جمہوری اصلاحات کا نادر موقع

ہمارا اصل مسئلہ آئین شکنی کرنے والا وہ نظام ہے جس کے ذریعے کسی بھی وقت جمہوری عمل میں مداخلت کر کے کوئی بھی طالع آزما براہ راست ریاست پر قابض ہو سکتا ہے وہ ایک الگ بات ہے کہ فی زمانہ آج کی بدلی دنیا اور ملک کے بد ترین معاشی حالات کے باعث ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے ملک میں فسطائیت ذہن رکھنے والے فرد کے ذریعے ہائی برڈ نظام کا تجربہ کیا گیا جو بری طرح ناکام ثابت ہوا۔ ہمارا اصل مسئلہ کوئی فرد نہیں بلکہ وہ ذہن اور قوتیں ہیں جن کے باعث ملک پے در پے سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے مسلسل سہے دو چار ہوتا۔ رہتا ہے۔
سابق وزیراعظم کے پیرو کار پاکستان کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے ضیاء الحق کے دور میں ہوش سنبھالا اور اپنا تعلیمی دور گزارا۔ ضیاء کے شروع کیے گئے جمہوریت کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کی وجہ سے اس نسل کے ذہن غیر سیاسی اور فسطائیت پسند ہو گئے۔ یہ لوگ آئین و جمہوریت کی بالا دستی کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس ذہنی کجی کی شکار نسل کی توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے، غیر جمہوری طاقت ور عناصر نے پہلے نواز شریف کے بت میں جان ڈالی جب یہ بت اپنے شعور کا اظہار کرنے لگا تو اس بت کو توڑنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ اس تجربے کے بعد بھی بت گری کا عمل جاری رہا اور عمران کا بت بڑی محنت سے تراشنے کے بعد سنگتراش خود ہی اسے ڈھانے پر مجبور ہو گئے۔
سوال یہ ہے کہ آپ کو کیوں بت بنانے اور اسے گرانے کا یہ کھیل بار بار کھیلنا پڑتا ہے۔ کبھی آپ نے سوچا کے آپ کے یہ کھیل کھیلنے کا شوق ملک کی سیاست، سماج اور معیشت کو کتنا نقصان پہنچاتا ہے۔ آپ شفاف الیکشن کیوں نہیں ہونے دیتے، جمہوری عمل کو کیوں نہیں چلنے دیتے؟ کیوں خود کو سیاسی انجینئرنگ سے باز نہیں رکھ پاتے؟
ہمیں آج اگر کسی سیاسی اور آئینی بحران کا سامنا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ پچھتر سالہ پرانا مسئلہ ہے۔ اگر آج بھی جمہوری اور سیاسی قوتوں نے آئین کے مطابق اصلاحات نہ کیں تو یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
اس وقت پاکستانیوں کی اکثریت آمرانہ اور فسطائیت سوچ کے خلاف کھڑی ہے۔ یہ اصلاحات کرنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ موقع ہے کہ آئینی، جوڈیشل، الیکٹورل اور سوشل ریفارمز کر دی جائیں۔ آئین کو پاک صاف کر دیا جائے۔ آئین میں صراحت کے ساتھ اداروں کی حدود متعین کر دی جائیں اور
سیاسی پارٹیاں بھی خود کو جمہوری روایات اپنانے پر مجبور پائیں۔ یہ موقع ہے کہ مقامی سطح تک وسائل کی تقسیم ممکن بنائی جائے۔
یہ غالباً واحد موقع ہے کہ جب امکانی طور پر پی ٹی آئی کے نیم سیاسی ذہن رکھنے والے پیرو کار بھی ریفارمز پر تیار ہو جائیں گے۔ نئی حکومت کو پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں۔ ملک کے قوم پرست گروپوں خاص طور پر بلوچستان و فاٹا کے ناراض گروپ اور ایم کیو ایم کو بھی قومی سیاست کے دھارے میں واپس لانا چاہیے۔ اس وقت ایک قومی طرز کی حکومت تشکیل دے کر مطلوبہ اصلاحات اور بہترین قانون سازی کر لینی چاہیے تا کہ مستقبل میں کسی مہم جویانہ اور فسطائیت والے نام نہاد سیاسی تجربے کو روکنا ممکن ہو سکے
اس بہترین موقع کو ضائع نہ کیا جائے ورنہ ملک کو اس کی وہ بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی جس کی تلافی ممکن نہیں ہو گی۔

