غیر آئینی اقدام، تحریک عدم اعتماد مسترد، قومی اسمبلی تحلیل خدا خیر کرے!


اتوار کو قومی اسمبلی میں عجب تماشا ہوا وزیر اعظم عمران خان نے متحدہ اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کی بجائے قومی اسمبلی کو ہی تحلیل کر دیا یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جو آخری گیند تک لڑنے کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے۔ آخری گیند تک لڑنے کی بجائے پہلے پچ پر لیٹ گئے اور پھر وکٹیں اکھاڑ کر راہ فرار اختیار کر لی کھلاڑی میں سپورٹس مین سپرٹ ہوتی ہے۔

وہ اپنی شکست خوش دلی سے قبول کر لیتا ہے لیکن عمران خان نے اقتدار سے چمٹے رہنے کے لئے فاؤل گیم کھیلا ہے جس کا ان کو کوئی فائدہ ہونے کی بجائے سیاسی نقصان ہی ہوا ہے۔ اگر وہ سمجھتے تھے کہ کہ وہ سیاسی گیم ہار چکے ہیں تو انہیں تحریک عدم اعتماد جمع ہونے سے پہلے ہی قومی اسمبلی تحلیل کر دیتے لیکن کپتان بروقت سیاسی فیصلے کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ لہذا جو کام انہیں 8 مارچ 2022 ء سے پہلے کرنا تھا۔ وہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے روز کیا عمران خان شروع میں اس حد تک مطمئن دکھائی دیتے تھے کہ وہ برملا یہ کہتے کہ وہ تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے دعائیں مانگ رہا تھا تو اللہ نے اسے قبول کر لیا

ہفتہ کی رات تک عمران خان کہہ رہے تھے کہ انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا میں اپوزیشن کو سرپرائز پچھلے ڈیڑھ دو ہفتے سے ان کا بیانیہ امریکہ مخالف ہو گیا اور اس بات زور دیتے نظر آئے کہ ان کے خلاف عالی سازش ہوئی ہے اور امریکہ ان کو اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے۔ ممکن ہے پاکستان جیسے ملک کو جسے عمرانی حکومت نے بھکاری بنا دیا ہے۔ میں اس نعرے کو مقبولیت حاصل ہو عمران خان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ میاں نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو بھی لوگوں میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی لیکن بالآخر انہوں نے بھی زمینی حقائق کے مطابق اپنی پالیسی بنا لی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں عمران خان دوسرے وزیر اعظم جن کے خلاف واقعی تحریک عدم اعتماد منظور ہو گئی صرف ووٹنگ کا پراسس مکمل کرنا تھا جو عمران خان کے حکم پر ڈپٹی سپیکر نے مکمل نہیں ہونے دیا اور سکھا شاہی قانون کے تحت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی بجائے ڈپٹی سپیکر محمد قاسم نے مسترد کر دی اور عمران خان کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا موقع فراہم کیا اب اس غیر آئینی و غیر قانونی پراسس کا حصہ بننے والے تمام افراد کو آئین کے آرٹیکل 6 کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈپٹی سپیکر کے بارے میں بھی سن لیجیے موصوف خود حکم امتناعی پر ڈپٹی سپیکر کے منصب پر براجمان ہیں جب کہ ان کو الیکشن ٹریبونل عام انتخابات میں دھاندلی پر ڈی سیٹ کر چکا ہے۔ محمد قاسم سوری کو آئین کا مذاق اڑنے کا فریضہ سونپا گیا ہے۔ سپیکر اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈپٹی سپیکر محمد قاسم سوری کے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے، وزیر اعظم کی جانب سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس جاری کرنے اور صدر مملکت کے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے سے پیدا ہونے والی صورت حال پر از خود نوٹس لینے کے بعد اپنی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بنچ دیا ہے۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے ریفرنس پر ہونے والی سماعت موخر کر دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، سیکریٹری داخلہ اور دفاع کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری اور وزیراعظم عمران خان کے اقدامات کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم دونوں کے اقدامات خلاف آئین ہیں۔ جس وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہو، اسے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے حکومتی اقدامات کو پہلے سے لکھا ہوا اسکرپٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری سرور نے غیرآئینی کام کرنے سے انکار کیا، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے غیرآئینی رولنگ کے بعد اجلاس جاری رکھا۔

دلچسپ امر یہ ہے۔ اتوار کے دن منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کا حکومتی پارٹی نے پہلے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد ازاں یقینی شکست کو دیکھ کر ایک نئی حکمت عملی اختیار کیا میں ڈپٹی اسپیکر اسمبلی قاسم سوری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا، ڈپٹی سپیکر نے اپنی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کی قرارداد آئین، قومی خود مختاری اور آزادی کے منافی ہے۔

رولز اور ضابطے کے خلاف میں یہ قرارداد مسترد کرنے کی رولنگ دیتا ہوں، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 54 کی شق 3 کے تحت تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جمعہ 25 مارچ 2022 کو طلب کردہ اجلاس کو برخاست کرتا ہوں، اپوزیشن کا شدید شور شرابا، ہنگامہ آرائی اور احتجاج شروع کر دیا، ایوان میں شدید نعرے بازی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا تاریخ ساز اجلاس اتوار کو دن 12 بجکر 10 منٹ پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا، نعت شریف کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا جس کے احترام میں تمام اراکین اسمبلی کھڑے ہو گئے۔ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے ممبران نے بھر پور شرکت کی تاہم پی ٹی آئی کے منحرف اراکین لابی میں بیٹھے رہے، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی وفاقی وزیر قانون و اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری کو مائیک پر بولنے کی اجازت دی اس دوران کچھ اپوزیشن اراکین نے احتجاج کی کوشش کی لیکن پھر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف سمیت کوئی بھی بڑا رہنما فواد چوہدری کو مائیک دیے جانے پر اعتراض کے لئے نہیں اٹھا، وزیر قانون نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت ہے جب کہ اسی آئین کا ایک آرٹیکل 5 اے بھی موجود ہے جسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک کے عدم اعتماد 8 مارچ کو پیش ہوتی ہے جب کہ ہمیں بیرونی دھمکی کا مراسلہ 7 مارچ کو ملتا ہے۔ دونوں کے تانے بانے ملتے تھے۔ اس لئے اگلے ہی روز تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی 7 مارچ تک تحریک عدم اعتماد کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہمارے سفیر نے ہمیں مراسلے کے ذریعے کے آگاہ کیا کہ ایک ملک میں ایک میٹنگ ہوئی ہے جس میں پاکستان کے سیاسی معاملات زیر غور آئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ عدم اعتماد کی کامیابی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیرونی حکومت کے دباؤ پر پاکستان میں حکومت تبدیل کرنا سازش ہے اور ہم یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ اس دوران اچانک بعض اتحادیوں اور 22 منحرفین کا ضمیر جاگ جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہم غلام ہیں؟

کیا ہم کٹھ پتلیاں ہیں؟ کیا کوئی ملک پاکستان کی حکومت تبدیل کر سکتا ہے۔ کیا ہم اتنے ہی مجبور اور لاچار ہیں اور کیا ہم بقول اپوزیشن لیڈر بھکاری ہیں۔ وزیر قانون نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف بیرونی سازش ثابت ہو چکی ہے۔ لہذا ہم سپیکر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ آئین کے آرٹیکل 5 اے کے تحت اس سے مسترد کر دیں اور عالمی سازش کو ناکام بنا دیں۔

وزیر قانون کے اس بیان کے فوراً بعد ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اپنی رولنگ پڑھنا شروع کردی جس پر اپوزیشن بینچز کے تمام اراکین احتجاجاً کھڑے ہو گئے اور شور شرابا شروع کر دیا لیکن ڈپٹی سپیکر تیزی سے اپنی رولنگ دیتے گئے۔

