بدلتے فیصلے اور عوام

جو اتر گئے کیا وہ پھر نہیں آئیں گے؟ اور جو آئیں گے کیا وہ پھر اس قوم کو نہیں کھائیں گے۔ تحریک عدم اعتماد خارج ہو گئی اسمبلی ٹوٹ گئی۔ پہلی بار جنتا کو اتنا پریشان دیکھا ہے۔ یہاں جنتا کی نسلوں کو نچوڑ کر کھا لیا گیا اور بھلا دیا گیا پہلی تیری فیر میری باری چلتی رہی۔ جو ایک دوسرے کے مخالف تھے وہ سب ایک ہی صف میں کیوں کھڑے ہو گئے؟ اتنی پریشانی تو پہلے کبھی کسی حکومت کو ہٹانے میں نہیں لی گئی۔ پوری دنیا میں پاکستان کو منوانے والا حکمران پاکستان کی سرزمین پر اسلام کا تاریخی وقار کو دوبارہ سے جگانے والا حکمران جنتا کے دلوں میں گھر کر گئے ہے۔
میں نے ریڑھی والے کو کہتے سنا ہے کہ اگر مہنگائی نہ ہو تو عمران خان اچھا بندہ ہے۔ خیر حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر اس وقار سے جاتے ہوئے بہت کم حکمرانوں کو دیکھا ہے۔ اس سب چوہے بلی کے کھیل میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا عدم اعتماد لانے کے لئے جو شخص اس آئین کے تحت اپنے آپ کو مختص کرتا ہے کیا کیوں نہیں دیکھا جاتا کہ اس کے خلاف کرپشن کے کتنے کیسز ہیں پاکستانی عدالتوں میں اس کے خلاف کوئی کرپٹ ریکارڈ تو نہیں۔
میں کسی بھی حکومت کے خلاف نہیں ہوں کیونکہ پاکستان میں سرکار، جنتا کو صرف اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ الیکشنوں کے قریب قریب دیگیں چڑھ جاتی ہیں اور جنتا کو ضرورت سے زیادہ عزت دی جاتی ہے اور جنتا یہ سمجھ لیتی ہے کہ شاید یہ عزت اس کو دی جا رہی ہے بلکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ یہ وہ عزت ہے جو حکمرانوں کے بقول ووٹ کی ہوتی ہے ووٹ کو عزت دو۔ کاش یہ جنتا سمجھ جائے عزت اور وقار کی کوئی قیمت نہیں رشوت اور بریانی کی پلیٹ پر ووٹ لینے والی حکومتوں کو بہت اچھے سے معلوم ہے کہ یہ جنتا کس طرح خریدی جا سکتی ہے۔
میں شہباز شریف صاحب کو بہت ہی سلجھا ہوا انسان سمجھتی تھی مگر اپنے خطاب کے دوران اس قوم کو بھکاریوں سے تشبیہ دے کر انہوں نے یہ باور کرا دیا کہ یہ جنتا سب کچھ کر سکتی ہے۔ الیکشن کے دنوں میں ان ہی کی نسلیں ان بھکاریوں کے پیچھے پیچھے بریانی کی پلیٹ لے کر پھر رہی ہوں گی خریدار خوب جانتا ہے کہ جو چیز خرید رہا ہے اس کی قیمت کیا ہے۔ اور نہایت افسوس کے ساتھ ان بھکاریوں کی قیمت ایک بریانی کی پلیٹ ہے۔ آج یہ بریانی کی پلیٹ جیت گئی۔
پوری دنیا میں بنایا ہوا وقار پوری دنیا جس شخص سے پاکستان میں آ کر آٹوگراف لیتی تھی ہم ایک پلیٹ بریانی پاکستانیوں نے اس کو اپنا وقت بھی مکمل نہیں کرنے دیا۔ اور جن کے باپ دادا ہمارے پیروں تلے زمین کھینچ کر لے گئے تھے انہوں نے ملک میں ایک تماشا لگا رکھا تھا کہ اس حکومت کو ختم کریں گے اس ملک میں کرپٹ سے کرپٹ حکومتوں نے اپنا دور حکومت مکمل کیا ہے۔ یہ بات عالمانہ حقیقت ہے کہ اب آنے والے الیکشنز میں کسی ایسی حکومت نے اگر چارج سنبھالا جس کو ہم پہلے پرکھ کر نا اہل قرار دے چکے ہو تو جیت اس حکومت کی نہیں بلکہ بریانی کی پلیٹ کی ہوگی۔
پاکستان ہمارے لیے ایک گھر کی طرح ہے جس طرح ایک گھر کے تمام افراد اپنے گھر میں جیسے بھی گزارا کر کے دنیا کے سامنے اپنے آپ کو خوش اور مطمئن ثابت کرتے ہیں اتار چڑھاؤ ہر گھر میں آتا ہے۔ تنگدستی، بدحالی میں سفید پوش لوگ اپنے آپ کو اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے پر مطمئن رہتے ہیں۔ اسی طرح اگر پاکستان کی جنتا بھی ان مفاد پرستوں اور اپنے فائدے کے لئے جنتا کو استعمال کرنے والوں کے سامنے اپنے وقار اور عزت پر کوئی کمپرومائز نہ کرے۔ سب سے پہلے اپنا اور اپنے ملک کا وقار سامنے رکھ کر اس ملک کی بھاگ دوڑ باشعور اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے یہ فیصلہ بریانی کی پلیٹ پر نہ چھوڑیں ورنہ صرف یہ حکمران ہی اس جنتا کو بھکاری نہیں بولیں گے بلکہ پوری دنیا ہمیں بھکاری قوم کے نام سے پہچانے گی۔

