دھماکہ کرنے کی خواہش شہریار آفریدی کی تھی، کر کپتان نے دیا


پچھلے دنوں پہلے تو وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے تمنا ظاہر کی کہ کاش وہ اپوزیشن کے درمیان جا کر خودکش دھماکہ کر دیں۔ غالباً ان کے اس اپنے تن من کو کپتان پر وارنے کا جذبہ دیکھ کر کپتان نے ان کی بہت توصیف کی ہو گی، اسی لیے چند دن بعد وفاقی وزیر برائے جان اللہ کو دینی ہے، شہریار آفریدی نے بھی اپوزیشن میں جا کر خودکش دھماکے سے خود کو اور اپوزیشن کو اڑانے کی آرزو ظاہر کر دی۔

کپتان کو دیوانہ وار چاہنے والوں کو تو شاید ان کا جذبہ اچھا لگا ہو گا۔ وہ بھی اپنا جسم و جان اور روح و دماغ سب کپتان کو سونپ چکے ہیں۔ لیکن غالباً ان دونوں نے کپتان کو آئیڈیا دے دیا کہ اگر اپوزیشن کو تباہ و برباد کر کے اس سے نجات پانی ہے، تو بہتر ہے کہ سیاسی خودکش دھماکہ کر کے اپنی حکومت تباہ کر لی جائے اور ساتھ ساتھ کرپٹ اور شدید غدار اپوزیشن کی اکثریت والی قومی اسمبلی کو بھی اڑا دیا جائے۔ یعنی ویسے ہی تحلیل کر دیا جائے جیسے خودکش دھماکے کے بعد ارد گرد کی تمام چیزیں ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔

تو صاحبو، کپتان نے ووٹنگ ہونے سے پہلے ہی سیاسی خودکش دھماکہ کر کے اسمبلی تباہ کر دی۔ اس کے بعد اپوزیشن والوں کی شکلیں دیکھنے والی تھیں۔ غالباً انہیں وہ تاریخی واقعہ یاد آ رہا ہو گا جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک بندے کا گھوڑا بیمار ہو گیا تو سلوتری نے اسے دوائی کھلانے کے لیے دی۔ اب بندے نے بہت کوشش کی مگر گھوڑا دوائی کھانے پر تیار نہ ہوا۔ اس نے واپس سلوتری کے پاس جا کر اپنی مشکل بیان کی۔ سلوتری نے کہا کہ میاں اس کا حل تو بہت سادہ ہے، ایسا کرو کہ ایک پائپ لو، اس میں دوا رکھو، اور پھر اس کا ایک سرا گھوڑے کے منہ میں رکھ کر دوسرے سرے سے زور سے پھونک مارو تو ساری دوا گھوڑے کے حلق میں چلی جائے گی جسے وہ نگلنے پر مجبور ہو گا۔ اگلے دن وہ شخص بہت خستہ حالت میں سلوتری کے پاس آیا۔ سلوتری نے پوچھا کہ میاں کیا ہوا؟ کیا تم نے میری بتائی ہوئی ترکیب پر عمل کیا تھا؟

وہ شخص نہایت رنجیدہ ہو کر کہنے لگا کہ سلوتری جی، میں نے جیسے ہی دوا پائپ میں رکھ کر گھوڑے کے منہ میں رکھی تو اس نے اڑی نہیں کی۔ پھر جب میں نے پائپ کے دوسرے سرے پر منہ رکھ کر پھونک مارنے کے لیے سانس اندر کھینچنا شروع ہی کیا تھا، تو گھوڑے نے پہلے پھونک مار دی۔ اب ساری دوا میرے حلق سے ہو کر پیٹ میں پہنچ گئی ہے اور پیچش لگ چکے ہیں۔ اس کا تریاق تو دیں، بہت پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔

اپوزیشن کا ارادہ بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے بعد جلد اسمبلی توڑ کر انتخابات کروانے کا بتایا جاتا تھا۔ لیکن تحریک عدم اعتماد خارج ہونے اور کپتان کے اسمبلی توڑنے کے بعد اپوزیشن کے تاثرات سے بھی یہی محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے گھوڑے نے اس کی دی ہوئی دوا خود کھانے کی بجائے پہلے پھونک مار دی۔

اب خیر معاملہ سپریم کورٹ میں ہے جس کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ اہم قومی معاملات میں اس کا فیصلہ ہمیشہ بہترین قومی مفاد میں ہوا کرتا ہے۔ کابینہ ڈویژن نے بھی کپتان کے وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے لیکن صدر مملکت نے کپتان کو نگران حکومت کے قیام تک وزیر اعظم رہنے کا حکم دیا ہے۔ دیکھتے ہیں کل کیا صورت حال بنتی ہے مگر حالات اپوزیشن کے لیے پریشان کن ہی ہیں۔ اب اسے کہیں سے تریاق مل گیا تو اس کی خوش قسمتی ورنہ اس کے ساتھ بری ہو گی۔

اگر اپوزیشن کو حکومت بنانے کا موقع مل جاتا تو وہ چند ماہ میں کپتان کی حکومت کے چند سکینڈل نکال کر اس کا نام کرپشن سے جوڑنے کی کوشش کر سکتی تھی۔ وہ قوم کو یقین دلاتی کہ کپتان تو بگلا بھگت ہے، کرپشن کے خلاف بولتا ہے لیکن اس کی حکومت میں بہت کرپشن ہوئی۔ لیکن اب کپتان کے قومی اسمبلی توڑنے اور پھر اپنی حالیہ مقبولیت کے عروج کے ساتھ اپنی مرضی کی نگران حکومت کے تحت فوراً انتخابات میں جانے کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن ویسا ہی صاف شفاف ہونے کی امید کرنی چاہیے جیسا کہ 2018 میں ہوا تھا۔ اور وزیراعظم بننے کے بعد کپتان نے اپنی مرضی کا سپہ سالار مقرر کیا تو وہ نہ صرف ایک پیج پر رہنے کے فیض کے باعث 2027 تک حکومت کرے گا بلکہ عین ممکن ہے کہ اپنے پسندیدہ سپہ سالار کو ایکسٹینشن دے دے کر خود کو تاحیات حکومت کرنے کا اہل ثابت کر دے۔ یہ ایکسٹینشن والا قانون اپوزیشن نے ہی تو اتنی محبت سے بنوایا تھا۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar