مردانہ زنانہ دونوں ہیں
لاہور ایک ایسا شہر ہے جس سے محبت مجبوری بن جاتی ہے۔ خاص طور پر تب جب آپ زمانۂ طالبعلمی میں یہاں مقیم ہوں۔ اس شہر کے دن انتہائی مصروف اور راتیں انتہائی پر کشش ہیں۔ اپنے ہی رنگ ہیں جو آپ کو بھی اپنا بنا لیتے ہیں۔ ہماری جڑیں تو وسیب میں ہیں مگر بہ تحت مجبوری اس شہر سے پیار کر بیٹھے ہیں کیوں کہ ہم بھی زمانہ طالب علمی سے گزر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ کے بقول تقریباً گزر چکے ہیں۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں۔ یہ مجبوری تب ذمہ داری میں بدل جاتی ہے جب آپ کھانے کے دلدادہ ہوں اور ’بے تکلف‘ دوست رکھتے ہوں۔
بالکل ہماری طرح ہمارے ایک دوست بھی اسی کرب محبت میں مبتلا ہیں اور اکثر ہمیں ہوسٹل کا میس چھوڑ کر لاہوری کھابوں سے کھانا کھا نے پر اکساتے رہتے ہیں اور ہمیں ماں جی سے جھوٹ بولنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم کھانے میں انتہائی پرہیز سے کام لیتے ہیں۔ صاحب آج کل ”رضوان پراٹھا ہاؤس“ کے ایسے گرویدہ ہوئے ہیں کہ ہر دوسرے دن جانے کی ضد کرتے رہتے ہیں اور کمرے میں آنے والے ہر مہمان کو وہاں سے گرما گرم چکن پراٹھے کھلا چکے ہیں۔ یوں تو امتحانی مقابلے کی تیاری میں مگن ہیں مگر کچھ دن پہلے موصوف نے اپنی تاریخ کی کتاب کو ایک دم الگ رکھا اور ہمیں مذکورہ بالا گناہ پر آمادہ کرنے لگے اور ہم سب دوست اس شیطانی چال میں آ کر اچھرہ کی جانب چل پڑے۔
شہر لاہور کا وہی رنگ تھا۔ رات کی وہی روانی تھی جس سے لاہور مشہور ہے۔ اور ہم رش میں سے گزرتے اور ٹریفک وارڈن سے بچتے بچتے (چونکہ ایک موٹرسائیکل پر تین لوگوں کا سوار ہونا بھی زمانہ طالب علمی کی ایک مجبوری ہے ) بالآخر ’بحر اچھرہ‘ کے بازار میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پیدل چلنے والوں کے کندھوں سے لگتے لگتے اور اردگرد سجے رنگ برنگے کپڑے دیکھتے ہوئے جا رہے تھے کہ اچانک میرے کان میں ایک آواز پڑی اور مجھے لاہور کے سب رنگ بھول گئے۔ اچھرہ کی رونق نظر آنا بند ہو گئی اور دل اداس سا ہو گیا۔ اس آواز سے دراصل بچپن کا ایک دوست یاد آ گیا اور میں آبدیدہ ہو گیا۔
ہم دونوں چھٹی جماعت میں ایک ہی سیکشن میں پڑھتے تھے۔ ایک ہی گروپ کا حصہ تھے اور ظاہر ہے مل کر شرارتیں کرتے تھے۔ مل کر خواب دیکھتے تھے۔ مگر وہ خواب جانے کدھر گم ہو گئے۔ موصوف کی طبعیت خراب ہوئی، آب و ہوا بدلنے کے لیے شہر بدلا اور اپنے خواب بھی ساتھ لے گئے اور پھر ایک عرصہ ہماری ان سے ملاقات نہ ہوئی۔
ادھر ہم لوگ اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ چکے تھے اور ہمیشہ کی طرح پراٹھوں کی اپنی سی ایک خوشبو ہوا میں موجود تھی مگر آج مجھ پر اس کا کچھ زیادہ اثر نہ تھا۔ دماغ بار بار اسی دیرینہ دوست کو یاد کر رہا تھا۔ مجھے ہر نوالے پر وہ خواب یاد آرہے تھے جو ہم نے ایک ساتھ دیکھے تھے۔ آج کی یہ تحریر بھی ان خوابوں کے نام جو کسی بھی آنکھ نے کبھی بھی دیکھے ہوں گے۔ جانے کتنے ہی خواب ہوں گے جو آنکھوں نے دیکھے اور پھر گردش زمانہ میں وہ گم ہو گئے۔ وہ خواب جانے کہاں جاتے ہیں، کون جانے۔
کئی سالوں بعد ہماری اسی دوست سے جب ملاقات ہوئی تھی تو اس نے بتایا کہ اس نے پڑھائی چھوڑ دی تھی اور کپڑے کا کاروبار شروع کر لیا تھا۔ ہم ایک دوسرے سے بھر پور طور پر ملے اور پھر دیر تک پرانی باتیں یاد کرتے رہے جس طرح کہ ایسی ملاقاتوں میں اکثر کیا جاتا ہے۔ وہ پائلٹ بننا چاہتا تھا اور ہم پولیس افسر ۔ گو کہ ہمارے گروپ کے لڑکے بریک کے وقت ہونے والے کلاس کے آپسی مقابلوں میں نئی سے نئی طرز کا جہاز بناتے مگر اڑنے والے کاغذ کے ہر جہاز کا پائلٹ ہم اسے ہی تصور کرتے تھے۔ جہاز والی ربڑ بھی اس نے اسی لیے خرید رکھی تھی۔ مگر آج جانے سے پہلے وہ ہی شخص اپنے خوابوں کو اپنی آنکھوں میں دفن کیے ہمیں اپنی دکان پر آنے کی دعوت دے رہا تھا اور جاتے جاتے اس نے وہ ہی کہا تھا جو بازار میں ہمیں سنائی دیا تھا کہ ’مردانہ زنانہ دونوں ہیں‘ ۔
پراٹھے ختم ہوچکے تھے اور اب ’بے تکلف‘ دوستوں کے ساتھ سب سے مشکل مرحلے کا سامنا تھا۔ یعنی کہ بل دینے کا۔ وہ جوں توں دیا واپس آئے اور ہمیں اصرار کر کے لے جانے والے صاحب پھر سے اپنی تاریخ کی کتاب اٹھائے اسٹڈی روم چلے گئے۔ خدا ان کے خواب سلامت رکھے۔



Zabardast..