ایوان اقتدار سے بنی گالہ تک
حکومت میں آنے کے ایک دن بعد دو سو ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر مارنا، پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، سبز پاسپورٹ کی عزت، دو سو بندوں کی ٹیم جو مملکت خداداد کی مستقبل سنوارے گا، تعلیمی ایمرجنسی، ریاست کی سیاست میں مداخلت اور سب سے بڑھ کر کرپشن فری پاکستان اور اس نعرے کے بل بوتے آپ نے عوام کو بیوقوف بنایا اور ووٹ بٹورے۔ ان سارے وعدوں کی تکمیل تو کجا الٹا پاکستان کرپشن میں کئی درجے تنزلی کے بعد ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے لسٹ میں مزید نیچے چلا گیا۔
چلو ہم فرض کرتے ہیں کہ زرداری، شریف برادران، مولانا فضل اور دیگر سیاستدان بشمول کچھ آپ کے ناقد صحافی چور اور بد عنوان ہیں چار سالوں میں ان سے کتنے پیسے وصول کرچکے؟ حکومت میں رہتے ہوئے اپ کو اندازہ نہیں تھا کہ ادارے کیسے چلتے ہیں، عدلیہ کا کیا کردار ہے، پارلیمنٹ کا کیا کام ہے، عدلیہ سے کیوں من پسند فیصلے کرائے جاتے ہیں۔ ادارے ٹھیک کرنے کہ بجائے الٹا آپ نے اپنی ضد اور آنا کی وجہ سے ادارے تباہ و برباد کیے۔ نیب نے براڈ شیٹ کے معاملے میں کیا گل کھلائے۔ پی آئی اے اور نیشنل بینک پر جرمانے لگے آپ نے ان کے سربراہان سے وضاحت طلب کی۔ آپ نے کس وزیر اور معاون خصوصی کو غلط بیانی پر نشان عبرت بنایا؟
آپ کو چاپلوسی اور پرفارمنس میں فرق ہی محسوس نہیں ہوا۔ آپ تو نرگسیت کے اعلی درجے پہ چلے گئے۔ آپ پر سیلیکٹڈ اور لاڈلے کے الزامات لگائے گئے اور اپ نے بیڈ گورننس اور یو ٹرنز سے ثابت کیا کہ واقعی آپ لاڈلے اور سلیکٹڈ ہو۔ بقول ابصار عالم ”آپ سب کو اپنا غلام سمجھتے تھے۔ آپ فوج سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ آپ کے لئے سیاسی مینجمنٹ کرے۔ عدالتوں سے توقع رکھتے کہ وہ آپ کے مرضی کے مطابق فیصلے کرے۔ جس عدالت نے اسحاق ڈار کا گھر نیلام کیا اسی عدالت نے آپ کے بنی گالہ کو ریگولرائز کیا۔ اس وقت آپ کے وصول اور ضمیر کہا سوئے ہوئے تھے؟
جتنی سازشی تھیوریز پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں گردش کر رہی ہیں اگر اس میں 20 فیصد بھی درست ثابت ہو جائیں تو آپ اور آپ کے پیروکاروں کی سیاست 30 سال پیچھے جا سکتی ہے۔ وہ نوجوان اور پروفیشنلز لوگ جو ہاتھ میں ڈگری لے کر در بدر کے ٹھوکریں کھا رہے کیا وہ بھول جائیں گے کہ آپ کی ”بادشاہت“ میں تقریباً پچاس سے زیادہ اداروں کے سربراہان ریٹائرڈ فوجی افسران لگے۔ آپ کے وزیروں اور مشیروں نے کچھ کیا نہیں اور سرکاری خزانے سے کروڑوں روپیہ مخالفین پر کیچڑ اچھالنا اور گالم گلوچ کرنے کے وصول کیے۔
جب آپ کے نورتن کو پتہ چلا کہ آپ کی حکومت جانے والی ہے تو آپ کے سب سے معتمد ساتھی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے اپ کو چھوڑ کر چلے گئے اور ورلڈ بینک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بورڈ میں پوسٹنگ کروا لی۔ آپ نے سیاست میں گالم گلوچ کی بنیاد رکھی۔ آپ کی سوشل میڈیا ٹیم بد اخلاقی کا ایٹم بم ہے۔ بقول رضوان رضی لمحہ موجود میں آپ جس چیز کی مخالفت کرتے ہو عین اسی وقت وہ گناہ آپ کر رہے ہوتے ہو۔ پشاور اور فانا کے لوگوں نے آپ کو سر آنکھوں پر بٹھایا تھا۔
جب کوچہ رسالدار پشاور میں 60 سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بنی عین اسی قوت آپ جوڑ توڑ اور حکومت بچانے میں مصروف تھے۔ میں دعوی کے ساتھ کہتا ہو کہ خان صاحب اور ان کے مشیروں کے علم میں یہ بات نہیں ہوگی کہ سابقہ فاٹا میں ایک یونیورسٹی بھی بن رہی ہے جن سے منسلک روڈ کی افتتاحی تقریب کے لئے تو آپ آتے ہو مگر یونیورسٹی نہیں کیوں کہ یونیورسٹی کا PC 1 پچھلے حکومت نے بنایا تھا۔ رنگ برنگے اور مختلف اعداد و شمار کی چارٹس اور ٹیبل سوشل میڈیا کی زینت بنی رہتے ہیں جس سے آسانی سے مہنگائی کا تقابلی جائزہ لیا جاسکتا ہے، ڈالر سے لے کر خوردنی تیل تک قیمتیں درج ہوتی اور آپ یہ پڑھ کر حیران رہ جائیں گے کہ ہر چیز 150 فیصد سے زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔ چار سال میں کیا آپ نے مزدور کے 20 ہزار تنخواہ کا بجٹ بنایا کہ اتنی تنخواہ میں اس کا کیسے گزارہ ہوتا ہو گا ہے۔ آپ کے کتے ”شیرو“ کی ماہانہ خرچہ ایک سترہ گریڈ ملازم جتنا ہے اور آپ سادگی اور ریاست مدینہ کی درس دیتے ہو۔
میں ان کو نہیں چھوڑوں گا، نہ میں کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں، پچھلے حکومت، چوری، ڈاکو اور لوٹی ہوئی دولت جیسے نعرے اب بوگس ہو گئے اس سے کام نہیں چلے گا۔ آپ تو ہر جگہ ہر نشست میں ارشاد فرماتے کہ میں سیاحت کو ترقی دوں گا کتنے سیاح آئے آپ کے دور حکومت میں؟
اگر اپنے دوسری بار حکومت کرنی ہے تو میں میں میں کی راگ الاپنا چھوڑ دے، لوٹوں کی سیاست ترک کر دیں اسی لوٹوں نے آپ کی حکومت کو راتوں رات غرق کر دیا اور آپ کو بنی گالہ کا راستہ دکھایا۔ آپ اصول پسند بنے یا بے اصول۔ 92 ورلڈ کپ کی جھلکیاں دکھانا بند کرے۔ آپ جس شیشے کی مرتبان پر اتراتے ہو وہ جہانگیر خان نے 6 مرتبہ اور جان شیر خان نے 8 مرتبہ جیتا ہے اور آپ کی طرح یونس خان نے بھی ایک بار کرکٹ کا ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ جیتا ہے۔ آپ اگلے الیکشن میں عوام کو کیا بتائیں گے کہ میں نے امریکہ کو ابسلوٹلی ناٹ کہا ہے۔


