سیاسی جماعتوں کی داستانِ بدتمیزی

مجھے سیاسی موضوعات سے بالکل بھی دل چسپی نہیں اور نہ ہی میں سیاسی مگرمچھوں کے قصیدے لکھ کر قلم کو آلودہ کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ سیاست کو سیاست دانوں نے اتنا پراگندہ کیا ہے کہ سیاست کا نام سن کر ہمارے دل و دماغ میں کرپشن، لوٹ مار، گالم گلوچ، بد زبانی، کردار کشی، الزام تراشی، رشوت ستانی، اقربا پروری، بلیک میلنگ جیسے تصورات سامنے آتے ہیں ’مگر ملکی سیاسی حالات جس ڈگر پر گامزن ہیں انہیں دیکھ بحیثیت محب وطن کلیجہ ہلتا ہے اور ایسے حالات میں شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرنا مناسب نہیں۔ تحریر کا مقصد کسی کی مخالفت، حمایت یا کسی کو زچ پہنچانا ہرگز نہیں بلکہ تاریخ کے آئینے میں حقائق کو عوام کے سامنے لانا اپنا فریضہ سمجھتا ہوں اور یہ ایک قلم کار کی اولین نشانی ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی کی دور حکومت عروج پر تھی اور آصف زرداری صدر کے عہدے پر براجمان تھے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اکثر اپنی تابڑ توڑ خطاب میں انہیں لاڑکانہ، کراچی، پشاور اور لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹ کر لوٹا ہوا مال برآمد کرنے کی شدید خواہش کا اظہار کر رہے تھے۔ آصف زرداری میاں نواز شریف سے مخاطب ہو کر کہا کرتے تھے کہ اب اگر ہم نے میاں کو چھوڑ دیا تو اللہ بھی ہمیں معاف نہ کریں کیونکہ یہ قومی چور ہے۔
ان سے کبھی اتحاد نہیں ہو سکتا ان سے جنگ ہی رہے گی۔ بلاول کی وہ تقریر تو آپ سب کو یاد ہو گی جس میں وہ نواز شریف کو ضیا الحق کی اولاد کہا کرتے تھے اور شہباز شریف کو قاتل اعلیٰ کہہ کر پکارتے تھے۔ مریم صاحبہ اپنے جلسوں میں عمران ’زرداری بھائی بھائی کے نعروں سے کارکنوں کا لہو گرما رہی تھیں۔ روز اول سے ہی ان دونوں پارٹیوں میں شدید نظریاتی اختلاف تھا۔ اگر آپ ان کے ماضی میں جھانک کر دیکھ لیں تو یقیناً آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔ ماضی میں دونوں اطراف سے القابات اور الزام تراشی کی گولہ باری کی گئی۔ چند اور واقعات پیش خدمت ہے۔
دو نومبر 1988ء کا قومی اخبار میرے موبائل کی سکرین پر ہے جس میں نواز شریف کی طرف سے بینظیر کی برہنہ تصاویر ہیلی کاپٹر سے لاہور شہر میں گرانے والی شرمناک خبر کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ اسی طرح جب زرداری جیل میں تھا تو بینظیر پیلا سوٹ پہن کر جیل میں زرداری سے ملنے گئی تو نون لیگ والوں نے پیلی ٹیکسی کہہ کر پکارا اور اس دور میں بینظیر ٹیکسی کے نام سے مشہور ہونے لگی۔ ایک صاحب نے انتہائی دل جلانے والی بات لکھی ہے کہ بینظیر نے ایک دفعہ اسمبلی میں بیان دیا کہ ”مصروفیت کی وجہ سے اس کی ایک ٹانگ کراچی اور دوسری ٹانگ اسلام آباد میں ہوتی ہے“ جس پر نون لیگی وزیر نے فقرہ کسا کہ ”ملتان والوں کی تو پھر موج رہتی ہو گی“ اس پر نون لیگ کے اراکین نے دل کھول کر ڈیسک بجائے اور بینظیر آنسوؤں کے ساتھ وہاں سے نکل کر اپنے چیمبر میں آ گئی۔ اس کے علاوہ تاریخ ایسے ان گنت شرمناک واقعات سے بھری پڑی ہے جن کی تفصیل کے لیے یہ مختصر کالم تو کیا کتابیں بھی کم پڑیں گی۔
مولانا فضل الرحمٰن بھی سیاسی میدان کے انوکھے کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں۔ جس حکومت میں مولانا ہوں وہ حکومت جائز اور جس کا وہ حصہ نہ ہوں وہ ناجائز اور جعلی ہوتی ہے۔ کہتے ہیں جب 1993ء میں بینظیر بھٹو وزارت عظمیٰ کی امیدوار تھیں تب مولانا فضل الرحمٰن نے یہ فتویٰ صادر کیا تھا کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی جائز نہیں ہے۔ وہ قوم تباہ ہوئی جس نے اپنی حکمرانی عورت کے حوالے کر دی۔ بعد ازاں جب بینظیر بھٹو کی حکومت آئی تو مولانا بھی ان کی حکومت کا حصہ بن گئے اور لیگی رہنماؤں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور خواجہ آصف نے انھیں ”ڈیزل“ کا خطاب دیا جو ہنوز جاری ہے۔ عمران خان شیخ رشید سے کہتا تھا کہ میں آپ کو چپڑاسی بھی نہ بناؤں۔ مجھ سمیت پوری قوم کو زور کی ہنسی تب آئی جب انھوں نے چپڑاسی کو وزیر داخلہ بنایا۔
اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے داغ دار اور شرمناک ماضی کے باوجود بھی آج پی ڈی ڈی ایم کے نام سے شیر و شکر ہو گئے ہیں۔ بینظیر کی حکمرانی کو ناجائز قرار دینے والا مولانا مریم نواز اور آصفہ بھٹو کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے۔ آج بلاول بڑی آپا کے ساتھ سلفیاں کھینچ رہا ہے۔ ماضی میں ایک دوسرے کو چرب زبانی کے ذریعے چور ڈاکو کہنے والے ملک دشمن، مفاد پرست، نمبر گیم، لالچی سیاست دان آج ایک دوسرے کو ایمان دار ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک کو بیچنے والے ملک کو بچانے کی بات کر رہے ہیں۔ بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں تقسیم کرنے والے آج اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے بھٹو کا نام استعمال کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلانے والے جن کو ماضی میں خود ایک دوسرے پر کبھی اعتماد نہیں رہا ’آج ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ یہ صرف اور صرف اقتدار کی جنگ ہے اور اقتدار کے لیے کوئی بھی فتویٰ صادر کر سکتے ہیں، کوئی بھی غیر اخلاقی فعل انجام دے سکتے ہیں اور کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ واللہ کوئی کسی کا پیٹ نہیں پھاڑ سکتا۔ آج بلاول کو یہ سمجھ لینا چاہیے تھا کہ ماں کو اذیت پہنچانے والوں سے دشمنی تو ہو سکتی ہے البتہ دوستی نہیں۔

