وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد یا ہائبرڈ نظام کی ناکامی اعتراف!


 

یہ محض ایک اتفاق ہے یا اس کے پیچھے بھی کوئی سازش یا دانش چھپی ہے کہ پاکستان تاریخ میں واحد کامیاب ہونے والی تحریک عدم اعتماد واقع ہو ہی گئی۔

معاملہ کچھ اس طرح سے ہے کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت جناب عمران خان کی سربراہی میں قائم کرائی گئی۔ ریاست کے مقتدر اداروں کا خیال تھا کہ اب تک جو دو سیاسی جماعتیں یک بعد دیگر حکومتیں بناتی رہی ہیں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت پر بدعنوانی کے سنگین الزامات تھے۔ اداروں کا خیال تھا کہ ایک قدر نئی پارٹی جو بڑی مقبولیت کے ساتھ ابھر رہی ہے اور جس کی قیادت ایک ایسا راہنما کر رہا ہے جس نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کی تھی جو چیف کالج اور آکسفورڈ کا طالب علم رہا تھا اس کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے 1992ء کا واحد ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی بھی کامیابی سے بنا چکا تھا۔ یہ ایک پرکشش سی وی تھا۔

ملک کے مقتدر ادارے جانتے تھے کہ عمران خان کو سیاسی اور حکومتی تجربہ نہیں ہے مگر ان کا خیال تھا کہ ہماری مدد سے یہ ایک دو سال میں سب سیکھ جائیں گے لہذا ایک مخلوط نظام متعارف کرایا گیا۔ تاکہ عمران خان کی پرکشش شخصیت کو سیاسی شخصیت کے سانچے میں ڈھالا جائے۔

2018ء کے انتخابات اسی بنیاد پر عمارت کیے گے۔ عمران کی تشہیر بھی کی گئی اور ان کی ہردلعزیزی کو نوجوانوں اور ملک کی مڈل کلاس میں اجاگر کرایا گیا براس ایلیٹ نے اس کام کے لئے پنجاب کے اثر و رسوخ رکھنے والوں کو قائل کیا کہ عمران ایک نیا سیاسی ستارہ ہے سیاست کے کرمنل داؤ پیچ سے عاری ہے۔ جیسے ہم نئے کیڈٹس کی تربیت سے انہیں ریفارم کر لیتے ہیں عمران کو بھی ہم درست کر لیں گے۔

پھر دوسری بڑی دونوں جماعتوں کی قیادت پر سنگین بدعنوانیوں کے چارجز کی بہت تشہیر کی گئی اور اعلی عدلیہ سے کچھ کو نا اہل اور کچھ کو سزا بھی دلا دی گئی عمران کو اسی عدلیہ سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دلایا گیا۔ تاکہ عمران خان کی ساکھ کو نیک ایماندار اور قوم کا نجات دہندہ بنا کر حکومتی سیاست میں اتارا جائے۔ یہ لانچنگ کامیاب ہوئی اور جو کمی تھی اسے کامیاب بنایا گیا الیکٹیبلز کو جہازوں میں بھر کر ان کی پارٹی میں شامل کرایا گیا۔

یوں ایک پیج بیانیہ بنا۔ عمران خان جو مقتدر اداروں کی کاندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں لائے گے تھے ان کو امور حکومت کی الف بے بھی نہیں آتی تھی وہ کامیاب ہو جائیں! اس مقصد کے حصول کے لئے افواج پاکستان کے سربراہ نے ان کے لئے مشرق وسطی عرب ممالک سے معاشی مدد تک حاصل کرا کر دی۔ عمران جو دعوہ کرتے تھے کہ ملک کو ٹھیک کرنے کے لئے سو بندوں کی ضرورت ہے اور وہ ٹیم ان کے پاس ہے مگر ابتدا ہی سے عمران کی ٹیم پے در پے شکست کھاتی چلی گئی۔ ان کے سٹار اسد عمر وزیر خزانہ بنے جنہوں نے اینگرو جیسی کارپوریشن کا بیڑا غرق کیا انہوں نے ملک کے خزانے کا اور اس کی سمت کا بھی بیڑا غرق کر دیا۔

اب اقتصادی امور کی سمت درست کرنا تھی لہذا ایک پیج والے مدد کو بڑھے انہوں عمران حکومت کی لئے بات چیت کی اور حفیظ شیخ نافذ العمل ہوئے وہ اپنے ساتھ رضا باقر لائے اقتصادی بد حالی کا پروگرام سی پیک کی بندش اسٹیٹ بنک کی ”خودمختاری“ ٹیکسوں کی بھرمار مہنگائی کا انبار عوام بدحال پالیسی نے 22 کروڑ عوام کی جسم میں پنجے گاڑ دیے۔ سونے پہ سہاگہ عمران جو پہلے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممبر اور پھر کپتان ہوئے تو انہوں نے وزارت عظمی پر بھی اپنے دونوں رول اپنائے رکھے۔

گھمنڈی اور ضدی تو وہ تب بھی تھے اب تو ملک کے وزیراعظم بھی ہو گے بجائے گھمنڈ اور ضد کو وہ دانشمندی میں تبدیل کرتے انہوں اپنی اس روش کو مزید پروان چڑھایا ملک کو بھی ایک کرکٹ ٹیم بنا دیا کرکٹ کی اصطلاحات کو حکومتی امور کی بنیاد بنا دیا۔ ”وکٹ اڑا دوں گا۔ کپتان کا فیصلہ فائٹ کرو۔ آخری گیند تک لڑوں گا وغیرہ چلو کوئی بات نہیں۔ انہوں نے ممریکی (نقلیں اتارنے کا ہنر ) بھی شروع کردی کبھی بلاول کبھی مولانا کبھی ہاؤس آف شریف کی نکلیں۔

احتساب جس کی بنیاد پر انہوں نے اقتصادی ترقی کا خواب دکھایا یا دیکھا تھا انتہائی برے انداز میں ناکام ہوا جس کی وجہ بھی وہ خود ہی تھے انہوں نے عوامی تعمیر و ترقی کی بجائے عوام کو صرف زرداری نواز کی لوٹ مار کا پیغام سنایا وہ ان کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں ان کی جیل کے کمرے کا سائز کیا ہونا ہے پنکھا اے سی لگنا ہے کھانا کیسا ملنا ہے عمران عوام کو یہ سب بتاتے رہے اور ان کے فالورز عمران کے اس بیانیے کو لے کر پرجوش بھی ہوئے اور پرتشدد بھی

عوام کے بہبود کی کوئی بات انہوں نے نہیں کی اگر کی تو ایسی کہ جو ممکنات سے باہر تھی۔ پچاس ہزار گھر دو کروڑ نوکریاں۔ گرین پاسپورٹ کی عزت۔ خوشحال پاکستان جس میں یورپ اور امریکہ سے لوگ نوکریاں تلاش کرنے آئیں گے وغیرہ۔

اس بات میں شک نہیں کہ عمران ایک بڑے میدان میں اترے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اس بڑے میدان میں بڑے چھوٹے انداز مین اترے۔

ان کو سب اداروں کی مدد حاصل تھی ایک آدھ سال میں وہ باآسانی امور حکومت سیکھ سکتے تھے اور شاید اچھی حکومت بنا اور چلا بھی لیتے۔ مگر اس خوش فہمی کا کیا کرتے کہ ”وہ سب جانتے ہیں“ لہذا انہوں نے کچھ سیکھنے کی زحمت نہیں کہ بلکہ سب جانتے ہیں کی بنیاد پر ہر رائے کو پس پشت ڈالا اچھے سمجھدار لوگ ان کی اس خود پسندی اور تکبرانہ انداز کی وجہ سے ان سے دور ہوتے چلے گئے۔ ایک سپیس بنی جسے فواد، بابر اعوان۔ شہباز گل جیسے چالاک اور خوشامدیوں نے پر کیا۔