فواد چوہدری کے اعتراض کے فوری بعد ہی ڈپٹی اسپیکر نے اراکین قومی اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد 8 مارچ 2022 کو پیش کی تھی۔ عدم اعتماد کی تحریک کا آئین، قانون اور رولز کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی غیر ملکی طاقت کو یہ حق نہیں کہ وہ سازش کے تحت پاکستان کی منتخب حکومت کو گرائے، وزیر قانون نے جو نکات اٹھائے ہیں۔ وہ درست ہیں۔ لہذا میں رولنگ دیتا ہوں کہ عدم اعتماد کی قرارداد آئین، قومی خود مختاری اور آزادی کے منافی ہے اور رولز اور ضابطے کے خلاف میں یہ قرارداد مسترد کرنے کی رولنگ دیتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 54 کی شق 3 کے تحت تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جمعہ 25 مارچ 2022 کو طلب کردہ اجلاس کو برخاست کرتا ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایوان زیریں کے اجلاس کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس جیسے ہی ملتوی ہوا تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی خوشی میں سپیکر ڈائس کے قریب جمع ہو گئے اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے سامنے نعرے بازی شروع کردی، انہوں نے عمران خان کے حق میں خوب نعرے بازی کی تاہم اپوزیشن رہنما اور اراکین خاموشی سے بیٹھے رہے اور کسی قسم کی تکرار یا جھگڑا نہیں کیا۔ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد تقریباً 20 منٹ تک تمام اپوزیشن قائدین اور اراکین اندر موجود رہے اور ایک دوسرے سے مشاورت کرتے رہے۔

ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے عدم اعتماد کی قرارداد کو مسترد کیے جانے کے بعد حکمران جماعت کے ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے جشن منایا اور لوٹے لوٹے اور امریکہ کا جو یار ہے۔ غدار ہے۔ غدار کے نعرے لگائے پی ٹی آئی کے ارکان کا جشن سمجھ سے بالاتر ہے۔ تحریک عدم اعتماد منظور ہوتی یا وزیر اعظم قومی اسمبلی تحلیل کر دیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں پی ٹی آئی کا قافلہ لٹ گیا حکومت تو پی ٹی آئی کی ختم ہوئی ہے۔ عمران خان نے جو کچھ کیا ہے۔

اس سے جمہوری نظام نہ صرف کمزور ہوا ہے بلکہ انہوں نے غیر جمہوری قوتوں کو جمہوریت کی بساط لپیٹ دینے کی دعوت دی ہے۔ یہ الگ بات ہے۔ فوج کے ترجمان نے وزیر اعظم کی جانب سے قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے اقدامات بارے میں فوج کی رضامندی شامل ہونے پر فوج کے ترجمان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے absolutely not کا جواب دیا اور کہا کہ آج جو کچھ ہوا اس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

ایسا دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان عزت و وقار کے ساتھ اقتدار نہیں چھوڑنا چاہتے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ عمران خان 15 دن مزید وزیراعظم رہیں گے۔ شیخ رشید احمد جو عمران خان کے خود ساختہ ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ نے عجیب بات کہی ہے کہ جب جیلوں میں سپرنٹنڈنٹ چکر لگاتا ہے تو پاگل اپنی فیلڈنگ کرتے ہیں اور جب سپرنٹنڈنٹ چلا جاتا ہے تو قیدی بھی اپنے آپ کو چوکی پر بٹھا دیتے ہیں۔ بات ختم ہو گئی۔

دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ کیا اس طرح ملک چلتا ہے کہ ایاز صادق ہفتے میں دو بار نواز شریف سے ملنے لندن جائیں، مجھے مریم کا اندازہ ہے کہ ان پر کیا گزر رہی ہے۔ میں ہمیشہ کہتا رہا کہ اپوزیشن غلط شاٹ کھیلنے جا رہی ہے۔ عمران خان اور مقبول بنے گا۔ شیخ رشید احمد کو معلوم ہے۔ 2018 ء میں کس عمران خان کی پارٹی کو کامیابی دلائی گئی اب شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ کا قصہ پارینہ بن جائیں۔

قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر کارروائی دیکھنے صحافیوں کی بڑی تعداد پریس گیلری میں موجود تھی۔ گیلری میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ صحافیوں کو مہمانوں گی۔ گیلری میں بھی بٹھایا گیا دوسرے شہروں سے بھی صحافی تماشا دیکھنے آئے لیکن تماشا نہ عمران خان تحریک عدم اعتماد کا سامنا کیے بغیر جشن منانے پر مصر ہیں۔

قوی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی تحریک کے دوران تحریک انصاف کے منحرف ارکان ہال میں نہیں آئے، قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی اور قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد جب تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے چلے گئے تب منحرف ارکان ایوان میں آئے، اور اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے رہے عمران خان نے جہاں قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی ایڈوائس جاری کی وہاں چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے گورنر پنجاب چودھری سرور کو برطرف کر دیا ہے۔ پونے چار سال گورنر پنجاب کے منصب پر فائز رہنے والے چوہدری محمد سرور کی برطرفی کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کے درمیان شدید نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6 اپریل 2022 ء تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ میرے خلاف سازشوں سے باز نہیں آئے تو سارے راز کھول دوں گا۔ مجھے کبھی عہدوں کی خواہش نہیں رہی ہے اور ہمارا خواب تھا کہ پی ٹی آئی عوام اور قانون کی حکمرانی قائم کرے، اس کے لئے ہم نے عمران خان کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی، عمران خان 9 اراکین صوبائی اسمبلی والے شخص سے بلیک میل ہوئے وزیر اعظم نے کہا صرف عثمان بزدار ہی نیا پاکستان بنا سکتا ہے۔ پرویز خٹک میرے پاس کاغذ کا ٹکڑا لائے کہا دستخط کر دیں تو میں نے کہا کہ برطانوی پارلیمان کا رکن رہا ہوں غیر آئینی کام نہیں کر سکتا، انہوں نے مجھے گالیاں دیں تو اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گا۔ رات کو مجھے کہا گیا پرویز الہی ہار رہا ہے۔ اسمبلی اجلاس ملتوی کر دیں تو میں نے کہا میں آئینی سربراہ ہوں غیر آئینی کام نہیں کروں گا۔ ہم امریکہ سے ٹکر نہیں لے سکتے۔ عمران خان غیر سیاسی مشورے لینے سے گریز کریں۔ کرنل قذافی نے بھی ٹکر لی پھر دیکھیں اس کے ساتھ کیا ہوا۔

اگر سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے اقدام کو درست قرار دیا تو آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت وزیر اعظم اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے جب کہ کابینہ تحلیل کر دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لئے قومی اسمبلی ہال میں مسلم لیگ ق کے رکن طارق بشیر چیمہ کے آئے تو اپوزیشن نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین بھی تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینے پہنچ گئے اس طرح چوہدری برادران پہلی بار تحریک عدم اعتماد کے ایشو پر منقسم ہو گئے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران شہباز شریف مقرہ وقت پر ایوان میں آ گئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران مسلم لیگ نون کے ارکان نواز شریف کی تصویر کے ساتھ تصویریں بناتے رہے۔ مسلم لیگ نون کی رکن زہرہ ودود فاطمی نواز شریف کی تصویر ایوان میں لائی جس کے ساتھ ان سمیت مسلم لیگ نون کے ارکان تصویریں بناتے رہے۔

متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم کے درمیان 27 نکاتی معاہدہ طے پانے کی خبر نے سیاست کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ ایم کیو ایم نے متحدہ اپوزیشن کی حمایت کرنے کا فیصلہ کر کے عمران حکومت کو اکثریت سے محروم کر دیا تھا۔ اسی طرح اپوزیشن نے اپنے اجلاس میں 175 ارکان کی حاضری یقینی بنا کر عملاً وزیر اعظم عمران خان پر عدم اعتماد کر دیا تھا۔ ایم کیو ایم کی علیحدگی حکومت کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے۔ وزیر اعظم عمران نے ایم کیو ایم کے دربار پر حاضری بھی دی منت و سماجت بھی کی لیکن بڑے فیصلوں میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی تاخیر نے ایم کیو ایم کو حکومت سے الگ ہونے کا جواز فراہم دیا۔

کپتان سیاسی کھیل کو کرکٹ ہی سمجھتے رہے اور نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمنٰ، شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی نقلیں اتارنے میں مصروف رہے دوسری طرف آصف علی زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمنٰ ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے ایک ایک رکن قومی اسمبلی کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہے۔ وزیر اعظم تحریک عدم اعتماد کے لئے دعائیں مانگتے تھے۔ بالآخر ان کی دعا قبول ہو گئی متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کر دی اب انہوں نے اقتدار سے ہٹانے کی بین الاقوامی سازش کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے پریڈ گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے جلسہ میں ایک پر اسرار خط لہرا کریہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ دو گھنٹے کی تقریر میں سرپرائز ان کا یہ خط تھا جو امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر نے لکھا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ان کو آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے پر سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑا جلسہ ضرور کیا عمران خان نے 10 لاکھ مجمع اکٹھا کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن محتاط اندازے کے مطابق تمام تر وسائل استعمال کر کے 30 ہزار لوگوں کو ہی اکٹھا کیا جا سکا یہ جلسہ طاقت ور حلقوں کو مرعوب کرنے کی کوشش تھی۔

متحدہ اپوزیشن نے بھی بڑا جلسہ کر کے تحریک انصاف کے جلسہ کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی آصف علی زرداری جنہیں ایک جہاں دیدہ سیاست دان کہا جا سکتا ہے۔ نے حکومتی اتحاد میں نقب لگا کر حکومت کی پارلیمانی قوت کو منتشر کر دیا دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے 177 کی گنتی پوری کر دکھائی گویا ایک زرداری سب پہ بھاری ثابت کر دکھایا انہوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ سے ایک روز قبل چوہدری برادران کو بھی رام کر لیا تھا اور نواز شریف کو چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے پر رضا مند کر لیا تھا لیکن اچانک کیا ہوا کہ چوہدری پرویز الہی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے لئے گئے کہ وہاں سے وزیر علیٰ پنجاب کے لئے نامزد ہو کر آ گئے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے عثمان بزدار کی قربانی دے دی وزیر اعظم پچھلے پونے چار سال سے عثمان بزدار کو ہر قیمت پر وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھائے رکھنے پر مصر تھے لیکن جب انہوں نے اپنے اقتدار کا سنگھاسن ڈولتے دیکھا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے محبوب عثمان بزدار سے استعفا طلب کر لیا یہ استعفا ٰ وزیر اعظم کے نام تھا جسے گورنر پنجاب سے منظور کر ایا گیا اپوزیشن کے حلقوں کا موقف ہے کہ ایک روز قبل متحدہ اپوزیشن نے چوہدری شجاعت حسین کی خواہش پر چوہدری پرویز الہی کو وزیر بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

اس سلسلے میں نواز شریف کو بھی آمادہ کر لیا تھا۔ چوہدری شجاعت حسین سمیت 20 افراد کی موجودگی میں چوہدری پرویز الہی نے وزارت اعلیٰ قبول کی دعائے خیر کے ساتھ مٹھائی بھی کھا لی تھی کہ اگلے روز وزیر اعظم نے ان کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کر کے ترپ کا پتہ پھینکا لیکن چوہدری پرویز الہی کے ساتھ ایم کیو ایم گئی اور نہ ہی باپ نے ان کا ساتھ دیا بلکہ ان کی اپنی جماعت کے اندر ہی فساد پڑ گیا طارق بشیر چیمہ جو مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری جنرل ہیں اور عمران خان کابینہ میں وزیر ہاؤسنگ و ورکس تھے۔

نے نہ صرف وزارت سے استعفا دے دیا بلکہ کھل کر اعلان کر دیا کہ وہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دیں گے۔ چوہدری سالک حسین بھی اپوزیشن کے ساتھ جا کھڑے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) جس کے قومی اسمبلی میں 5 اور پنجاب اسمبلی میں 9 ارکان ہیں۔ منقسم ہو گئی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین شرافت کا مجسمہ اور جہاندیدہ شخصیت ہیں۔ نے چوہدری پرویز الہی کے سیاسی کھیل سے پیدا ہونے والی بد مزگی کو نہ صرف ختم کرنے کی کوشش کی بلکہ چوہدری پرویز الہی کی اخلاقی و سیاسی حمایت کر کے یہ پیغام دیا کہ چوہدری برادران میں کوئی تقسیم نہیں چوہدری پرویز الہی کا موقف ہے کہ اگرچہ متحدہ اپوزیشن کی جماعتیں ان کو پنجاب کی وزارت اعلی دینے کے لئے تیار تھیں لیکن مریم نواز کو اس فیصلے پر تحفظات تھے۔

اس پورے کھیل میں نواز شریف کے پاس ویٹو پاور ہے۔ اس لئے انہوں نے حکومت کی پیشکش منظور کر لی جب کی مریم نواز نے کہا ہے۔ ان کی جماعت نے چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ عمران خان کے طرز عمل نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اس حد تک قریب کر دیا ہے کہ نواز شریف چوہدری پرویز الہی کو وزارت اعلی پنجاب دینے پر آمادہ کر لیا حالانکہ نواز شریف یہ سمجھتے کہ چوہدری پرویز الہی بہت جلد پورے پنجاب کی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کر لیں گے اور وہ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کو دیس نکا لا دلوا دیں گے لیکن آصف علی زرداری نے چوہدری پرویز الہی کے عمران خان کیمپ میں چلے جانے کا ازالہ ایم کیو ایم کے تمام مطالبات تسلیم کر کے سیاست کا پانسہ پلٹ دیا انہوں ایم کیو ایم کو سادہ کاغذ پر مطالبات لکھ کر دینے کی پیش کش کر کے اپنے دام میں پھنسا لیا ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ کر کے عمران خان کو سرپرائز دیا وہ تو شہباز شریف پر اس حد مہربان ہو گئے انہیں متحدہ اپوزیشن کے اجلاسوں مسٹر پرائم منسٹر کہہ کر مخاطب کرنے لگے متحدہ اپوزیشن کے سندھ ہاؤس میں عشائیہ میں 199 ارکان کی شرکت سے ثابت ہو گیا کہ عمران خان اکثریت کی حمایت سے محروم ہو گئے ہیں۔

اس عشائیہ میں پی ٹی آئی کے بائیس ارکان نے شرکت کی عمران خان کو اب صرف 142 ارکان کی حمایت رہ گئی ہے۔ اس دوران وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن سے محفوظ راستہ مانگا اور تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی صورت میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی پیشکش کی لیکن اپوزیشن نے مستعفی ہونے کم کوئی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا دو روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں خط بارے میں بتایا کہ یہ امریکہ سے آیا ہے لیکن جب ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ خط کسی اور ملک کا تھا۔ بہرحال ووٹنگ روز عمران خان نے آخری گیند تک لڑنے کی بجائے وکٹیں اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں جس کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا اب ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔

بہر حال عمران خان کے اقدام نے پاکستان میں آئینی بحران پیدا کر دیا ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے سے حل ہونے کا امکان ہے۔ اگر چہ سپریم کورٹ نے تمام ریاستی اداروں کو آئین اور قانون سے بالا کوئی اقدام اٹھانے سے روک دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے۔ ملک میں جمہوری پراسس کا رخ اختیار کرتا ہے۔ ہمیں ایک دو روز اس کا انتظار کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS