علیم خان اور چودھری سرور بھی غدار بن گئے اور سلمان اکرم راجہ کی تشویش
سرپرائز نگ قسم کے سیاسی بحران اور وقتی بندوبست کا شیرازہ بکھرنے کے بعد اوپن سیزن کا آغاز ہو چکا ہے، اس سیزن کی اوپننگ سابقہ گورنر پنجاب چوہدری سرور اور پنجاب میں خان صاحب کے سابقہ ”اے ٹی ایم“ اور مخلص ساتھی علیم خان نے کر دی ہے اور اس آغاز کے بعد بہت سے مزید پردہ نشین بھی باہر نکل کر بغاوت کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ایک طرح سے نہ رکنے والے تسلسل کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ موجودہ پاکستان میں کچھ ایسی انہونیاں جنم لینے لگی ہیں جن کی توقع نہیں کی جا رہی تھی اور غداری کا ایک ایسا بے ہودہ سا کلچر نمو پانے لگا ہے جس میں صرف وہی محب وطن اور وفا دار کہلوانے کا مستحق ٹھہرے گا جو نیا پاکستان کے دعویدار پلس ریاست مدینہ کے بادشاہ کے ساتھ سو فیصد وفادار اور مکمل ہاں میں ہاں ملانے والا ہو گا اور جو اختلاف کی صورت میں بادشاہ سلامت سے منحرف ہونے کی کوشش کرے گا اس کا نام غدار یا نمک حراموں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔
بادشاہ سلامت موجودہ وقت تک متحدہ اپوزیشن کے تقریباً دو سو اراکین کو غدار ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری فرما چکے ہیں اور پاکستانی عوام میں سے پولنگ کے دوران جو بندہ بھی بادشاہ سلامت سے منحرف ہو کر کسی دوسری پارٹی کے بندے کو ووٹ دینے کی کوشش کرے گا وہ بھی غدار قرار پائے گا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان غداروں کا نمبر بڑی تیزی سے بڑھنے لگا ہے اور جو غداری کی فہرست میں شامل ہوتا جا رہا ہے اس کو معاشرے میں مزید ذلیل و رسوا کرنے کے لئے بادشاہ سلامت کا سوشل میڈیا سیل ایکٹیو ہو چکا ہے، جو سوشل میڈیا کے ذریعے سے ان غداروں کی پگڑیاں اچھالنے میں مصروف ہے۔
پروان چڑھنے والے اسی ہودہ کلچر کے متعلق معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”عدم اعتماد والے دن جو کچھ اسمبلی میں ہوا وہ دراصل آئین پاکستان پر حملہ تھا جسے پوری قوم نے اپنی اپنی ٹی وی سکرین پر دیکھا، یہ سکیم پلان اور ایک بند کمرے میں ترتیب دیا گیا سوچا سمجھا منصوبہ تھا جسے پایہ تکمیل ڈپٹی سپیکر نے پہنچایا۔ اس سکرپٹ کا آغاز کچھ وقت پہلے ہی قانون کا قلمدان سنبھالنے والے فواد چودھری نے کیا، جس میں انہوں نے ایک بین الاقوامی سازش کا تذکرہ کر کے ڈپٹی سپیکر سے عدم اعتماد کے عمل کو ریجیکٹ کرنے کی استدعا کی جسے فوری قبولیت کا درجہ دے دیا گیا۔
بطور“ وکیل ”قانون کے ساتھ اس کھلواڑ پر میں نے ایک ٹویٹ کیا، جس کا خمیازہ مجھے غدار قرار دیے جانے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ ہمارے معاشرے میں یہ خطرناک قسم کا رجحان پڑھے لکھے طبقے میں بھی نمو پانے لگا ہے، اگر یہ رسم چل نکلی تو پھر کوئی نہیں بچے گا“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون سی بین الاقوامی سازش تھی جس کے متعلق صرف بادشاہ سلامت کوہی علم ہوا باقی ملکی سیکورٹی ادارے بے خبر رہے۔ اگر واقعی پاکستان کی سالمیت کو سنجیدہ قسم کے خطرات لاحق تھے تو سکیورٹی اداروں کو انگیج کر کے اس سازش کو ناکام بنانے کا کوئی موثر بندوبست کیا جاتا۔
دانشمندی کا یہ کون سا معیار ہے کہ ایک سازشی مراسلے کو سکیورٹی اداروں کے سامنے رکھنے کی بجائے جلسے میں لہرا کر باقاعدہ سیلیبریٹ کر کے دشمن کو الرٹ سائن بھیجا گیا؟ کج فہمی کی منفرد مثالیں ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ غداروں میں خودکفیل اس ملک کی اسمبلی میں ایک ایسا شاہکار کارنامہ تاریخ کے پنے پر ثبت ہوتا ہے، جس میں کسٹوڈین آف دی ہاؤس نشست سنبھالتا ہے، کسی اور کا لکھا ہوا پری پلان ایک سکرپٹ ایوان میں پڑھتا ہے اور پلک جھپکتے ہی ایک آئینی پروسیجر کو سبوتاژ کر کے چلتا بنتا ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا، بلکہ اپنے اس غیر آئینی فیصلہ کوایک ٹویٹ کے ذریعے کچھ یوں سیلیبریٹ کرتا ہے ”کیسا دیا“ ؟ اس ڈرامے کا آغاز تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے، خان صاحب کے ساتھ کھڑے بندے آہستہ آہستہ دوسری پارٹیوں میں ہجرت کرنے لگتے ہیں، جس کے بعد بادشاہ سلامت بڑے بڑے جلسوں کی صورت
میں غداروں کو لعن طعن کرنے کے بعد بطور شفیق باپ کی حیثیت سے اپنے گھر لوٹنے پر معاف کر دینے کی خوشخبری سنا ڈالتے ہیں، مگر لاحاصل۔ اور آخری حربے کے طور پر اس کہانی کو دلچسپ موڑ دینے کے لیے عدم اعتماد کو بین الاقوامی سازش کے ساتھ نتھی کر کے ایک مراسلہ لہرا دیا جاتا ہے۔ اس ڈرامے کا ڈراپ سین کچھ اس طرح سے ہوتا ہے کہ ہمارے بادشاہ سلامت وکٹیں اکھاڑ کر سیاسی اکھاڑے سے ہی دوڑ لگا دیتے ہیں۔ انداز لگائیں کہ ایسے کھلاڑی کا ذہنی لیول کیا ہو گا جو ایک عرصہ گراؤنڈ میں گزارنے کے باوجود بھی سپورٹس مین شپ سیکھنے سے عاری رہا اور سب کچھ امریکہ پر ڈال کر چلتا بنا۔
اب اس رویہ کو رعونت کہہ لیں یا ابیوز آف سسٹم کا نام دے دیں یا جمہوری روایات پر ایک اناڑی کا طمانچہ؟ کچھ بھی کہہ لیں مگر پوری دنیا میں اس وقت جو ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اس کا خمیازہ نجانے ہم کب تک بھگتیں گے؟ اخے عالم کفر میرے خلاف سازش کر رہا ہے، ایسے مہان بادشاہ سلامت کے خلاف بھلا سازش کرنے کا رسک کون لے سکتا ہے جو اپنی اپوزیشن کے لوگوں سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہ کرے اور جس کی ساری زندگی اپنی ہی شخصیت کے گرد طواف کرتے ہوئے گزری ہو، کرکٹ کے گراؤنڈ سے سیاست کے اکھاڑے تک، جس کی زبان ”میں میں“ کی اسیر رہی ہو ایسا بندہ ایک دن خود ہی خود کو پیارا ہو جاتا ہے دوسروں کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔


