اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل پر ہمارے متھ یا مغالطے اور لڑکیوں کی سیلف گروتھ

اس وقت زبان زد عام اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا اسکینڈل ہے۔ ہر طبقے سے مختلف قسم کے سوال اور تجزیے اٹھ رہے ہیں اور اس گھناوٓنے کھیل میں ملوث لڑکیوں کو برابر کا شریک بھی کہا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہونے والے سرکس مین جو سب سے گھٹیا کردار ہے۔ وہ ہمیشہ عورت کو سونپا جاتا ہے جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے۔ ہم سب ہی جانتے ہیں۔ ہر وہ کام جس میں اس معاشرے

Read more

نو سال اور نو خط

حسن کوزہ گر وہ نو سال جو تم نے جہاں زاد کی انکھوں کی تابناکی کی حسرت میں دیوانہ بن کر اپنے سوکھے تغاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے گزار دیے۔ میں نے بھی اپنے جہاں زاد کو نو خط لکھے۔ ہر خط میں لکھے ہر لفظ نے میری محبت کی گواہی دینے کو جہاں زاد کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ نہیں معلوم کہ وہ نو خط اس دنیا کے کس ملک کے کس کونے میں بیٹھ کر پڑھے

Read more

خواتین کی مرضی، کام کرنے والے ادارے اور عورت مارچ

عورت مارچ سے پہلے ہی بہت ہنگامہ ہے جو کہ ابھی چاردیواری کے اندر ہے۔ جی ہاں ان ہی چار دیواری کے اندر کیا ہو رہا ہے اس آرٹیکل میں پڑھا جائے گا۔ چاردیواری جس میں خواتین کی مرضی کے خلاف فیصلے ہوتے ہیں، فیصلے ہونے اور فیصلے کرنے میں بہت فرق ہوتا جس کو بہت درد کے ساتھ وہ عورت ہی نبھاتی ہے جس کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے۔ پاکستان میں ویسے تو عدالتیں بھری پڑی ہیں پریکٹس

Read more

عورتیں کر سکتی ہیں مگر نہیں کریں گی

مرد اس معاشرے میں اپنی طرف سے جو کر سکتے ہیں ، وہ کرتے ہیں۔  مردوں کا جس کو دل چاہے اس کی گڈی چڑھا دیتے ہیں اور جس پر دل کرتا ہے طعن و تشنیع کر کے حقائق کو اس گہری کھائی میں گرا دیتے ہیں جہاں ان کی اپنی سوچ گھوڑے بیچے سو رہی ہوتی ہے۔

اس میں وہ لوگ سب سے آگے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کا مطلب پردہ، فتنہ اور صنف نازک ہے۔ جن لوگوں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ عورت اور مرد اس معاشرے میں ایک ہی درد رکھتے ہیں تو جناب چھوٹا سا سوال ہے کہ کیا احتلام اور ماہواری کا درد ایک جیسا ہوتا ہے؟ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ پدرشاہی نے مرد ذات کو بھی نہایت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے باوجود بھی مرد ذات نے پدر شاہی کو اوڑھنا بچھونا بنا کر عورت کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھا ہوا ہے۔

Read more

برائیڈل شاور اور پیریڈز پارٹی

ایک عورت کی زندگی میں اس کو جب بہت زیادہ تحائف دیے جاتے ہیں تو وہ اس کی شادی کا دن ہوتا ہے جس میں اس کو ہر وہ چیز دی جاتی ہے جس کو سنبھالنے میں اس کی ساری زندگی گزر جاتی ہے اس کے بوجھ اور احسان کے نیچے وہ دبی رہتی ہے۔ اتنا بوجھ کہ اس کی سانس نہ نکل پائے اس کو اڑنے کی خواہش ہی نہ ہو۔ اگر کسی عورت کے پر نکلنے لگے تو ایک عدد ایسا انسان بھی اس کو بن مانگے تحفے میں دیا جاتا ہے جو اڑنے کی خواہش پر اس کے پر بھی کاٹتا ہے اور ہر لمحہ مجازی خدا ہونے کا کریڈٹ بھی خوب لیتا ہے۔ ان تحائف میں جہیز وہ عذاب عظیم ہے جو اس بے گناہ عورت پر نہایت خوبصورت طریقے سے نازل کر دیا جاتا ہے جس کو اس نے ساری عمر بھگتنا ہے۔ اور یہ خبیث جہیز ایسا عذاب ہے جو عورت پر نازل ہو تو مصیبت نہ ہو تو بھی وبال جان ہے۔

Read more

ٹو فنگر ٹیسٹ اور میرا ذاتی تجربہ

اس پر بات کرنا تو سخت گناہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے پہلی بار ماہواری ہوئی تو میری عمر سولہ سال تھی ، میں بھی ہکا بکا رہ گئی کہ یہ کیا ہو گیا مجھ سے ، میری والدہ نے جب یہ سب دیکھا تو انہوں نے یہی کہا کہ کسی کو بتانا نہیں ورنہ تمہاری پڑھائی روک دیں گے۔ میرے کندھے پر ہاتھ زور سے جماتے ہوئے ایک چھوٹا سا کتابچہ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا یہ پڑھ لو اس پر عمل کرنا اور صفائی کا خاص خیال رکھنا۔

Read more

وہ خواتین جن کو معاشرہ چھپا رہا ہے

میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں تقریباً چالیس سے پچاس عورتوں سے ملتی ہوں، جن میں وہ خواتین بھی موجود ہیں جن کو کسی قسم کی معذوری ہے۔ ہم جس معاشرے میں جینے کی بھرپور کوشش میں، کبھی مار دی جاتی ہیں، کبھی اغوا کرلی جاتی ہیں، کبھی ہم عورتیں محبت کے نام پر زبر جنسی میں استعمال کی جاتی ہیں، کبھی شادی جیسے استحصالی بندھن میں باندھ دی جاتی ہیں، کبھی رشتوں کو بچاتے ہوئے وٹا سٹا جیسی فضول روایت کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔ یہ سب ان عورتوں کی بات کی گئی ہے جن کو کوئی معذوری نہیں ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جب ہم ان عورتوں یا لڑکیوں جن کو کوئی معذوری ہے ان کی زندگی کو محسوس کریں تو لگتا ہے سانس بند ہو جائے گی۔ عقل کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، جب ایک اکیس سالہ لڑکی یہ کہتی ہے، انگلیوں پر گن کر بتا سکتی ہوں باجی کہ میں پیدا ہونے سے لے کر اب تک کتنی بار اس چار دیواری سے باہر نکلی ہوں۔ صرف اس لیے کہ میں چل نہیں سکتی مجھے کہیں بھی لانے لے جانے میں گھر والوں کو پریشانی ہوتی ہے۔

آپ کی آنکھیں آنسووں سے بھر جائیں گی، جب کسی سانولے حسن کو آنکھوں میں کسی انہونی کا انتظار لئے دیکھیں گے، جس کے شوہر نے اس کو اس لیے طلاق دے دی کہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں، ڈاکٹرز کو اس کی ٹانگ کاٹنا پڑی، تا کہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ آپ اس وقت کیسا محسوس کریں گے، جب آپ ایک معصوم لڑکی جو کہ ذہنی طور پر چیزوں کو سیکھنے میں تھوڑا وقت لیتی ہے، شوق سے سیکھتی ہے، سیکھتے ہوئے مسکراتی ہے، آنکھوں میں کچھ پا لینے کی خوشی ہوتی ہے اور اپنے الفاظ کو زبان دینے کے لیے اسے اشاروں میں بات کرنا پڑتی ہے۔ اس کو سامنے والے کی بات سننے کے لیے کانوں کی نہیں آنکھوں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ ایسی لڑکی کسی کے لیے کیا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے لیکن نہیں، اس کو تشدد کر کے گھر کے اندر بند رکھا جاتا ہے، تا کہ وہ باہر نہ جائے۔ کیونکہ اگر اس کا دل کرے گا باہر جانے کو، تو اس کو کوئی بھی انسان اپنے مفاد کے لیے استعمال کر لے گا۔

Read more

وہ ایک جیتی جاگتی حسین و خوبصورت انسان ہے

کتنی خوش تھی وہ جب اس کی شادی ہوئی۔ جب اس کو مایوں کا پیلا جوڑا پہنایا گیا اورپھوپھو جو فیصل آباد کے مشہور کپڑا بازار سے اس کے لیے گوٹے کناری سے کڑھے ہوئے مہندی کے جوڑے کے لیے ست رنگی دوپٹہ لائی۔ اس دوپٹے پر تو جیسے اس کا دل ہی رک گیا ہو۔ کہاں سوچا تھا کہ کبھی ایسا فیشن ایبل دوپٹہ وہ ٹی وی ڈراموں میں ہی نہیں اپنی زندگانی میں اور وہ بھی اتنے خاص

Read more

ماڈرن ریپ اور پدرشاہی نظام کی جیت

اس معاشرے میں پدرشاہی کو تقویت دینے کے لیے ہمیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ہم ضرور جائیں گی کیونکہ ہمیں اچھی عورت کا تمغہ مرنے سے پہلے ہر حال میں حاصل کرنا ہے۔ اور اس کے لیے ایک عورت اور مرد کے رشتے کا ہونا نہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اب وہ رشتہ کس نوعیت کا ہے۔ کتنا امیر ہے۔ کتنا غریب ہے۔ کس قدر قابل فہم ہے۔ کتنا آسان اور میچور ہے۔ اس رشتے میں دوطرفہ جذبات ہیں جس نہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کی ذاتی زندگی میں دوست کی حیثیت رکھتے ہیں جس فرعون ہیں؟ بتاتی چلوں کہ یہاں میں ایک ازدواجی رشتے میں موجود مرد اور عورت کی بھی بات کر رہی ہوں۔

Read more

چھپن کروڑ کے بدلے بے حیائی کا سرٹیفیکیٹ

ہمارا قومی پرچم پوری قوم کے لیے امن کا پیغام ہے اور ہم اس امن کے سفیر ہیں جس کا پچاس فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور اس میں وہ خواتین ہیں جو خود مختار ہیں۔ جو معذوری کے باوجود اپنا کنبے کو چلا رہی ہیں۔ جو مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں جو خود کو کسی بھی مرد سے کم نہیں جانتی اور اپنے لیے ہر اس امتحان کو بڑی ہمت سے جیت جاتی ہیں جو

Read more

مشترکہ خاندانی نظام استحصال کی منڈی ہے

ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جب چار برتن ایک ساتھ پڑے ہوتے ہیں تو وہ بجتے ہیں یعنی کہ شور مچاتے ہیں اب وہ شور کیوں ہے؟ اس کو سمجھنا بہت اہم ہے خاص طور پر والدین کے لیے جن کا ماننا ہے کہ ہمارے بچے اپنے کزنوں سے بہت سسیکھتے ہیں بچے پیدا کرکے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اب وہ جو سیکھیں گے اپنے سے بڑے کزنز یا مشترکہ خاندانی نظام کی قائم کردہ حدود و

Read more

پاپا، میری بائیسویں سالگرہ پر تحفے میں شادی کی پروپوزل نہ لاؤ

زندگی کے بائیس سال گزر گئے، کچھ خواہشوں کو قتل کیا، کچھ خواہشوں کو قربان کیا اور کچھ خواہشیں خود ہی دم توڑ گئیں۔ بائیس سال میں سب سے زیادہ اپنے باپ کے لیے جیتی رہی۔ بہت مشکل ہوتا ہے کسی اور کے لیے جینا۔ مگر اس معاشرے کی ہر لڑکی اس دور سے گزرتی ہے۔ مجھے لگتا ہے میں نے اپنی عمر میں وقت سے پہلے ہر چیز کو سمجھ لیا ہے جو کہ بہت ہی سنگین غلطی ہے

Read more