سیاست کو گالی کیوں بنایا گیا؟


سامنے کی حقیقت پر ذرا غور کیجیے کہ عمران خان نے زندگی بھر جم اور ایکسرسائز کے علاوہ کوئی مشقت نہیں دیکھی۔ ان کے اردگرد جتنے بھی سیلیبرٹیز اور سیاست دان جمع ہیں ان کا انقلاب تیز دھوپ میں خراب ہو جاتا ہے۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ 32 ڈگری میں اے سی کا بند ہونا ہے۔ خان صاحب خود بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے گھر درجن بھر پولیس والے گئے تو وہ دس دس فٹ اونچی دیواریں پھلانگ کر بھاگے تھے۔ ایسا شخص تین ماہ زنداں میں مشقت کی زندگی گزارے گا تو اپنے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے تیار ہو جائے گا یہاں تو سوال آئین کی پامالی کا ہے۔

آپ ہزار گالی دیجئے مگر یہ دیکھیے کہ عمران کے مقابلے میں وہ لوگ کھڑے ہیں جن میں سے کسی کے باپ کو قتل کیا گیا، کسی ماں قربان ہو گئی ہے، کسی کا بھائی مارا گیا، کسی نے بیٹے کی لاش اٹھائی، کسی کا پورا خاندان اجاڑا گیا، کسی پر خودکش حملے ہوئے اور کسی کی آدھی زندگی عقوبت خانوں میں گزری۔ مگر عمران خان کے لانچ کرنے والوں نے سیاسی شعور سے عاری فین کلب میں اس بیانیے کو تقویت دی کہ سیاست گند ہے اور سیاست دان چور ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ میڈیا دجالی ہوتا ہے، سوال اٹھانے والا غدار ہوتا ہے، ہمسایوں کے ساتھ پر امن تعلقات کا پرچار کرنے والا ملک دشمن ہوتا ہے، محروم طبقات کی وکالت کرنے والا مغربی ایجنڈے پر کاربند ہوتا ہے، اور یہ کہ سیاسی اور جمہوری عمل کوئی نامیاتی عمل نہیں ہوتا بلکہ اچھے لوگوں کو ووٹ دینے سے سیاست اور معاشرت خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

مشکل یہ ہے کہ یہ لوگ سیاسی طرز فکر کے ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں سیاسی طرز فکر ضمیر جاگنے، کرپشن ختم کرنے اور اچھے لوگوں کو ووٹ دینے جیسے مبہم تصورات کا نام ہے۔ اب ضمیر کا کیا ہے، ضمیر تو کبھی شیخ رشید کا جاگ جاتا ہے، کبھی علیم خان کو سونے نہیں دیتا، کبھی جنرل جاوید ناصر کو چلے لگانے پر مجبور کرتا ہے اور کبھی نسیم حسن شاہ کو کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے نام پر چار بار آئین کو پامال کیا گیا اور حاصل وصول سب پاکستان سے باہر ہے۔

اچھے لوگ کون ہوتے ہیں؟ اچھائی کا پیمانہ کون طے کرتا ہے اس کی وضاحت انہوں نے کبھی نہیں کی اور اگر کبھی وہ کرنے کی کوشش بھی کریں یہ تو یہ کام ان کے دائرہ اختیار اور فہم دونوں سے ماورا ہے کیونکہ یہ لوگ انسانوں میں کام کی تقسیم کی بنیاد پر برتری کے قائل ہیں۔ ان کے خیال میں بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے والا اور نیل سے لے کر کاشغر تک تلوار کی نوک سے لکیر لگانے والا شخص، کلاس میں پڑھانے والے استاد، زمین میں ہل چلانے والے کسان اور زخم پر مرہم لگانے والے طبیب سے زیادہ مقدس ہوتا ہے۔ ایسے میں سیاست کو گند کہنے اور سیاستدان کو گالی دینے کا رواج قائم کرنے سے ہی دستور کی پامالی کی راہ ہموار رہتی ہے۔

دیکھیے سادہ سی بات ہے کہ سیاسی طرز فکر کی بنیاد اس حقیقت پر قائم ہے کہ انصاف، تحفظ اور یکساں مواقع انسان کا بنیادی حق ہیں۔ انہی حقوق کی ضمانت کے لئے مخصوص جغرافیائی حدود میں دستور کے ضابطے قائم کیے جاتے ہیں۔ انصاف اور نا انصافی کے پیمانے دستور طے کرتا ہے۔ سیاسی طرز فکر کی بنیاد دستور کی حرمت پر رکھی جاتی ہے۔ امن، تحفظ، انصاف اور شہریوں کے لئے بلا امتیاز رنگ، نسل، جنس اور عقیدہ یکساں مواقع پیدا کرنے لئے جو اخلاقی ذمہ داری اٹھائی جاتی ہے اسے سیاست کہتے ہیں۔ سیاست انصاف، تحفظ اور حقوق کے حصول کی مقدس جدوجہد کا نام ہے اور سیاستدان اس مقدس مقصد کا ہوتا امین ہے۔ سیاسی جماعتیں ان مقاصد کے حصول کے لئے ترجیحات میں اختلاف رائے کی بنیاد قائم ہوتی ہیں۔ یہ پورا ڈھانچہ دستور پر قائم ہوتا ہے اور جب تک دستور کا تقدس تسلیم نہیں کیا جاتا ریاست کبھی بھی قابل حصول معاشی اور معاشرتی نصب العین کی راہ پر گامزن نہیں ہو پاتی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 184 posts and counting.See all posts by zafarullah