بچہ رو رہا ہے، فیڈر دیں یا پھر تھپڑ


سر پر لٹکتی عدم اعتماد کی تلوار نے جیسے عمران خان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی ہیں۔ کپتان بھول چکا ہے کہ ایک چیز ہوتی ہے جسے انگریزی میں گریس اور اردو میں غالباً وقار کہتے ہیں۔ فیض صاحب کی روح بھی تڑپ رہی ہوگی کہ عمران خان کے پیروکار جان کی نہیں شان کی بات کرتے ہیں لیکن اس لافانی شعر کے اصل مفہوم سے لامتناہی فاصلے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ واقعی اقتدار کا ذائقہ منہ کو لگے تو اس کے جانے کا خوف انسان کے دل و دماغ کو تلخی اور کڑواہٹ سے بھر دیتا ہے۔ جس پارلیمنٹ سے پھوٹنے والے اختیار و اقتدار کے لئے مرے جا رہے ہیں، خود کش بمبار بن کر اسی پارلیمنٹ کو اڑانے کی باتیں کرتے ہیں۔

اپنے وزیروں اور مشیروں کے بعد وزیراعظم نے بھی اقتدار کی جنگ میں حضرت امام حسین رض کا مبارک نام استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ عمران خان کے فیسبک پر جلی حروف میں لکھا دیکھا جا سکتا ہے کہ جس طرح امام حسین رض اور ان کے ساتھیوں نے تعداد میں کم ہونے کے باوجود یزیدیت سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا تھا، اسی طرح کپتان بھی اپوزیشن سے ٹکرانے کے لئے اسوہ حسین رض پر عمل پیرا ہے۔ کپتان بھول گیا ہے کہ جب امام عالی مقام نے یزیدی لشکر سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا تھا، اس وقت یزید حکومت اور امام اپوزیشن میں تھے۔

آپ یہ تحریر جب پڑھیں گے تو شاید اتوار کا دن گزر چکا ہو گا اور دنیا جان چکی ہوگی کہ عمران خان کی زنبیل میں ترپ کا پتا آخر کون سی بلا ہے جو اپوزیشن کی عددی اکثریت کو نگل جائے گی اور کپتان کی حکومت کا سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ یونہی چمکتا رہے گا۔ کپتان واقعی ’آخری بال‘ تک لڑنے کے لئے تیار ہے اس بات سے قطع نظر کہ یہ لڑنا نہیں بلکہ پڑنا ہے، کپتان لگتا ہے پچ پر لیٹ کر اپوزیشن کے ساتھ ساری قوم بلکہ دنیا کو سرپرائز دینے والا ہے۔

آخری بال تک لڑنے کا کپتان کا عزم عملی طور پر دو باتوں میں ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ کپتان سپیکر قومی اسمبلی کو واقعی اپنا ٹائیگر بننے پر آمادہ کر چکا ہے اور سپیکر عدم اعتماد کی تحریک پر یہ کہہ کر ووٹنگ کرانے سے انکار کر لے کہ یہ تحریک عالمی استعمار کی سازش ہے، اس لئے وہ اس پر ووٹنگ نہیں ہو سکتی۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرنے کے بعد بھی صدر مملکت کپتان کو بطور وزیراعظم کام کرنے کی ہدایت کرے کیونکہ آئین میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لئے کوئی وقت نہیں دیا گیا اور نئے وزیراعظم کے انتخاب سے قبل موجودہ وزیراعظم اپنے فرائض منصبی انجام دینے کا مجاز ہے۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے اور یہاں معاملہ کپتان کے حسن کرشمہ ساز کا ہے، کوئی بعید نہیں کہ نئے وزیراعظم کے انتخاب سے ما قبل زمانہ کپتان کی سوچ میں ڈیڑھ سال پر محیط ہو اور یوں وہ اپنی باقی مدت پوری کر لے یا پھر اس عرصہ میں اپنے ’فرائض‘ منصبی میں کپتان نے اسمبلیاں توڑنے کا اختیار بھی شامل کر لیا ہو۔ اس پورے کھیل میں ملکی معاملات بالخصوص معیشت پر کیا گزرتی ہے، اس کے متعلق سوچنے کا نہ کپتان کے پاس وقت ہے اور نہ کپتان کے نزدیک اس کی کوئی ضرورت۔

کپتان اور اس کے مزاج کے متعلق لکھنا ہو تو اختصار ممکن نہیں رہتا۔ کپتان جب پانچ منٹ کی بات دو دو گھنٹوں کی تقریروں پر پھیلا سکتا ہے تو کوئی کیونکر کپتان کے متعلق اختصار سے لکھے؟ ایک بات البتہ بالکل واضح ہے کہ کپتان کے اندر اپنے مخالفین سے پائے جانے والی نفرت کا بے پناہ لاوا پایا جاتا ہے۔ اس لاوے کی زد میں جو بھی آئے گا، کپتان اسے خس و خاشاک کی طرح جلا دے گا۔ اللہ رحم کرے کپتان کی نفرت کا نشانہ عنقریب اسٹیبلشمنٹ یا زیادہ واضح لفظوں میں پاکستانی فوج بننے والی ہے۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ چار سال سے کپتان کی ایک نومولود بچے کی طرح مدد کر رہی تھی، اب جب اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ کھینچ لیا ہے تو کپتان کا غصہ دیدنی ہے۔ اب یا تو بچے کو اس کا فیڈر دینا ہو گا یا پھر ایک زناٹے دار تھپڑ کہ چپ کر جا اب تو بڑا ہو گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ بھی بند کمروں میں اپنے بال نوچ رہی ہوگی کہ کس بلا سے واسطہ پڑا ہے؟ نواز شریف سے جان چھڑانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ جس کپتان کو بڑے مان سے لائی تھی، کپتان اسی کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ اگلے کچھ ہفتے پاکستان کے لئے نہایت سنگین لیکن بہرحال دلچسپ ہوں گے۔ کپتان خود کے ساتھ سب کو لہولہان کر سکتا ہے۔ آج مظاہروں میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کچھ نئے نعرے بھی ایجاد ہوئے، لگتا ہے پی ٹی آئی کو کچھ نعرے پی ٹی ایم سے بھی مستعار لینے پڑ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS