میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں تقریباً چالیس سے پچاس عورتوں سے ملتی ہوں، جن میں وہ خواتین بھی موجود ہیں جن کو کسی قسم کی معذوری ہے۔ ہم جس معاشرے میں جینے کی بھرپور کوشش میں، کبھی مار دی جاتی ہیں، کبھی اغوا کرلی جاتی ہیں، کبھی ہم عورتیں محبت کے نام پر زبر جنسی میں استعمال کی جاتی ہیں، کبھی شادی جیسے استحصالی بندھن میں باندھ دی جاتی ہیں، کبھی رشتوں کو بچاتے ہوئے وٹا سٹا جیسی فضول روایت کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔ یہ سب ان عورتوں کی بات کی گئی ہے جن کو کوئی معذوری نہیں ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جب ہم ان عورتوں یا لڑکیوں جن کو کوئی معذوری ہے ان کی زندگی کو محسوس کریں تو لگتا ہے سانس بند ہو جائے گی۔ عقل کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، جب ایک اکیس سالہ لڑکی یہ کہتی ہے، انگلیوں پر گن کر بتا سکتی ہوں باجی کہ میں پیدا ہونے سے لے کر اب تک کتنی بار اس چار دیواری سے باہر نکلی ہوں۔ صرف اس لیے کہ میں چل نہیں سکتی مجھے کہیں بھی لانے لے جانے میں گھر والوں کو پریشانی ہوتی ہے۔
آپ کی آنکھیں آنسووں سے بھر جائیں گی، جب کسی سانولے حسن کو آنکھوں میں کسی انہونی کا انتظار لئے دیکھیں گے، جس کے شوہر نے اس کو اس لیے طلاق دے دی کہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں، ڈاکٹرز کو اس کی ٹانگ کاٹنا پڑی، تا کہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ آپ اس وقت کیسا محسوس کریں گے، جب آپ ایک معصوم لڑکی جو کہ ذہنی طور پر چیزوں کو سیکھنے میں تھوڑا وقت لیتی ہے، شوق سے سیکھتی ہے، سیکھتے ہوئے مسکراتی ہے، آنکھوں میں کچھ پا لینے کی خوشی ہوتی ہے اور اپنے الفاظ کو زبان دینے کے لیے اسے اشاروں میں بات کرنا پڑتی ہے۔ اس کو سامنے والے کی بات سننے کے لیے کانوں کی نہیں آنکھوں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ ایسی لڑکی کسی کے لیے کیا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے لیکن نہیں، اس کو تشدد کر کے گھر کے اندر بند رکھا جاتا ہے، تا کہ وہ باہر نہ جائے۔ کیونکہ اگر اس کا دل کرے گا باہر جانے کو، تو اس کو کوئی بھی انسان اپنے مفاد کے لیے استعمال کر لے گا۔
Read more