ماضی کی بے پروائی اور احساس ندامت


پلوشہ نے کالج میں نیا نیا داخلہ لیا تو سکول میں بہت سے خشک ماہ و سال گزارنے کے بعد ، اسے زندگی میں آنے والا یہ بدلاؤ بہت سہانا لگا۔ وہ ماں سے کالج میں بیتے ہر لمحے کی روداد کا ذکر جیسے اپنا فرض منصبی سمجھ کر ادا کرتی تھی اور اس روداد کا ایک بار پھر سے مظاہرہ تب ہوتا جب میں دفتر سے گھر واپس لوٹتی اور اماں ایک ہی منظر کا دو بار تخیلاتی دنیا میں لطف اٹھاتیں۔

وقت کے ستم تو واقعی حسین ہوتے ہیں۔ وقت بدلا، اماں دنیا سے رخصت ہو گئیں پلوشہ کا کالج ختم ہو گیا، اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ یونیورسٹی کی ابتدائی تقریب میں اسے اماں کی بہت یاد آئی کہ آج اماں ہوتیں تو کس قدر خوش ہوتیں کیونکہ وہ بے تابی سے پلوشہ کو یونیورسٹی جاتے دیکھنا چاہتی تھیں۔ پلوشہ کو بہت مخلص اور چاہنے والے دوست ملے، کچھ دوست بہت دور چلے گئے مگر دور ہو کر بھی ہر روز پلوشہ کو اپنے قریب ہونے کا احساس دلاتے رہے۔

پلوشہ کا نکاح اس کی یونیورسٹی کے دوران ہوا اور پھر گریجویشن کے بعد اس کی رخصتی کر دی گئی اور پلوشہ پیا دیس سدھانے ڈسکہ پہنچ گئی۔ زندگی کے ان ماہ و سال کو پانچ چھ سطروں میں قید کرنا آسان ہے مگر ہر یاد اور ہر لفظ کے ساتھ جڑی کرچیوں کو سمیٹنا قدرے ناممکن ہے۔ یاداشت بھی، ہر بار واقعات کے ذہن میں آنے سے، بالکل زندہ سلامت ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے اور پھر سبھی لمحوں کی یادداشتوں کی گنجھلیں ایک دوسرے میں پھنس کر دماغ کو سن کر دیتی ہیں۔

ڈسکہ سے ایک روز پلوشہ ویڈیو کال کرتی ہے اور مجھے بتاتی ہے کہ آج جب وہ غسل خانے میں نہانے گئی تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ڈھے گئی۔ یہ سن کر میں بے چین ہوئی مگر مضبوط دکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اسے تسلی دیتی رہی اور اس سے چوٹ کی شدت کے بارے معلوم کرتی رہی۔ مگر وہ رو رہی تھی اور روہانسی ہو کر اپنا احساس ندامت بانٹتی رہی۔ کہنے لگی؛ ماریہ! ایک بار آپ دفتر میں تھیں، اماں غسل خانے میں نہا رہی تھیں، میں ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اماں نے مجھے غسل خانے سے آواز لگائی، میں پہنچی تو اماں نے کہا، ایک گلاس پانی دینا، میں نے اماں کو پانی کا گلاس دیا، خالی گلاس واپس لیا اور واپس آ کر دوبارہ ٹی وی دیکھنے لگی۔

جب اماں باہر آئیں تو میں نے پوچھا کہ آپ نے غسل خانے میں پانی کیوں مانگا تھا؟ بولیں، میں پھسل گئی تھی۔ میں ذرا پریشان ہوئی اور پوچھا زیادہ چوٹ تو نہیں لگی تو بولیں میں ٹھیک ہوں۔ جب میں غسل خانہ استعمال کرنے کے لیے گئی تو وہاں ماربل کی ایک ٹائل ٹوٹی پڑی تھی مگر میں نے اماں کی بات پہ یقین کیا کہ انہیں کچھ نہیں ہوا۔ مگر آج جب میں خود غسل خانے میں گری تو مجھے امی بہت یاد آئیں کہ انہیں کس قدر تکلیف ہوئی ہو گی نا جب وہ گری ہوں گی تبھی تو پانی منگوایا اور میں اس وقت یہ سوچتی رہی تھی کہ اماں کو بھلا غسل خانے میں پانی پینے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ سب بتاتے ہوئے آنسو اس کی گالوں پہ گرتے رہے اور یہاں اس کے آنسو دیکھ کر میں بھی خامشی سے روتی رہی۔ پھر اسے تسلی دی اور زیادہ نہ سوچنے اور پریشان نہ ہونے کی تجویز دے کر کال منقطع کر دی۔

کال بند کرتے ہی ایک اور یاداشت میرے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ میرا ایکس باس، جس کے ساتھ باس کوآرڈینیٹ کا خوشگوار تعلق استوار کرنے کے لیے میں نے اپنے طور ہر ممکن کوشش کی کیونکہ ان دنوں میں دفتر کی وجہ سے ذہنی ہیجان کا شکار رہتی تھی اور اکثر رات میں آنکھ کھل جانے کے بعد بھی دفتری فرائض کی پریشانی ستائے رکھتی تھی، مگر میری ہر بار کی کوشش جیسے ایک نیا منفی اثر مرتب کرتی۔ جو یاداشت میرے سامنے پلوشہ کا احساس ندامت سننے کے بعد آن کھڑی ہوئی وہ یہ ہے کہ میرے باس ویڈیو کانفرنس کال کر رہے تھے اور لیپ ٹاپ کے ساتھ جڑا نیٹ ورک بیک وقت لینڈ لائن کے ساتھ بھی کنیکٹیکٹ تھا۔

