مجلس شوریٰ اور ملنگوں کی جنونی دھمال


علامہ اقبالؒ کی آخری کتاب ”ارمغان حجاز“ کا پہلا حصہ فارسی رباعیات پر مشتمل ہے، ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ ارمغان حجاز کے حصہ اردو کی پہلی نظم ہے۔ اس نظم کا سال تصنیف 1936 ہے۔ نظم کا انداز مکالمے کا ہے جس میں ابلیس اپنے چند ساتھیوں اور مشیروں کے ساتھ اہل فرنگ یعنی مغربی طاقتوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ملوکیت کے خیالات و خواہشات، عالمی مذہبی و اخلاقی اداروں کی ناکامی، امیروں کی سرمایہ پرستی، محکوم پسماندہ اور مفلس قوموں کی تقدیر پرستی کو اپنی کامیابی قرار دیتا ہے۔

ابلیس کے کچھ مشیر بھی عالمی سیاسی، معاشی، معاشرتی ماحول اور تہذیبی اداروں کے مابین شر اور فساد کو اپنی کار کردگی کا نتیجہ بتاتے ہیں۔ یہ نظم ابلیس اور اس کے مشیروں کے درمیان باہمی گفتگو اور سوچ بچار کو منظر عام پہ نمایاں کرتی ہے جو وہ عالم انسانیت کی تباہی، بربادی، بھوک افلاس اور خونریزی کے کھیل کو جاری رکھنے کے لئے سر جوڑ کر کرتے ہیں۔ اقبالؒ نے اس نظم میں اپنی شاعرانہ اور مفکرانہ مہارت سے مغربی طاقتوں کے نظام جمہوریت کے پس پردہ ہوس ملوکیت کی خواہشات کو بے نقاب کیا ہے۔ دوسرے مشیر کے اصرار پر پہلا مشیر مغربی جمہوری نظام کا پردہ یہ کہ کر چاک کرتا ہے۔

” تو نے کیا دیکھا نہیں مغربی جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر ”

اس کے بعد ابلیس اور اس کے مشیروں کے درمیان مارکس کی تعلیمات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اشتراکی نظام کی چند خوبیوں کا تذکرہ اور اشتراکی انقلاب کے توڑ اور ناکامی کے لئے باہمی منصوبہ بندی اور سوچ بچار کرتے ہیں۔ اس موقع پہ ابلیس کا پانچواں مشیر مارکس کے اشتراکی نظام کی چند خوبیوں کی بنیاد پر ابلیس کے مریدان فرنگ کی سیاسی بصیرت پہ بے اعتباری کا اظہار کرتے ہوئے ابلیس کو اشتراکی انقلاب کی کامیابی کے امکان کے خدشے سے آگاہ کرتا ہے۔

لیکن ابلیس اسے یہ کہہ کر مطمئن کر دیتا ہے کہ ”کب ڈرا سکتے ہیں مجھے یہ اشتراکی کوچہ گرد“ مارکس کی تعلیمات اور اس کے اشتراکی نظام کو شکست سے دوچار کر نے کے بعد ابلیس اطمینان کا سانس نہیں لیتا بلکہ اب وہ اپنے اصل ہدف یعنی عظیم انسان دوست اسلامی اقدار کی طرف آتا ہے۔ نظم میں اس مقام پر ابلیس اپنی گفتگو کو اختتام پذیر کرتے ہوئے اپنے مشیروں سے یہ کہہ کر مخاطب ہوتا ہے کہ زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیائے سیاست اور کلیسا کے رہنما اس کے پکے مرید ہیں۔

ابلیس کو اس بات کا خدشہ پریشانی میں بری طرح مبتلا کرتا ہے کہ دور جدید میں آئین جناب رسالت مآب کی حقیقی روح کے مطابق اسلامی انقلاب و قوانین کا نفاذ کسی طرح ممکن نہ ہو جائے۔ لیکن جلد ہی یہ خیال اسے مطمئن کرتا ہے کہ سرمایہ داری بندہ مومن کا دین بن چکا ہے، اور وہ یقین و ایمان کی دولت سے محروم ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک خوف ابلیس کو پھر بھی بے چین رکھتا ہے۔ وہ خطرہ کیا ہے؟ ان چند مصرعوں میں دیکھ لیجیے۔

” ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر ۖ کہیں
الحذر الحذر آئین پیغمبر ۖ سے سو بارا
اس سے بڑھ کے اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں ”

نظم کے اختتام پر ابلیس اپنے مشیروں کو پر زور تاکید کرتا ہے کہ تم اپنی ابلیسی قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے مسلمان کو عمل و کردار سے دور رکھو۔

” مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے ”

اقبالؒ نے اسلام کی اعلیٰ اقدار کے نفاذ اور فروغ کو ہی عالم انسانیت کی بقاء اور تحفظ کے لئے ضروری قرار دیا۔ اور اس کے لئے اقبالؒ کی مجاہدانہ کوششوں میں ایک پل کے لئے بھی ٹھہراؤ نہیں آیا۔ جن حالات میں اقبالؒ نے یہ فکر انگیز نظم لکھی اس زمانے میں تمام مسلم ممالک مغربی قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے تھے۔ ذات برادری، زبان و علاقائی محبت کی جنونیت، مذہبی فرقہ واریت، باہمی انتشار و افتراق، اور غلامانہ ذہنیت کی نحوست نے مسلمانوں کے اتحاد کی جڑیں کھوکھلی کر دی تھیں۔

اور اس زوال اور پستی کا حقیقی سبب بھی خود مسلمانوں کا اپنا ہی وجود تھا۔ اقبالؒ نے اپنے گہرے اور وسیع مشاہدے کی بنا پر مغربی طاقتوں کی ہوس ملوکیت اور اسلام دشمن پالیسیوں کا پردہ بھی چاک کیا، اپنی قوم کی زبوں حالی اور انحطاط کے اسباب نشاندہی بھی کرتے رہے اور اپنی قوم کے روشن مستقبل کے لئے صحیح معنوں میں رہنمائی کا حق بھی ادا کیا۔ جس زمانے میں یہ نظم لکھی گئی اس وقت ہمارے دشمن غیر تھے جنھوں نے ہم پہ جارحیت اور جبریت مسلط کی۔ہماری آزادی سلب کی اور ہمیں اپنا غلام بنایا۔ لیکن آج ہم ایک الگ اسلامی ریاست کے شہری ہیں۔ تاریخ جانتی ہے کہ ہمیں آزادی نصیب ہوئی تو ہمارے اپنے حکمران بھی ہم پر غیروں کی طرح مسلط ہوئے۔ ایک عام سی بات ہے کہ ایک دو چار افراد ایک چھوٹا سا گھرانا بھی کچھ خاص اصولوں اور ضابطوں کا پابند ہوتا ہے جن کو پامال کرنے سے اس گھرانے کا وجود کا قائم نہیں رہ سکتا۔ لیکن آج تیز اور جدید دور میں جب ہر نیا دن انسانی معاشرتی اور معاشی ترقی کے نئے تقاضوں اور ضابطوں کے ساتھ نکلتا ہے تو اس دور میں ہمارے ملک کی چوبیس کروڑ انسانی آبادی لا قانونیت اور ملوکیت کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے۔

1956 کے بعد صحیح معنوں میں آئین سازی بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں سے ممکن ہوئی اس سے پہلے ایک ایسا آئین بھی مرتب ہوا جس میں بنیادی انسانی حقوق کو شامل کرنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی گئی لیکن بعد میں کچھ احتجاج بلند ہوا تو پھر کر دی گئی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد فوجی آمریت کا دورانیہ خاصا طویل تھا لیکن میدان سیاست کے رہنماؤں میں سے انسانی ہمدردی کی جو امیدیں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو سے وابستہ ہوئیں وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے حکمران سے وابستہ نہ ہو سکیں۔

محترمہ کی شہادت کے سانحے کے ساتھ ہی عام آدمی کے تھوڑے بہت ارمان بھی خاک میں مل گئے اور بعد کے حالات میں ایسا ہوا بھی۔ ریاست کو وجود میں آئے ایک صدی ہونے کو ہے لیکن مضحکہ خیز بات ہے کہ ریاستی اداروں کے قانونی حدود و اختیارات کی وضاحت بھی منظر عام پہ نمایاں ہوتی رہی لیکن اس کے باوجود بھی کسی حکومتی ادارے کوئی سمجھ ہی آج تک نہیں آ سکی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی عظیم شخصیت کے بعد اب وزیراعظم عمران خان کے دور میں ہمیں قانون کی بالا دستی اور ملکی اداروں کے قانونی حدود و اختیار کے شعور کی کچھ روشنی نصیب ہوئی ہے تو خاندانی سیاست اور ملوکیت کے جانشینوں اور محافظوں کو اپنا سیاسی مستقبل تاریکیوں میں ڈوبتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ریاست کے چوبیس کروڑ لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ وہ لوگ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں جو یا تو بھاری رقوم کے عوض کسی کے ضمیر کو خرید رہے ہیں یا پھر وہ جو کسی کو اپنا ضمیر فروخت کر رہے ہیں۔ ملک کے سیاسی ماحول میں خانہ جنگی اور انتشار کی روایات کو فروغ دینے سے حاصل پہلے بھی کسی کو کبھی کچھ نہیں ہوا۔ اب بھی کچھ تحمل سے کام لے لیا جاتا تو اس کے نتائج سبھی سیاسی جماعتوں کے لئے زیادہ بہتر ہو سکتے تھے۔

لیکن اس بار بھی ملنگوں پہ روایتی ہوس اور جنونیت سوار تھی اور انھوں نے دھمال کھیل کر ہی دم لیا۔ اقبالؒ نے ”ابلیس کی مجلس شورٰی“ درحقیقت غیروں یعنی مغربی سامراجی انسان دشمن قوتوں کی سفاکیت اور ملوکیت کا پردہ چاک کرنے کے لئے لکھی تھی لیکن آج شاعر فردا کی یہ نظم ہم پر اپنوں کی ملوکیت کے تحفظ کے لئے ہونے والے گٹھ جوڑ کی نشاندہی بھی کر رہی ہے۔

Facebook Comments HS