ادب کا ادب

اس موضوع کی اہمیت اور افادیت کائنات کے رشتہ محبت اور انسانی زندگی کے گرد گردش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سادہ سا لفظ جو ادب کی صورت میں منظر عام پر ہوا انسانی زندگی کی سراپا نگاری کرتا ہے۔ وہ ابدی رشتہ جو بنیادی اور حقیقی قدر کا حامل ہے انتخاب محبت اور انتخاب ادب پر منحصر ہے، یہی وجہ ہے کہ ”ادب کا ادب“ بے حد ضروری ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس لفظ کو حقیر اور معمولی جانا جاتا ہے مگر جب تھوڑا سا تحقیقی زمرے میں جا کر اس پر غور و فکر کرتے ہیں، تو یہ براہ راست میری اور آپ کی زندگی کا بنیادی جزو بھی ہے۔ جس انسان نے اس ادب کی اہمیت و افادیت کا عکس داخلی اور خارجی دونوں لحاظ سے جان لیا وہ دنیا کا کامیاب ترین شخص کہلایا۔
لفظ ”ادب“ بہت وسیع معنوں میں ہے تاریخ کے اوراق اٹھا لیں زمین اور آسمان کی بلندیوں کی سیر کر لیں، آپ کو ”ادب کا ادب“ کرنے والا چاہے وہ کسی بھی طبقہ یا گروہ سے تعلق رکھتا ہوں کامیاب نظر آئے گا۔ اس لفظ کا تعلق کسی خاص گروہ /گروپ سے نہیں ہے۔ حتی کہ یہ لفظ براہ راست خود اس شخص کی تلاش کرتا ہے جو اس کو ڈھونڈنے نکلا ہوا ہے۔
اگر اپنے معاشرے کی بات کروں یہاں پر اس کا جو مطلب اور مفہوم لیا جاتا ہے وہ صرف یک طرفہ ہے۔ لیکن میں اس کو دونوں اطراف سے واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔
لفظ ”ادب“ کا عام طور پر مطلب عزت، احترام، Respect کے معنوں میں سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب نظر کریں تو اس کا مطلب زندگی گزارنے کے اصول اور طریقے بھی ہیں۔ کسی بھی زاویہ یا اینگل سے اس پر نگاہ کریں تو مسلسل پہچان، پرکھ، تحقیق و تنقید، اور حقیقت کی نشاندہی سے وابستہ ہے۔ ان تمام عناصر کی تصدیق کرنے کے لئے کلام خدا کی رہنمائی میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ کلام خدا ہر لحاظ سے، ہر نقطہ نظر سے دیکھیں تو سادہ لفظوں میں بذریعہ تمثیل نگاری وضاحت اور مدد ملتی ہے۔
” اور جب وہ شہر میں تھا تو دیکھو ایک آدمی سراپا مبروص یسوع المسیح کو دیکھ کر منہ کے بل گرا اور اس کی منت کر کے کہنے لگا کہ: اے خداوند اگر تو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا اور کہا: میں چاہتا ہوں تم پاک ہو جاؤ، فوراً اس کا کوڑھ جاتا رہا“
( لوقا 12۔ 14 : 05 )
اس تمثیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ”ادب کا ادب“ بے حد ضروری ہے اس تمثیل کی تشریح میں یسوع المسیح اور کوڑھ کی بیماری والا دونوں اہم کردار ہیں۔ اس بیمار شخص نے ادب ( یسوع المسیح ) کی پہچان کی، پہچاننے کے بعد ادب کا ادب کیا اور اپنی کامیابی کا راستہ ہموار کر لیا۔ ایک طرف ”ادب“ ہے تو دوسری طرف کا ”ادب“ کی پہچان کرنے والا ہے۔
یہ بات تو حقیقت ہے آج بھی، جو انسان ”ادب“ کو پہچان لیتا ہے، ”ادب“ اس کے لیے کامیابی کی راہیں ہموار کر دیتا ہے۔ آج کے افراتفری کے عالم میں جس سمت انسان نے راستہ اختیار کر لیا ہے وہ مسلسل نفرت، بے ایمانی، فریب، لالچ، اور ”ادب“ سے دوری ہے۔ اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے، والدین اور اولاد میں مسلسل دوری، ایمان کی کمزوری، بنارسی ٹھگ، دوسروں کو حقیر جاننا، علم کے نام پر تجارت، مذہب کے نام پر فساد کرنا اور حقیقی محبت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ یہ اس ظلم کی نشانیاں ہیں جو ”ادب“ سے دور ہونے کی وجہ سے پیدا ہو چکی ہیں۔
ہمیں آج جس چیز کی بے حد ضرورت ہے وہ ادب کی پہچان اور ادب کے قریب آنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی وہ اصلی کامیابی حاصل کر پائیں گے جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔

