یوٹرن خان کو طلعت حسین کا قیمتی مشورہ


ہمارا بہادر عمران خان جو کہ پاکستان کی عوام کا مسیحا ہونے کے ساتھ ساتھ اب عالم اسلام کا ہیرو بھی بن چکا ہے، جس کے خلاف امریکہ نے پاکستان کی اپوزیشن کو ساتھ ملا کر ایک بہت بڑی سازش رچائی۔ اس سازش کے نتیجہ میں وہ عمران خان کے اقتدار کا دھڑن تختہ کرنا چاہتے تھے مگر ہمارے خان صاحب نے بڑی سمارٹ چال چلتے ہوئے اپوزیشن کو درمیان میں سے جو ایک طرح سے امریکہ کے لئے ”وچولے“ کا کردار نبھانے میں مصروف تھے نکال باہر کر کے ڈائریکٹ امریکہ کے ناپاک منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنے ہی صدر کے ذریعے اسمبلی تحلیل کروا ڈالی اور امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ ”سرکار آپ کو اپوزیشن کے کرائے کے کندھے کی مدد مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟

بندہ خود یہ کام بڑے اچھے سے سر انجام دے سکتا ہے۔ یعنی خان صاحب نے امریکہ کے کہنے پر خود ہی سیاسی خودکشی کا ارتکاب کر ڈالا اور بعد میں رولا ڈال دیا کہ ہم نے اپوزیشن اور امریکہ کی سازش ناکام بنا دی ہے اور اب اس چورن کو اتنا بیچا جائے گا کہ آ خر ایک دن یہی تاریخ کا سچ بن جائے گا۔ نجانے اس ملک میں طاقتور طبقوں کی جانب سے کتنے مسلسل جھوٹ بولے جاتے رہے ہیں؟ جو اب ہماری تاریخ کی کتابوں کا حصہ بن چکے ہیں اور ہماری نسلیں اسی کو رٹ کر امتحان میں ٹاپ کر کے اعلی عہدوں پر براجمان ہو جاتے ہیں۔

اب ہمارے موجود ہیرو اور ان کی بریگیڈ کی طرف سے امریکہ پر لعنت کا سلسلہ جاری ہے اور انہوں نے ایک مدبر کھلاڑی کی طرح امریکہ کی چال کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا ہے۔ اسی بہادری اور بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سید طلعت حسین نے کپتان کو مشورہ دیا ہے کہ “چونکہ اب آپ پرائم منسٹر نہیں ہیں تو فوری طور پر اپنے بچوں کو یورپ سے پاکستان بلوا لیں اور انہیں علامہ اقبال پڑھائیں، اس کے ساتھ ناظرہ اور رومی کی تعلیمات سے بھی ان کو مستفید فرمائیں، اگر کچھ اضافی وقت میسر آ جائے تو ان کی اردو میں بہتری لانے کا بھی کوئی بندوبست کیا جائے۔ اپنے بچوں کو گائیڈ کریں کہ اب ہم مزید مغربی اداروں سے استفادہ نہیں کریں گے اور انہیں تلقین کریں کہ ہمیں ان کا غلام یا پٹھو نہیں بننا، کیونکہ ہم ایک آ زاد ریاست مدینہ کے شہری ہیں۔”

طلعت حسین کے اس مشورے کے بعد ہم جیسے بندوں کا بھی خان صاحب کے ڈائی ہارڈ پیروکاروں کو ایک قیمتی مشورہ ہے۔ چونکہ امریکہ نے آپ کے مہان ہیرو کے خلاف بہت بڑی سازش کی ہے تو اس سازش کا منہ توڑ جواب دینا تو بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو وہ سابقہ وزرا جنہوں نے خان صاحب کی کابینہ میں اقتدار کے مزے لوٹے ہیں اور وہ امریکن نیشنلٹی ہولڈر ہیں، وہ امریکن کارڈ پر تھوکنے کے بعد اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے یہ اعلان فرمائیں کہ اب ہم کبھی بھی امریکہ نہیں جائیں گے اور ہم اس سرزمین پر تھوکتے ہیں جہاں پر ہمارے محبوب لیڈر کے خلاف سازش پلانٹ کی گئی۔

کیونکہ غصے کے اظہار کا اس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے اس عملی مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے درجنوں کاروباری جن کا آنا جانا امریکہ لگا رہتا ہے وہ بھی خان صاحب کی محبت میں سرشار ہو کر اسی قسم کا اقدام کرنے کی طرف راغب ہوجائیں۔ یقین مانیں امریکہ کو عملی طور پر سبق سکھانے کا اس سے اچھا طریقہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ عالم اسلام کے اس مسیحا کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتے تو پھر زبانی جمع خرچ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

احمقوں کے لہجے میں باتیں کرنے والے ان افراد کو اگر آج ہی امریکہ کا ویزہ مل جائے تو یقین مانیں یہ اپنے موجودہ ہیرو کو بھی چھوڑ چھاڑ کر بھاگ جائیں گے۔ روٹی کے آگے سب ہیروز ناکام ٹھہرتے ہیں۔ یہ کڑوی حقیقت اور تاریخ کا سچ ہے کہ سازشیں ہمیشہ دماغ والے ہی کرتے ہیں جذباتی افراد نہیں۔ اور جذباتی بڑھک باز سازشوں کا شکار ہی بنتے ہیں نا کہ دوسروں کے خلاف سازش کرتے ہیں، کیونکہ سازش کے لئے دماغ ضروری ہوتا ہے نا کہ جذبات کے پینڈورا باکس۔

Facebook Comments HS