کانفرنس کال کے دوران، اس لینڈ لائن پہ بار بار کال آ رہی تھی اور باس اس سے کافی پریشان تھے۔ انہوں نے بلند آواز ٹیم کو بولا کہ کوئی اس لینڈ لائن کو چپ کرائے گا اور میں نے یہ سوچتے ہوئے کہ ماریہ یہ ایک اچھا موقع ہے اچھے کاروباری تعلق کی بحالی کا سو میں نے خود کا رضاکارانہ بلند آواز اعلان کیا اور نہایت مستعدی کے ساتھ جا کر لینڈ لائن کے کنیکشن کو سوئچ سے نکال باہر کیا، بس یہ ہوا اور ساتھ ہی لیپ ٹاپ تک انٹرنیٹ کی رسائی بھی رک گئی۔ باس کو مجھ پر انتہائی غصہ آیا اور شدید غصے کے عالم میں وہ لیپ ٹاپ کو پٹختے ہوئے ہال سے باہر نکل گئے۔ سب ساتھ کام کرنے والوں نے کہنا شروع کر دیا کہ آپ کوئی صدقہ کریں کہ آپ جو بھی کرتی ہیں سب الٹ ہی پڑتا ہے۔

اس روز مجھے بہت تکلیف ہوئی کہ میں نے باس کی مدد کرنے کے لیے جلدی میں اقدام کیا کہ ہو سکتا ہے کہ میرا یہ فعل ہمارے تعلقات کو بہتر کر سکے اور ہمارے درمیان ہیجان کی یہ دیوار شاید کمزور پڑ جائے۔ خیر دیوار کمزور ہونے کی بجائے اور مضبوط ہو گئی اور میرے ذہنی ہیجان کو بڑھا گئی۔ میں یہ سوچ کر دکھ میں تھی کہ آخر میں جو بھی کرتی ہوں چاہے اچھی نیت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو الٹ کیوں پڑ جاتا ہے؟ عین اسی وقت ایک اور یاداشت میرے سامنے آن کھڑی ہوئی اور مجھے احساس ندامت میں مبتلا کر گئی۔

ایک بار دفتر سے واپسی پہ میرا موڈ آفس کے تھکا دینے والے دن کی وجہ سے نامناسب حد تک ناخوشگوار تھا۔ پلوشہ نے ہمیشہ کی طرح پرجوش استقبال کیا۔ پانی پلایا اور میری پسندیدہ ڈش تیار ہونے کی خوشخبری بھی دی اور پھر دفتر سے اچانک ایک اور کام آ گیا تو مجھے فوراً لیپ ٹاپ کھولنا پڑا جس کی بیٹری بستر مرگ پہ تھی۔ چارجر لگانے لگی تو پلوشہ نے مجھے خوش کرنے کے لیے بھاگتے ہوئے چارجر لگانے کی ذمہ داری اپنے ذمہ لی اور چارجر لگاتے ہوئے اس سے مین سوئچ بند ہو گیا اور ساتھ ہی لیپ ٹاپ بھی بند ہو گیا۔ میرا غصہ مزید طول پکڑ گیا اور میں نے پلوشہ کو خوب سنائیں اور غالباً میرا دفتر کا سارا غصہ اسی پر نکلا۔ وہ میرے سامنے کچھ نہ بولی بس خاموشی سے کمرے میں جا کر روتی رہی۔ مجھے علم تھا کہ وہ رو رہی ہے مگر میرا غصہ مجھ پر حاوی تھا۔

آج اتنے عرصے بعد باس کو خوش کرنے کی کوشش میں ناکام ہو کر روتے ہوئے مجھے پلوشہ کے ساتھ کی ہوئی زیادتی یاد آ گئی اور میں باس والے غم کو بھول کر اس بات پر روتی رہی کہ میں نے پلوشہ کے ساتھ بہت برا کیا۔ اس کی نیت پر شک کیا جب کہ وہ مخلص ہو کر میرے لیے سب کچھ کر رہی تھی۔ میں اس روز گھر پہنچی اور فوراً سے بھاگ کر پلوشہ کو گلے لگا لیا۔ وہ پوچھنے لگی آج خیریت ہے۔ میں نے کہا پلوشہ میں تم سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ بولی، کس بات پر؟ میں نے سب بتایا اور کہا کہ اس روز میں نے تمہیں تکلیف پہنچائی تھی آج جب وہ تکلیف، میری اسی طرح کی کوشش کے دوران، کسی اور سے پہنچی ہے تو مجھے احساس ندامت میں مبتلا کر گئی۔ وہ بھی رو دیتی ہے اور میں بھی خاموشی سے روتی رہتی ہوں۔

سوچتی ہوں ہماری ماضی کی بے پروائی بارش کے قطروں کی صورت ہوا میں معلق رہتی ہے اور جب بہت عرصے بعد ہم اسی بے پروائی کا شکار ہوتے ہیں تو یہ احساس ندامت کی صورت ہماری آنکھوں سے برستی ہے اور دل اپنے ساتھ بیتی بے پروائی کو بھول کر، شرمندگی کے دکھ اور اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔

Facebook Comments HS