ ہر خط میں نے اسے لکھا کہ جب تپتی ہوئی دھوپ میں کسی سایہ دار جگہ کے نیچے بیٹھے ہم تھکن سے چور تھے اور دونوں ہی یہ چاہتے تھے کہ اس تھکن کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں تب میں نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا۔

تب میں اپنے جہاں زاد کی خوشبو سے آشنا ہوئی تھی۔ حسن کوزہ گر نو خط لکھے اور جواب ایک بھی نہیں آیا۔ حال مطلوب تھا دل کہتا تھا وہ جہاں بھی ہے بس آ جائے مگر وہ نہیں آیا۔ ہر خط کا دوسرے خط سے فاصلہ ایک سال کے برابر تھا۔ آنکھیں ترس گئی تھیں کہ جہاں زاد کسی آئینے میں ہی اتر جائے اور میں خود کو اس آئینے میں قید کردوں۔ حسن کوزہ گر میں وہ عورت جو وفا کو ہوس جانے جو عمر بھر کے رشتے کو مفاد اور غلامی کے سوا کچھ نہ سمجھے وہ اس آئینے میں قید ہونے کو تیار تھی۔

ہم ملے تھے۔ اس دنیا میں دو پیار کرنے والے جب ملتے ہیں تو بس پیار کی باتیں کرتے ہیں۔ میں اور جہاں زاد ملتے تھے تو ہمارے درمیاں طویل خاموشی ہوتی تھی۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے ہم شب ہجر بھی مناتے تھے۔ اک شب تو جہاں زاد نے پورے چاند کو دیکھتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ کوئی کسی سے اتنی محبت کیسے کر سکتا ہے؟ اور میں جو کسی سے محبت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس وقت جہاں زاد کی محبت میں قید ہو چکی تھی۔ حسن کوزہ گر میں وہ عورت جس نے زمانے کی رسمیں نہ نبھانے کی خاطر خود کو تنہائی کی گہری کھائی میں چھپا لیا تھا۔

وہ جہاں زاد کو یہ حق دے چکی تھی کہ تم جب بھی آنا شبنم کے قطرے کی مانند خود کو ترو تازہ کر کے آنا۔ انتظار جیسی اذیت کو بھی سہ لوں گی۔ آج یہ سب لکھتے ہوئے کی بورڈ پر آنسو ہیں جو شبنم کے قطروں کے جیسے تازہ تو نہیں ہیں۔ حسن کوزہ گر میں وہ شب کیسے بھولوں جس شب میں نے اسے خود کو سونپ دیا تھا پورے کمرے کی ایک دیوار شیشے کی تھی جس پر ہم دونوں نے مل کر پردہ گرا یا اور پھر جہاں زاد نے اپنے اندر کی وہ ساری محرومیاں میرے دامن میں ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ تم کبھی بھی مجھے چھوڑ تو نہ دو گی میرا کوئی گھر نہیں پھر بھی میں قید ہوں۔

حسن کوزہ گر میں وہ شب اپنی ہر سانس کے ساتھ جیتی ہوں اس شب میں پہلی بار سوئی تھی اس نے اپنے بازو کو میرا تکیہ بنایا تھا اور اس کی خوشبو میرا لحاف بنی ہوئی تھی اس کے جسم نے میری ساری تلخیاں مٹا دی تھیں وہ کمرہ جسے ہم چھوڑ آئے وہ آج کسی جنگ کا منظر پیش کرتا ہو گا کیونکہ جہاں زاد نے میرے کسی خط کا جواب نہیں دیا۔ ہر وہ گلی و کوچہ جس میں وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا وہ تمہارے رنجور کوزوں کی شکل میں آ گئے ہیں۔

وہ خوشبو جو جہاں زاد میرے جسم اور گیسوؤں کو سونپتا رہا تھا وہ اس بہار کے کسی ایک بھی پھول میں نہ مل سکی ہے۔ حسن کوزہ گر میں جو اپنے من کی شہزادی تھی وہ آج من ہار بیٹھی ہے۔ جیسے تم اپنے کوزوں پر اپنے ہاتھوں سے جان بھرتے تھے ویسے ہی میں نے ہر خط میں اسے اپنی قربت کی تشنگی بھیجی تھی۔ میں نے وہ خط دنیا سے ڈر کر نہیں لکھے تھے میری جیسی عورتیں کہاں کسی سے ڈرتی ہیں لیکن خط کا جواب نہ آنے پر میں ڈر جاتی تھی۔

حسن کوزہ گر میں تمہیں کیا بتاؤں کہ نو سال کے بعد جو تابناکی تم نے دیکھی وہ تمہارے لیے کتنی بڑی نعمت ہوگی کیونکہ مجھے تو میرے کسی ایک خط کا جواب نہیں ملا محبت میں خسارے کا سودا کرنے والوں کو میں کمزور سمجھتی تھی آج میرے ہاتھ کانپتے ہیں ان ہاتھوں سے لکھے گئے وہ خط پتہ نہیں کس ملک کی سڑکوں پر میری آوارگی اور میری بے باکی کو بیان کرتے ہوں گے۔

Facebook Comments HS