ان کا کام اپوزیشن کو گالی گلوچ کرنا تھا عمران ان بونوں کے حصار میں خود کو دراز تصور کرتے رہے ان کی گالی گلوچ پر خوش ہوتے رہے اور اس مہم کو بھرپور انداز میں جاری رکھنے کی ناصرف حوصلہ افزائی کرتے بلکہ خود بھی اس میں بھرپور حصہ ڈالتے رہے۔ اپوزیشن کا حصار عمران پر حاوی ہو گیا۔ نواز شریف کی لندن روانگی انہیں سے کروائی گئی بدترین آئی ایم ایف ڈیل بھی انہی سے کروائی گئی عوام کے لئے مہنگائی اور غربت انہیں کے دور میں بڑھی۔

نون لیگ کے دور میں ایک زینب ایک ماڈل ٹاؤن ہوا تو خان صاحب کے دور میں کئی اس سے بھی بڑھ کر واقعات ہوئے۔ کرپشن اگر زرداری اور شریف کا خاصہ تھی تو خان حکومت میں آٹا چینی ادویات پیٹرولیم یہاں تک کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کے ریٹس بھی آسمان کو چھونے لگے۔ ہم نے سنا اور اپنے صحافی بھائیوں کو بڑی شد و مد سے باقاعدہ حلفاً یہ پرچار کرتے سنا کہ ”جی خان تو ایماندار ہے اس کے اردگرد کرپٹ لوگ اسے بدنام کرتے ہیں“ تو آپ سب سے گزارش ہے کہ خان تو کہتے تھے ان کے پاس سو ایماندار لوگ ہیں جو یقینا تھے مگر وہ خان کا ساتھ چھوڑ گے کیونکہ خان نے انہیں اپنی ٹیم کا حصہ نہیں بنایا انہوں نے خان کو نہیں خان نے ان کو چھوڑ کر اپنے لئے اپنی مرضی کی ٹیم چنی۔ اب ان کی ناک کے نیچے پاکستان کی تاریخ کی بد ترین کرپشن ہوئی تو وہ کیسے ایماندار متصور کیے جائیں۔

” مین از نون بائے دی کمپنی ہی کیپس“

جب پانی ناک تک آ جائے یا غلام آقا پر حاوی ہونے کی کوشش کرے تو پانی کو ڈرین کر دیا جاتا ہے۔ غلام کے پاؤں کے نیچے سے قالین ہی نہیں زمین بھی کھینچ لی جاتی ہے۔ بس دریا بھی اتار دیا اور پاؤں کے نیچے سے زمین بھی کھنچ گئی۔

خان شاید دوبارہ کبھی قابل استعمال بھی ہو! تو اسے بھی تحفظ ملنا چاہیے آخر ہائی برڈ معرکے کا اہم مہرہ اور حصہ رہا ہے تو اسے بھی فیس سیفنگ ملنی چاہیے تو چلو امریکی سفیر کا کوئی مراسلہ نکالو اور اس کی بنیاد پر اپوزیشن کو غدار کہو آپ تو خوددار ہیں ہی بس چلاؤ اس مراسلے کو اور عدم اعتماد کی تحریک کے مقابل غداری اور حب الوطنی میں مقابلہ رکھو۔ اور اس بیانیے کو لے کر حکومت سے برخاست ہو جاؤ سو ایسا ہوا۔

خان احتساب کو حقیقی معنوں میں آزاد رکھتے تو جن لوگوں پر الزامات تھے ان کی شفاف جانچ پرتال ہوتی کیسز طاقتور بنتے سزائیں بھی ہوتیں قومی دولت بھی واپس آ سکتی تھی مگر خان کا احتساب جب چند تک مخصوص تک مامور ہوا تو احتساب کا بیانیہ ذاتیات کی جنگ میں تبدیل ہو گیا لہذا وہ اپنے منطقی انجام کی راہ سے بھٹک چکا تھا۔ کرپشن ہوئی خان کے دور میں بھی اس میں اضافہ ہی ہوا مگر احتساب یک طرفہ اور مخصوص شخصیات تک محدود رہا لہذا احتساب انتقام لگنے لگا جو عمران خان کی سب سے بڑی غلطی تھی اور اس غلطی کے ذمہ دار صرف وہ خود تھے۔

