غداری کے الزام پر جلد وضاحت آنی چاہیے


پچھلے کئی ہفتوں سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا تھا۔ تیزی سے بدلتی اس صورتحال میں کوئی حتمی تجزیہ دینا ممکن نہیں تھا۔ کچھ مصروفیت تھی اور بڑی حد تک یہ وجہ بھی تھی جس کی وجہ سے کالم لکھنے میں تاخیر ہوئی۔ اگرچہ تحریک انصاف جیسی فاشسٹ جماعت سے تعلق رکھنے والے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سے کسی اصولی اور اخلاقی عمل کی توقع نہیں تھی۔ تاہم یہ اندازہ نہیں تھا کہ رواں ہفتے اتوار کے روز جب قومی اسمبلی کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے مخصوص تھا اجلاس شروع ہوتے ہی ڈپٹی اسپیکر وزیر قانون کو مائیک تھما دیں گے۔

رولز کے مطابق اس روز سب سے پہلے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی اور تحریک انصاف کے منحرف اراکین کے بغیر بھی اپوزیشن نشستوں پر براجمان ممبران قومی اسمبلی کی تعداد کے سبب عمران خان صاحب کی عہدے سے فراغت یقینی تھی۔ ڈپٹی اسپیکر کی ملی بھگت سے مگر وزیر قانون نے کھڑے ہو کر عمران خان کی طرف سے عائد کردہ الزام دہرا دیا کہ اپوزیشن غیر ملکی سازش کا حصہ بن کر عدم اعتماد کی تحریک لے کر آئی ہے اور ڈپٹی اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ رولنگ دیں کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے کلاز ون کے تحت یہ تحریک مسترد کی جاتی ہے۔

جس کے فوراً بعد ڈپٹی اسپیکر نے کاغذ پر پہلے سے لکھی تحریر پڑھنی شروع کر دی اور وزیر قانون کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے مذکورہ بالا آرٹیکل کے تحت اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرتے ہوئے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ اصولی طور پر اپوزیشن کے ایک سو اٹھانوے ممبران اسمبلی اور ان کے کروڑوں ووٹرز پر غداری کا الزام لگانے سے پہلے ڈپٹی اسپیکر پر فرض تھا کہ وہ قائد حزب اختلاف یا اپوزیشن کے کسی دیگر ممبر کو وضاحت کا موقع فراہم کرتے یا کم از کم اس قدر سنگین الزام پر دکھاوے کے طور پر ہی کوئی بحث کرا لیتے۔

انہوں نے مگر اپنے منصب کی بجائے عمران خان صاحب سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے اس کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ حیرت انگیز طور پر ڈپٹی اسپیکر کے اجلاس ملتوی کرنے کے فوراً بعد وزیراعظم نے پہلے سے ریکارڈ خطاب میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے اور 90 دن میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا اور بغیر کسی لمحے کی تاخیر کیے صدر مملکت نے بھی اس کی توثیق کر دی۔ جتنی عجلت اور جس بھونڈے انداز میں یہ سب کام ہوئے کوئی ابہام رہ جاتا ہے کہ اپنی شکست دیکھتے ہوئے حکومت کا یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا؟

چیف جسٹس آف پاکستان نے وزیراعظم اسپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور چند وزراء کی آئین شکنی پر ازخود نوٹس تو لے لیا لیکن یہ سطور تحریر کرنے تک انتہائی اہمیت کے حامل اس معاملے پر معزز عدالت کی طرف سے کوئی حکم سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ یہ نظیر اتنی پرانی نہیں کہ حکومت کے کسی اقدام کی روشنائی خشک ہونے سے قبل اسے عدالت کی جانب سے کالعدم قرار دے دیا جاتا تھا۔ آئین شکنی کے اس کیس کے حوالے سے جلد از جلد کوئی واضح فیصلہ آنے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کیونکہ ملک میں جاری غیر یقینی کی صورت حال نے معیشت پر منفی اثرات مرتب کرنے شروع کر دیے ہیں۔

اس صورتحال کو جواز بنا کر عالمی مالیاتی ادارے نے بھی قرض کا پروگرام معطل کر دیا ہے۔ غیر یقینی کی اس صورتحال سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ کمی ہوئی اور ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری جانب کیس عدالت میں ہونے کے سبب ملنے والی مہلت کا فائدہ اٹھا کر عمران خان اور عارف علوی نے من پسند نگران حکومت کے قیام کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔ عدالت کی طرف سے فیصلہ آنے میں جتنی تاخیر ہو رہی ہے معاملات اتنے ہی گنجلک ہوتے جا رہے ہیں اور اگر مزید تاخیر ہوتی رہی تو ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم ہونے کے باوجود نئے انتخابات کی طرف ہی جانا پڑے گا۔

کچھ عرصہ قبل تک تحریک انصاف بیک فٹ پر کھیل رہی تھی کیونکہ کارکردگی کے میدان میں وہ صفر تھی اور ساڑھے سال میں گزشتہ انتخابات سے قبل کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا کرنے میں اس کی حکومت ناکام رہی تھی۔ لیکن اب ہر لحاظ سے اس کے لیے صورتحال اطمینان بخش ہے اور یقیناً وہ اگلے انتخابات میں مخالفین کے خلاف غداری کارڈ استعمال کرے گی۔ ہم پہلے ہی ایسے وقت میں جب اگلے انتخابات سر پر کھڑے تھے تحریک اعتماد کے ذریعے وزیراعظم کو گھر بھیج کر حکومت کو شہادت کا موقع دینے کے نتائج اور نیوٹریلیٹی پر اپوزیشن کے یقین پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے تھے۔ ایک اعلی منصب پر عمران خان کی من پسند تقرری کے نتائج کے حوالے سے خوف کا شکار اپوزیشن کے پاس مگر نیوٹریلیٹی پر یقین کرنے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ دیکھتے ہیں کہ اپوزیشن کو اب عدالت سے ریلیف ملتا بھی ہے یا اس کے ”نامہ سیاہ“ میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔

اپوزیشن بیشک پریس کانفرنسوں میں کہتی رہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے وزارت خارجہ کو جو مراسلہ بھیجا وہ 7 مارچ کو موصول ہو گیا تھا اور اس روٹین کے مراسلہ کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی میں پیش کرنے یا عسکری قیادت سے شیئر کرنے کی بھی حکومت نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ یہ بات بھی جتنی مرتبہ مرضی وہ ریکارڈ پر لاتی رہے کہ دھمکی دینے والے اسی امریکی عہدیدار کو حکومت نے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں مدعو کیا تھا اور اس کی خوشامد کی جا رہی تھی لیکن جب یہ واضح ہو گیا کہ گیم ختم ہو چکی ہے تو حکومت نے شکست کی ہزیمت سے بچنے اور آئندہ الیکشن میں اترنے کے لیے غیر ملکی سازش کا ڈرامہ رچا لیا۔

لیکن اپوزیشن جماعتوں کو ہر صورت اگلے انتخابات میں اترنے سے قبل اس الزام سے اپنا آپ عدالت یا کسی اور ریاستی ادارے سے کلیئر کرانا ہو گا۔ نون لیگ کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی عسکری ادارے کھل کر ریمارکس دیتے تھے اور اس وقت کے وزیراعظم کے احکامات کو ٹویٹ کے ذریعے ریجیکٹ کر دیا جاتا تھا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ عمران خان اور ان کے رفقاء کھل کر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ تینوں سروسز چیفس نے قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں اپوزیشن پر غیر ملکی سازش میں ملوث ہونے کی توثیق کی لیکن اس حساس مسئلے پر آئی ایس پی آر کی طرف سے مکمل خاموشی ہے اور کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے وہ عسکری اداروں سے اس متعلق عوامی سطح پر موقف لینے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ اس میں تاخیر نہ صرف اپوزیشن رہنماؤں کی سیاست بلکہ ان کی زندگیوں کے لیے بھی خطرات کا باعث بنے گی۔

Facebook Comments HS