اسمبلی کی بحالی کے امکانات اور امریکی ڈپلومیٹ ڈانلڈ لو


پہلے ذرا اس ذات شریف کا ڈانلڈ لو کا تعارف کروا دیں۔ یہ موصوف امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ سیکرٹری ہیں اور یہ جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کے ٹاپ ڈپلومیٹ ہیں۔ یعنی یہ مالدیپ اور افغانستان سمیت برصغیر کے تمام ممالک کے انچارج ہیں۔

اب دیکھیں اس کم بخت لو کی شرارت۔ پہلے اس نے آئی ایم ایف سے قرضہ دلوایا۔ پھر پاکستانی سفیر سے کپتان کی حکومت کے بارے میں گندے گندے تبصرے کیے۔ سفیر نے کپتان کو شکایت لگائی تو وہ یہ مقدمہ پاکستان کے غیور عوام کے پاس لے گیا جو صرف اس کے اپنے ووٹر ہیں، آپ جان چکے ہوں گے کہ باقی جماعتوں کے ووٹر نہ صرف غیرت سے تہی بلکہ غدار بھی ہیں۔ ڈانلڈ لو یہ دیکھ کر ڈر گیا اور آئی ایم ایف کا بستہ اٹھا کر بھاگ گیا۔

بھاگا تو کیا ہوا، کپتان سے بچ کر کہاں جائے گا۔ اس کے متعلق کپتان نے اپنے پریڈ گراؤنڈ کے مشہور جلسے سے بتانا شروع کیا اور اپنے انٹرویوز میں کچھ الفاظ کو تبدیل کرتے ہوئے بتاتے رہے کہ ڈانلڈ لو نے سات مارچ کو پاکستانی سفیر سے میٹنگ میں کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی نمائندگی کر رہے ہیں اور پاکستان سے تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک کپتان کی حکومت موجود ہے۔ اس ملاقات کے بعد بھی پاکستانی سفارت خانے کی ایک تقریب میں انہوں نے ورچوئل شرکت کی تھی اور پاکستانی سفیر ان کے بہت شکرگزار ہوئے تھے۔

کپتان نے تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈانلڈ لو کی مبینہ امریکی سازش کو بنیاد بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ساری اپوزیشن ہی امریکہ سے ملی ہوئی ہے اور اس کے اشارے پر کپتان کو ہٹانا چاہتی ہے۔ جب تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا وقت آیا تو کپتان نے قاسم سوری کو کہا ”مار اوئے ڈپٹی“ ۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے نے تحریک عدم اعتماد مار دی۔ کپتان یوں دوبارہ اسمبلی توڑنے کا اہل ہو گیا۔ اس نے فوراً اسمبلی توڑ دی۔ اب صدر نگران حکومت بنانے کے چکر میں ہے اور اپوزیشن سپریم کورٹ کے چکر کاٹ رہی ہے۔

کپتان کو اس مبینہ امریکی سازش کی وجہ سے پاپولر سپورٹ ملی ہے۔ نیم مردہ پڑے اور بھٹکے ہوئے مداح دوبارہ اس کے گرد جمع ہو رہے ہیں۔ اب اگر نیا الیکشن ہوتا ہے تو کپتان پوری مہم ہی ڈانلڈ لو کا نام لے لے کر امریکہ مخالف تقریریں کر کے چلائے گا اور بتائے گا کہ اپوزیشن نہ صرف نہایت کرپٹ ہے بلکہ شدید غدار بھی ہے۔ امریکی ظاہر ہے اپنا نام یوں روشن ہوتے دیکھ کر مشرقی شرم و حیا کی پتلی فلمی ہیروئن کی مانند دوپٹے کا کونہ مروڑتے ہوئے کچھ شرمائیں گے، کچھ گھبرائیں گے اور کچھ غصہ دکھائیں گے۔ خاص طور پر ان کا ٹاپ ڈپلومیٹ ڈانلڈ لو تو اس بے پناہ محبت سے پریشان ہو گا کہ زمانہ کیا کہے گا، کہیں وہ محلے میں بدنام نہ ہو جائے۔

لیکن ڈانلڈ لو کیوں اہم ہے؟ بتایا جاتا ہے کہ اکتوبر 2021 میں پاکستانی مالیاتی وفد جس میں وزیر خزانہ شوکت ترین اور گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر بھی شامل تھے، آئی ایم ایف کو منانے واشنگٹن گیا۔ آئی ایم ایف کی مائی روٹھی بیٹھی تھی کہ پاکستانی معاہدے کے مطابق اپنے وعدے پورے نہیں کر رہا اور وہ اب ایک دھیلا نہیں دے گی۔ ایسے میں پاکستانی سفارت خانے میں ان حضرات کی ڈانلڈ لو سے میٹنگ ہوئی۔ انہوں نے لو کو یقین دلایا کہ پاکستان سب وعدے پورے کرے گا اور موجودہ پاکستانی حکومت کو امریکہ سے سچی محبت ہے اور وہ طالبان کو بھی سمجھائے بجھائے گی۔

ڈانلڈ لو نے خوش ہو کر اثبات میں سر ہلایا اور آئی ایم ایف نے ایک ماہ بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر دے دیے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک وغیرہ کا مائی باپ امریکہ ہی ہے۔ اور باقی دنیا کے مالیاتی ادارے انہیں دیکھ کر کسی ملک سے لین دین کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن اس مارچ کے شروع سے ہی آئی ایم ایف اگلے ایک ارب ڈالر دینے میں اڑی کر رہا ہے۔

اب جب کہ سپریم کورٹ میں دو دن سے اس بات پر بحث جاری ہے کہ ڈپٹی نے قرارداد ٹھیک مسترد کی یا اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، آئی ایم ایف نے نئی شرلی چھوڑ دی۔ اس نے فرمایا کہ وہ پاکستان کا پروگرام معطل تو نہیں کر رہا لیکن پیسے اسی وقت دے گا جب نئی سیاسی حکومت آئے گی۔ آئی ایم ایف کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ چونکہ نگران حکومت کو پالیسی سازی کے امور میں اختیارات حاصل نہیں ہوتے اس لیے وہ اس سے بات نہیں کرتا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر نگران حکومت پندرہ دن کے بعد بنے، اور اس کے دس پندرہ دن بعد نئی حکومت بنے، تو کم از کم بھی چار ماہ بعد پیسے ملیں گے۔ یعنی جولائی میں۔ اور مذاکرات کا وقت شامل کر لیا جائے تو دو چار ماہ اوپر بھی ہو سکتے ہیں۔

اب اڑچن یہ ہے کہ بجٹ جون میں نگران حکومت کے دور میں پیش ہونا ہے۔ اور بجٹ آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کے پیسے کے بغیر نہیں بن سکتا۔ اور یہ ادارے نگران حکومت کو پیسے دینے کو راضی نہیں ہوں گے۔ اور یہ ادارے جس شخص کے اشارے پر نرم گرم ہوں گے اس کا نام ڈانلڈ لو ہے۔ اور ڈانلڈ لو کو کپتان نے ان تین ماہ کے دوران اپنی انتخابی مہم میں خوب برا بھلا کہنا ہے۔ ایف اے ٹی ایف والے بھی اسی بندے کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ دوسری طرف برادر عرب ممالک بھی قرضے دینے سے انکاری ہیں۔ چین تو قرضہ یا امداد دینے سے ویسے ہی کنی کتراتا ہے۔ تو پھر پاکستان کیا کرے کہ دیوالیہ ہونے سے بچ سکے؟

بہرحال آپ نے پریشان ہونا ہے تو ہوں، ہمیں کوئی فکر نہیں۔ کیونکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس نے اسمبلی کی برطرفی کے معاملے پر مناسب فیصلہ کرنا ہے۔ اس کا ارادہ تو آج ہی فیصلہ کرنے کا تھا، مگر آج کسی وجہ سے جلدی عدالت برخواست کرنی پڑی۔ توقع ہے کہ کل مناسب فیصلہ آ جائے گا جو سو فیصد میرٹ پر ہو گا۔

اب اگر میرٹ کے مطابق موجودہ اسمبلی بحال ہو جاتی ہے، جو ایسی حکومت بنا لیتی ہے جسے پالیسی سازی کا اختیار بھی ہو اور ڈانلڈ لو اور اس کے باس جو بائیڈن کو وہ بری بھی نہ لگتی ہو، تو آئی ایم ایف وغیرہ کا دل بھی نرم پڑے گا۔ یوں ایک مناسب فیصلے سے بہت سے مسئلے حل ہو جائیں گے اور بجٹ سے پہلے پاکستان کو پیسہ مل جائے گا۔ ورنہ بس پھر پیٹی کس کر باندھ لیں اور ناہموار پرواز کے لیے تیار ہو جائیں۔

گو ‏جس تواتر سے ڈپٹی کے خلاف ریمارکس آ رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے بعض لوگوں کو خوف آ رہا ہے کہ فیصلہ اسی کے حق میں آئے گا۔ بزرگ جب کسی بچے کو دوپہر میں خوب ڈانٹتے ڈپٹتے ہیں تو شام کو اس کا ٹوٹا ہوا دل جوڑنے کو اسے آئس کریم بھی تو کھلاتے ہیں۔ بزرگوں کی ڈانٹ میں ان کا پیار ہی تو چھپا ہوتا ہے۔ ہماری باہمی سیاستیں بھی تو بہت ہوتی ہیں۔

اب یاد رہے کہ یہ تبصرہ سو فیصد ہوائی باتوں اور امکانات پر مبنی ہے۔ ملک خداداد میں پہلے کون سی چیز آئین قانون اور عقل منطق کے مطابق ہو رہی ہے جو بندہ منطقی تجزیہ کرنے میں اپنا وقت برباد کرے۔ اسے بس فاضل قلم کار کی خواہشات پر مبنی تحریر ہی سمجھیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar