سچ ایک جیسا کیوں نہیں ہوتا؟
کیا جسے میں سچ سمجھ رہا ہوں، وہی سچ ہے یا جسے لوگوں کی بڑی تعداد سچ سمجھ رہی ہو، وہی سچ ہوتا ہے۔ کیا کوئی ایسا سچ بھی ہے جسے پوری دنیا تسلیم کرے یا جسے ماننے والے بے شک کم ہوں مگر پھر بھی سچ ہو۔ کیا جسے سائنس سے ثابت کیا جا سکے، وہی سچ ہے یا سائنس کی سچائی پر بھی کوئی دو رائے ہے؟ کیا جس بات کی گواہی حواس خمسہ دے، وہی سچ ہے یا کبھی آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا بھی جھوٹ ہو سکتا ہے؟
میرے ایک دوست کی چھ سال تک اولاد نہیں تھی، بہت علاج کروائے مگر افاقہ نہیں ہوا۔ پھر کسی نے کہا کہ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر جاوٴ، اولاد مل جائے گی۔ وہ چلا گیا، دعا مانگی، واپسی پر سیڑھیوں میں بیٹھے ایک ملنگ نے اسے بتایا کہ مجھے ہزار روپے دے دو، تمھارا کام ہو جائے گا، اس نے پیسے دے دیے، ٹھیک ایک ماہ بعد اس کی بیوی کے حمل ٹھہر گیا (اس واقعے کی تصدیق میں نے کئی دفعہ اپنے دوست سے کی، ہر بار اس نے یہی جواب دیا) ۔ میں نے ایک دوست مولوی صاحب سے اس بارے میں پوچھا، اس نے جواب دیا کہ ”یہ بدعت ہے، گناہ اور شرک ہے“ میں نے کہا ”مولانا صاحب! آپ اسے جو بھی نام دیں مگر سچ تو یہی ہے نا کہ اسے اس واقعے کے بعد اولاد ملی“
ایک معروف نیوز چینل کو ہندو مذہب کے ایک پیروکار نے بتایا کہ ”میری اولاد نہیں تھی، پھر میں نے منت مانی کہ اگر اولاد ہوئی تو میں ہندوستان کے فلاں مندر سے جلتا ہوا دیا پاکستان تک لاوٴں گا، اولاد ہوئی اور میں جلتا ہوا دیا وہاں سے لے کر آیا“ دونوں کو اولاد ملی، یہ حقیقت ہے مگر کس طرح ملی، اس سچائی تک پہنچنا مشکل ہے۔
ایک شخص نے کہا کہ ”موت حتمی سچائی ہے“ دوسرے نے جواب دیا کہ ”اگر موت پر قابو پا لیا گیا (اور مستقبل میں ایسا ممکن بھی ہو سکتا ہے ) تو کیا یہ سچائی تبدیل نہیں ہو جائے گی“ ؟
دنیا میں ہزاروں مذاہب ہیں، ہر مذہب کے کروڑوں ماننے والے ہیں، ہر ایک خود کو سچا اور دوسرے تمام کو گم راہ تصور کرتا ہے، دوسروں کے لیے سچائی تک پہنچنے اور ہدایت کی دعا مانگتا ہے، جب کہ اسی وقت وہ فراموش کر دیتا ہے کہ اگلا بھی اس کے بارے میں یہی خیال رکھتا ہے۔ گویا سب اپنی اپنی جگہ پر سچے اور دوسروں کی نظر میں بھٹکے ہوئے ہیں۔
کیا دنیا میں ایسا کوئی پیمانہ ہے جس سے سچائی کو ناپا جا سکے اور جس پر سب متفق بھی ہوں ۔