انہوں نے انتہائی کمزور ڈیلز پر قرضوں کی بھرمار کردی کوئی منصوبہ نہ بنا سکے بلکہ سی پیک کو ہی بند کر دیا چین کے ساتھ ایک عدم اعتماد کی کیفیت بن گئی جب معاہدوں کے برعکس آئی ایم ایف کو سی پیک معاہدات کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ امریکہ چونکہ افغانستان سے نکل چکا تھا لہذا امریکہ کو پاکستان کی ابھی کوئی ضرورت نا تھی اس لئے پاک امریکہ تعلقات سست روی کا شکار تھے اور رہیں گے۔ مگر آپ نے روس جانے کی ٹھان لی جب معلوم تھا کہ روس کسی بھی وقت یوکرائن پر حملہ آور ہو سکتا ہے مگر خان صاحب روس جانے کو آزاد خارجہ پالیسی بیان کرتے ہیں۔

امریکہ گئے تو ٹرمپ نے خان کو ورلڈ کپ دے دیا۔ روس گے تو پوٹن نے آپ کو آزاد خارجہ پالیسی کی ٹرافی دے دی۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ٹرمپ ورلڈ کپ لائے تو کشمیر کی آزاد ریاستی حیثیت ختم ہوئی۔ روس سے پوٹن کی ٹرافی نے آپ کو امن پسند خارجہ پالیسی سے دور کر کے ایک جارح پوٹن کے ساتھ ملا دیا جس نے ایک کمزور ملک پر حملہ کیا تھا۔ چھوڑیں اب اور کیا لکھنا ہے۔

آپ ایک سپورٹس مین تھے بہادری سے عدم اعتماد کا سامنا کرتے آپ جو عدل و انصاف کے علمبردار تھے خود ہی آئین شکنی کے مرتکب ہوئے بلکہ اپنے پورے نظام حکومت کو بھی آئین شکنی پر مجبور اور مامور کر دیا۔ پھر جب اعلی عدلیہ نے آئین کو بچانے کے لئے خود کارروائی کی تو آپ نے فیصلہ ماننے سے انکار بھی کیا اور اس کے راستے میں رکاوٹ بھی بنے۔ جناب عمران خان صاحب آپ کی بہت عزت مگر آئین شکن کو آئین شکن ہی کہتے ہیں۔ چاہے وہ ایک آئینی شک ہو عدلیہ کا فیصلہ ہو یا اس کی راہ میں رکاوٹ حائل کرنے کی کوشش سب آئین شکنی ہوتی ہے اور یہ سب اس وقت اور بھی سنگین ہوجاتا ہے جب ریاست کا سب سے بڑا عہدیدار اس جرم میں شامل ہو جائے اور اپنے حواریوں کو اس کی ترغیب بھی دے۔

آپ کو اپنی نمبر گیم پتہ تھی آپ کو مقابلہ کرنا چاہیے تھا یا گریس سے مستعفی ہونا چاہیے تھا تاکہ آپ کو عدم اعتماد سے نہ نکالا جاتا۔

اب کب تک کوئی آپ کی انگلی تھامے آپ کو چلانے کی سعی کرتا مدد کی بھی حدود ہیں وہ بس انہیں مقید دائروں تک کی جا سکتی ہے۔ ملک و آئین کی قربانی بچوں کو کھلنے کے لئے چاند مانگنے کی ضد پر ترجیح نہیں پا سکتی۔

آپ مقبول ہیں اپنے ورکرز کی سیاسی تعلیم کریں جو نظریات پر مبنی ہو نا کہ نفرت پر ۔ ہم مختلف نظریہ کے ساتھ پاکستانی ہیں۔ پاکستانیت ہی ہے جو ہم سب میں یکساں ہے۔ یہ یکسانیت ہی ہمارا اتحاد ہے سیاست میں گالی کو فروغ آپ نے دیا ہے اب آپ ہی کو اس گالی کو سیاسی مکالمے سے تبدیل کرنا ہو گا۔ کیونکہ جو کوئی غلط روایت ڈالتا ہے اسی کو اس کا تدارک بھی کرنا ہوتا ہے۔

معافی کا دروازہ کھلا ہے۔ تائب ہونا یا نہ ہونا ہر ایک کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔

Facebook Comments HS